قرآن
ﮐ
ﰾ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ١٧٦ ١٧٦
ﮑ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ١ ١ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ
ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ٢ ٢
يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ ١٧٦
(وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پوری طرح واقف ہے۔یعنی : وہ تمام کاموں کے انجام کو بخوبی جاننے والا اور ان کی ایک ایک مصلحت کا پورا علم رکھنے والا ہے ۔اُن امور میں بندوں کے لئے جو خیر اور بھلائی ہےان سے بھی باخبر ہے اور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ مرنے والے آدمی کا کون کتنا قریبی ہے اور ہر قرابت دار (میت کے ترکہ میں) کتنا مستحق ہے۔(ابن کثیر: ۱؍۵۵۶)
سوال: (ﭖﭗ) (و ہ شخص جس کا نہ باپ ہو نہ بیٹا) کی آیت کو اللہ کے فرمان: (وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ) کے ساتھ کیوں ختم کیا گیا؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ
’’سورۂ مائدہ ”حلال وحرام اور امر ونہی (حکم اور ممانعت) کے فروعی احکام ومسائل پر مشتمل قرآن کی سب سے جامع سورت ہے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۳۹۱)
سوال: ‘‘سورۂ مائدہ’’ کی امتیازی خصوصیت کیا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ
اللہ تعالیٰ نے ‘‘سورۂ نساء ’’کے آخر میں یہ خبر دی تھی کہ جب یہود نے وہ عہد وپیمان توڑ دئیے جو اللہ نے ان سے لے رکھے تھے تو بدلے میں ان پر حلال کردہ پاکیزہ چیزوں کو حرام کردیا گیا تھا ۔لہذا اس سورت کے آغاز کے لئے مناسب ہو اکہ مومنوں کو عہدوپیمان پورا کرنے کا حکم دیا جائے کیونکہ اہلِ ایمان کے لئے اللہ کی تنبیہ اور ڈرانا یہود کے مقابل زیادہ سخت اور ضروری ہے ۔(لہٰذا معاہدہ شکنی کے انجام سے ڈرا کر ایفائے عہد کے حکم سے آغاز کیا۔) اس لئے کہ اس عہد کو پورا کرنے کا دارومدار زیادہ تر دل پر ہے۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۸۴)
سوال: ‘‘سورۂ مائدہ’’کے ‘‘سورۂ نساء ’’سے ربط کی کیا صورت ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ ١
یعنی: حلال قرار دینے اور حرام ٹھہرانے وغیرہ کا۔لہذا جس حکم کی حکمت ومصلحت تمہاری سمجھ میں آجائے تو یہ ٹھیک ہے اور جو سمجھ میں نہ آئے اسے اللہ کے حوالے کردو۔اور یہ تڑپ اور خواہش رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس کی حکمت تمہارے دل میں ڈال دے۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۸۷)
سوال: اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے میں کیا ان کی حکمت جاننا ضروری ہے ؟اس کی وضاحت کیجیے.
وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ
اگر کسی قوم نے تمہیں مسجد حرام سے روکا ہے تواس بناپر ان لوگوں کی دشمنی تمہیں جوش اور اشتعال نہ دلادے کہ تم ان پرزیادتی کرنے لگو اور حد سے آگے بڑھ جاؤ ۔
یہ آیت فتح مکہ کے سال اس موقع پر نازل ہوئی جب مسلمانوں کو اہل مکہ پر غلبہ حاصل ہوا۔ تو انہوں نے چاہا کہ مکہ والوں کا پوری طرح صفایا کردیا جائے اس لئے کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال مسلمانوں کو مسجد حرام کی زیارت سے روک دیا تھاچنانچہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے قتل سے منع کردیا۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۲۳)
سوال: اس آیت میں عدل و انصاف کی اہمیت کا بیان ہے۔واضح کیجیے.
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ
ماوَردی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ سبحانہ نے نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین کی ہے اور اس کے ساتھ تقوی کو بھی جوڑدیا ۔ اس لئے کہ تقوی سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی وخوشنودی ملتی ہے اور اچھائی اور حسنِ سلوک سے لوگوں کی رضامندی ملتی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور بندوں کی رضاوخوشی دونوں کو اکٹھاحاصل کرلے تو یقینی طور پر اسے کامل درجہ کی سعادت حاصل ہوگی ،اس کا نصیب چمک اٹھے گا نیز اس کی خوشحالی اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔ (القرطبی: ۷؍۲۶۹)
سوال: بندے کی سعادت اور خوش نصیبی کیسے کامل ہوتی ہے؟
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢
(وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ) نیکی اور پرہیزگاری کی ہر بات میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔
یہ عام وصیت اور تاکیدی حکم ہے ۔بِر(نیکی)اورتقویٰ (پرہیزگاری)کے درمیان فرق یہ ہے کہ(ٱلۡبِرِّ ) کا لفظ فرائض ونوافل کے کرنے ،حرام چیزوں سے بچنے اور اللہ سے قریب کرنے والے ہر کام کوشامل ہے ۔جبکہ (ٱلتَّقۡوَىٰۖ)کے معنی میں واجب چیزوں کو ادا کرنا اور حرام چیزوں کو چھوڑنا ہی داخل ہے ۔ نوافل اور مستحبات ، تقویٰ کے معنی میں شامل نہیں ۔ لہٰذا (ٱلۡبِرِّ ) کا لفظ تقویٰ سے زیادہ عام اور وسیع ہے۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۲۳)
سوال: بِراور تقویٰ کے درمیان فرق بیان کیجیے.