قرآن
ﮎ
ﰺ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ١٩٧ ١٩٧ ﭳ ﭴ ﭵ
ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ
ﮍ ﮎ ١٩٨ ١٩٨ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ١٩٩ ١٩٩
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
٢٠٠ ٢٠٠ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٢٠١ ٢٠١ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٢٠٢ ٢٠٢
ٱلۡحَجُّ أَشۡهُرٞ مَّعۡلُومَٰتٞۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ ٱلۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّۗ
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:مقبول حج یہ ہے کہ حاجی دنیا کی محبت سے پاک اور آخرت کی رغبت سے سرشارہوکرواپس لوٹے۔ (القرطبی:۳؍۳۲۴)
سوال:مومن کا حج کیسے مقبول ہوتا ہے؟
فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي ٱلۡحَجِّۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ يَعۡلَمۡهُ ٱللَّهُۗ
اس میں بیہودہ اور گندی باتوں کی بجائے اچھی بات کرنےاور گناہ اور جھگڑے کی بجائے اخلاق وبرتاؤ میں نیکی اور تقویٰ کو اپنانے پر ابھارا گیا ہے۔ (القرطبی : ۳؍۳۲۸)
سوال:قرآن کریم کس طرح اچھی بات کو اپنانے اور بری باتوں سے دور رہنے کا اہتمام کرتا ہےاس کی وضاحت کیجئے.
وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٩٧
اللہ تعالیٰ نے اس خطاب سے بطورِ خاص عقلمندوں کو مخاطب کیا ہے ۔اس لئے کہ یہی لوگ ہیں جو حق اور باطل کے درمیان تمیز کرتے ہیں اور یہی صحیح فکر والے ہیں جو ان اشیاء کی جانکاری رکھتے ہیں جو عقل سے معلوم ہوتی ہیں اور ذہن ودماغ کے ذریعہ سمجھی جاتی ہیں ۔ اور اس خطاب میں اللہ تعالیٰ نے جاہل لوگوں کو بالکل مخاطب نہیں کیا۔ (الطبری:۴؍۱۶۱)
سوال: اللہ تعالیٰ نے صرف عقل والوں کو ہی بطورِ خاص اپنے تقویٰ کا حکم کیوں دیا؟
وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيۡرَ ٱلزَّادِ ٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُونِ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٩٧
یہ آیت عرب کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جوسفرخرچ کے بغیرحج کے لئے آجاتے تھے ۔ان میں سے بعض کہتے:ہم اللہ پربھروسہ کرنے والے ہیں ۔اور بعض لوگ یہ کہتے کہ:ہم اللہ کے گھر کا حج کریں اور وہ ہمیں کھانا نہ کھلائے! یہ کس طرح ہوسکتا ہے! چنانچہ وہ لوگوں کا محتاج بن کر ان کے رحم وکرم پر وہاں پڑے رہتے ۔لہذا انہیں اس طریقہ سے منع کیا گیا اورزادِ سفر لینے کا حکم دیا گیا؟ (ابن عطیہ:۱؍۲۷۳)
سوال: جس نے اسباب وذرائع کو چھوڑدیا ، وہ توکل کرنے والا نہیں ہے ۔یہ بات آیت کی روشنی میں بیان کیجئے.
لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ
جب اللہ نے حج کے دوران لڑائی جھگڑے سے منع فرمایاتو اس سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ حج کے دوران تجارت اورکاروبار بھی ممنوع ہے کیونکہ تجارتی لین دین سے اکثر قیمت کی کمی اور زیادتی کے بارے میں اختلاف اور جھگڑا پیدا ہوجاتا ہے ۔لہٰذا اس (جھگڑے ) کی ممانعت کے فوراً بعد تجارت کا حکم(جائز ہونا) بیان کردیا۔ (الألوسی:۲؍۸۷(
سوال: اللہ تعالیٰ نے حج کے دوران جھگڑے کی ممانعت کے بعد تجارت کا جواز کیوں بیان فرمایا؟
فَإِذَا قَضَيۡتُم مَّنَٰسِكَكُمۡ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَذِكۡرِكُمۡ ءَابَآءَكُمۡ أَوۡ أَشَدَّ ذِكۡرٗاۗ فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا
اللہ سبحانہ نے ذکر کو دعا کے ساتھ ملا کر بیان کیا۔کیونکہ مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہی ذکر معتبرہوتا ہے جو دل کی لگن اور اندرونی توجہ کے ساتھ کیا جائے۔جیسا کہ اپنی حاجت وضرورت طلب کرتے وقت ایک دعا کرنے والے کا حال ہوتا ہے۔محض الفاظ وآواز اور بولنے و کہہ دینے پر اکتفا نہیں کرتا۔اوراللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پہلے ذکر کا تذکرہ کیاکیونکہ یہ قبولیت کی کنجی ہے ۔پھر اللہ جل شانہ نے بیان فرمایا کہ لوگ اس سے مانگنے میں الگ الگ طرح کے ہیں:ایک تو وہ لوگ ہیں جن پر دنیا کی محبت غالب ہے لہذا وہ بس اسی کا سوال کرتے ہیں ۔ اورایک وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا وآخرت دونوں کے حالات سنوارنے کی دعا کرتے ہیں۔( الألوسی:۲؍۹۰)
سوال: اللہ تعالیٰ نے ذکر کو دعا کے ساتھ ملا کر کیوں بیان کیا اور ذکر سے شروعات کیوں کی؟
أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ نَصِيبٞ مِّمَّا كَسَبُواْۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٢٠٢
علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:اللہ تعالیٰ اتنے ڈھیر سارے لوگوں کا حساب کیسے کرے گا؟ توانہوں نے جواب دیا:ویسے ہی جیسے وہ اتنے ڈھیر سارے لوگوں کو روزی دیتا ہے۔ (ابن جزی:۱؍۱۰۳(
سوال: لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ سب کا حساب کیسے لیگا؟