قرآن
ﮑ
ﰾ
ﭛ ﭜ ﭝ ٣٧ ٣٧ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ٣٨ ٣٨ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٣٩ ٣٩ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ٤٠ ٤٠ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ
ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٤١ ٤١
وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقۡطَعُوٓاْ أَيۡدِيَهُمَا
اللہ نے اس آیت میں چوری کرنے والی عورت سے پہلے چوری کرنے والے مردکا ذکر کیا ہے جبکہ زنا کے بارے میں زناکار مرد سے پہلے زناکار عورت کا ذکر کیا ہے۔اس میں کیا حکمت ہے؟
توجواب میں کہا جاسکتا ہے کہ: چونکہ مال کی حرص ومحبت مردوں میں زیادہ غالب ہوتی ہے اورجنسی لذت حاصل کرنے کی خواہش کا غلبہ عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے ۔اسی مناسبت سے دونوں آیتوں کا آغاز الگ الگ انداز میں کیا ہے۔ (القرطبی: ۷؍۴۷۳)
سوال: اللہ تعالیٰ نے چوری کے بارے میں مَردوں کااور زناکے بارے میں عورتوں کا ذکر پہلے کیوں کیا ہے؟
فَمَن تَابَ مِنۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ ٣٩
چور کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے پچھلے عمل پر نادم ہو،آئندہ کے لئے اس عمل کو پوری طرح چھوڑدے اور جو کچھ چرایا ہے اسے اس کے حقدار ومالک کو لوٹا دے۔ (ابن جُزی:۱؍۲۳۶)
سوال: چور نے سچی توبہ کی ہے ،اس کی کیا علامتیں ہیں؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِ
رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کی بھلائی اور ہدایت کے بہت زیادہ خواہش مند تھے ۔اسی بناپر جب کوئی ایمان کا اظہار کرتا اور پھر کفر میں واپس چلاجاتاتواس پر آپ سخت غمگین ہوجاتے تھے لہذا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہدایت کی ہے کہ آپ اس قسم کے لوگوں پر افسوس اور غم نہ کریں کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو نہ گھر کے ہیں نہ گھاٹ کے،ان کی کہیں کوئی حیثیت اور عزت نہیں ہے ۔اگر وہ حاضر اور موجود ہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے اور اگر موجود نہ ہوں تو کوئی ان کی کمی محسوس نہیں کرتا ۔اور ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔(السعدی: ۲۳۱)
سوال: مرتد (اسلام سے پھر جانے والے شخص) پر ہم کیوں غمزدہ اور رنجیدہ نہیں ہوتے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِ
کفر میں سبقت (پیش قدمی) کا معنی ہے: جہاں کوئی معمولی مناسبت ہو او ر جب بھی موقع ملے کفر کی علامتوں (اور طریقوں) کا اظہار کرنا ۔چنانچہ باربار کفر کا اظہار کرنے کے عمل کو کسی چیز یا نشان کی طرف خوب تیز سے چلنے والے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ (ابن عاشور: ۶؍۱۹۸)
سوال: کفر میں سبقت اور تیزی سے بڑھنے کا کیا معنی ہے؟
يَقُولُونَ إِنۡ أُوتِيتُمۡ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمۡ تُؤۡتَوۡهُ فَٱحۡذَرُواْۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتۡنَتَهُۥ فَلَن تَمۡلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمۡۚ
یہ ارشاد اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص خواہش نفس کے مطابق فیصلہ کروانے کے مقصد سے اپنا مقدمہ شرعی عدالت میں لے جاتا ہے ؛ اب اگرفیصلہ اس کے حق میں ہو تو راضی ہوجائے، اور اگر اس کے خلاف ہو تو ناراض ہوجائے ۔تو اس کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ اس کا دل طہارت وپاکیزگی سے خالی ہے۔ اور اس کے برخلاف وہ شخص ہے جو شریعت کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرکے فیصلہ کرواتا ہے۔ اب شرعی فیصلہ اس کی خواہش کے موافق ہو یا مخالف ، وہ اس پر سرتسلیم خم کردیتاہے ۔تو یہ رویہ اس کے دل کی طہارت وپاکیزگی کی علامت ہے۔(السعدی: ۲۳۲)
سوال: کیا شریعت کی روشنی میں فیصلہ کروانے والا ہرشخص اپنے عمل میں درست ہوتاہے ؟شریعت کی عدالت میں (اس کے مطابق) فیصلہ کروانے والا کون سا شخص اجروثواب پاتا ہے؟
وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتۡنَتَهُۥ فَلَن تَمۡلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمۡۚ
یہ فرمان اس بات کی بھی دلیل ہے کہ دل کی پاکی ہر بھلائی کا سبب ہے اور سیدھی سچی بات اور درست ونیک کام کی طرف دعوت دینے والی سب سے بڑی چیز یہی دل کی پاکیزگی ہے ۔ (السعدی: ۲۳۲)
سوال: دل کی پاکی کی کیا اہمیت ہے؟
لَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٞ ٤١
(لَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ) ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ورسوائی ہے۔
یعنی:منافقین اور یہودکے لئے۔ چنانچہ منافقین کی رسوائی کا مطلب ان کے نفاق کو ظاہر کرکےان کا پردہ فاش کیا جانااور انہیں بے عزت وبدنام کردینا ہے۔
جبکہ یہود کی رسوائی: ان پر جزیہ(خراج وٹیکس)عائد کیا جانا یا قتل اور قید کیا جانا اور جلاوطن کیا جانا ہے؛ نیز محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو ایسی حالت ،حیثیت اور نعمتوں میں دیکھنا جو انہیں برالگتاہے (البغوی: ۱؍ ۶۷۷)
سوال: دنیا میں منافقین اور یہود کی ذلت ورسوائی کس طرح ہوتی ہے؟