قرآن
ﮐ
ﰾ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ١٧١ ١٧١ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ١٧٢ ١٧٢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ١٧٣ ١٧٣ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
١٧٤ ١٧٤ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ١٧٥ ١٧٥
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ
انہیں اہلِ کتاب کے نام سے مخاطب کیا گیا،جواس بات کی طرف اشارہ اورکنایہ ہے کہ حقیقت میں انہوں نے خود اپنی کتاب کی خلاف ورزی کی ہے ۔(ابن عاشور: ۶؍۵۰)
سوال: آیت کریمہ میں اہل کتاب کو ،اہلِ کتاب کی صفت سے کیوں مخاطب کیا گیا ہے؟
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لَا تَغۡلُواْ فِي دِينِكُمۡ وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ
دین میں غلو کا مطلب یہ ہے کہ: دین دار شخص دینداری کا ایسا رنگ ڈھنگ اختیار کرے جس سے دین وشریعت کی مقررکردہ حد پامال ہوجائے اور آدمی اس حد سے آگے بڑھ جائے ۔(غلو کی ایک شکل یہ ہے کہ ) یہود سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ تورات کی اتباع کریں اور اپنے رسول سے محبت کریں ۔لیکن وہ اس حکم سے تجاوز کرگئے اور تورات کی اتباع اور اپنے رسول کی محبت میں حد سے آگے بڑھ کر دوسرے رسولوں سے بغض ونفرت تک پہنچ گئے جیسے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ۔اسی طرح نصاریٰ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی اتباع کریں۔ لیکن وہ ان کی اتباع میں حد سے بہت آگے بڑھ کر ان کی الوہیت (الٰہ اور معبود ہونے)یا ان کے اللہ کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرنے لگے۔اور اس کے ساتھ ساتھ محمد ﷺ (کی نبوت ورسالت)کا کفر وانکار بھی کرڈالا۔ (ابن عاشور: ۶؍۵۱)
سوال: دین میں غلو کرنے کی کیا حقیقت ہے؟
وَلَا تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ
اللہ کا یہ کلام تین چیزوں پر مشتمل ہے ۔ان میں سے دوچیزیں ممنوع ہیں اور وہ دونوں ہیں:
1 اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔2۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں، اس کی صفتوں،اس کے کاموں ، اس کی شریعت اور اس کے رسولوں کے بارے میں علم کے بغیر بات کرنا۔
3۔آیت میں تیسری مطلوب چیز ہے کہ ان تمام چیزوں میں جوسچی اور حق بات ہے وہ کہی جائے ۔( السعدی: ۲۱۶)
سوال:یہ تھوڑے سے کلمات بہت سارے زبردست معانی کو سمیٹے ہوئے ہیں ۔وہ کیا ہیں؟
لَّن يَسۡتَنكِفَ ٱلۡمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبۡدٗا لِّلَّهِ وَلَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ٱلۡمُقَرَّبُونَۚ وَمَن يَسۡتَنكِفۡ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ إِلَيۡهِ جَمِيعٗا ١٧٢
نبی ﷺ سے مروی حدیث میں وارد ہے: ‘‘لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِىْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ’’ ۔جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو وہ شخص جنت میں نہیں جائیگا۔تب ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آدمی چاہتا ہے کہ اس کا لباس خوبصورت ہو اور اس کا جوتااچھا لگے ! (تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی ﷺ نے جواباً فرمایا: ‘‘إِنَّ اللهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ’’۔ (صحیح مسلم) اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسندکرتا ہے تکبر: حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔ (الألوسی: ۶؍۲۹۳)
(حق کو ٹھکرانا : اللہ کی بات نہ ماننا ہے، اور لوگوں کو کمتر جاننا: بندوں کی حق تلفی ہے۔مترجم)
سوال: کِبْرکی کیا تعریف ہے اور اس کا کیا انجام ہے؟اللہ آپ کو اپنے دین کی سمجھ دے.
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۖ
(وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِ) اور اپنے فضل سے ان کے اجروثواب میں زیادتی بھی کریگا۔
اس زیادتی اور اجر کو گنا درگنا کرنے کا مطلب ہے : ایسی نعمتو ں کا ملنا جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال پیدا ہوا۔ (البغوی: ۱؍ ۶۲۷)
سوال: جنت میں اجروجزاء کو کئی گنا بڑھانا اور زیادہ کرنا کیسے ہوگا؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُم بُرۡهَٰنٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ نُورٗا مُّبِينٗا ١٧٤
(رَّبِّكُمۡ) تمہارا رب ۔ ربوبیت: (یعنی اللہ کی پروردگاری کے عنوان کا بیان کرنا)ضمیرمخاطب (كُمۡ) کی طرف اضافت کے ساتھ ربوبیت کا بیان کرنا بندوں کے ساتھ لطف ومہربانی کے اظہار کی خاطر ہے اور یہ بتانے کے لئے ہے کہ یہ ان کی مکمل تربیت کے لئے ہے۔ (الألوسی: ۶؍۲۹۵)
سوال:(رَّبِّكُمۡ) کی تعبیر میں ایک اچھا فائدہ اورباریک نکتہ ہے ۔اسے بیان کیجیے۔ اللہ آپ کو خیر کی توفیق دے.
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ١٧٥
یعنی: جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے ،اس کی پناہ اور سہارا نہیں لیتے اور اس کی کتاب کو مشعل راہ نہیں بناتے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے بے دخل اور اپنے فضل وکرم سے محروم کردیتا ہے ۔اور انہیں خود ان کے نفس کے حوالے کردیتا ہے ،بے سہارا چھوڑ دیتا ہے ۔ لہذا وہ ہدایت کی راہ نہیں پاتے بلکہ کھلی گمراہی میں پڑے رہتے ہیں ۔یہ دراصل ایمان نہ لانے پر ان کی سزا ہے سو اس طرح ناکامی اور محرومی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ (السعدی: ۲۱۷)
سوال:جو اللہ پر ایمان نہیں لاتا اور اس کی حفاظت وپناہ نہیں لیتا ۔اس کی کیا سزا ہے؟