قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ١١٤ ١١٤ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ١١٥ ١١٥ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ١١٦ ١١٦ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ﮣ ﮤ ١١٧ ١١٧ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ
ﮬ ﮭ ﮮ ١١٨ ١١٨ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ
ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ
ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ١١٩ ١١٩ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ١٢٠ ١٢٠ ﯱ
ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ١٢١ ١٢١
لَّا خَيۡرَ فِي كَثِيرٖ مِّن نَّجۡوَىٰهُمۡ إِلَّا مَنۡ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوۡ مَعۡرُوفٍ أَوۡ إِصۡلَٰحِۢ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا ١١٤
امام اَوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:اللہ کے نزدیک لوگوں کےباہمی تعلقات اور آپسی معاملات کی اصلاح کے لئےاٹھائے جانے والے قدم سے زیادہ کوئی قدم پسندیدہ نہیں ہے۔اور جو شخص افراد کے درمیان صلح کرادے،اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم سے نجات لکھ دیتا ہے۔ (القرطبی: ۷؍۱۲۹)
سوال: دومخالف لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی اہمیت وفضیلت بتائیے.
أَوۡ إِصۡلَٰحِۢ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ
اختلاف ،جھگڑا،باہمی رنجش ودشمنی ، یہ چیزیں جتنی برائیوں،خرابیوں اور تفرقوں کو جنم دیتی ہیں ،ان کا شمار اور اندازہ نہیں کیا جاسکتا ۔اسی لئے شریعت بنانے والی ذاتِ باری نے لوگوں کی جان ،مال واسباب اور عزت وآبرو کے جھگڑوں میں ان کے درمیان اصلاح اور صلح کرانے پر ابھارا ہے ،بلکہ مختلف ادیان ومذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بھی اصلاح کی ترغیب دی ہے ۔ (السعدی: ۲۰۲)
سوال: لوگوں کے درمیان اصلاح اور صلح کرانے کی کیا اہمیت ہے؟
وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصۡلِهِۦ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا ١١٥
(وَيَتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ) اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑکر دوسری راہ پر چلے۔
اصولِ فقہ کے علماء نے آیت سے اس بات پر دلیل لی ہے کہ مسلمانوں کا اجماع صحیح ہوتا ہے اور اس اجماع کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے اس لئے کہ جو بھی اس کی مخالفت کریگا ، وہ مومنوں کی راہ چھوڑکر دوسری راہ پر چلے گا۔ (ابن جزی:۱؍ ۲۱۰)
سوال: جب تمام مومنین کسی مسئلہ میں اجماع کرلیں اور متفق ہوجائیں تو اس کی مخالفت جائز نہیں ۔اس بات کو آیت کی رو شنی میں واضح کیجئے.
لَّعَنَهُ ٱللَّهُۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا ١١٨
اگر کوئی یہ کہے کہ:شیطان کس طرح اللہ کے بندوں میں سے اپنا مقررکردہ حصہ لے لیتا ہے؟
تو جواب دیا جائیگا: شیطان لوگوں سے یہ حصہ کئی طرح سے لیتا ہے :مثلاً : وہ اللہ کے بندوں کو سیدھی راہ سے بہکاتا ہے ،انہیں اپنی اطاعت وفرمانبرداری پر اکساتا اور بلاتا ہے؛نیز گمراہی اور کفر کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بناکر پیش کرتا ہے یہاں تک کہ انہیں سچے سیدھے راستہ پر چلنے سے ہٹادیتا ہے۔ چنانچہ جس نے اس کی دعوت کو قبول کرلیا اور اس کی سجائی سنواری چیزوں کے پیچھے چل پڑا تو یہی چیز بندوں میں سے شیطان کا مقرر حصہ اور طے شدہ نصیب ہے۔ (الطبری: ۹؍۲۱۲)
سوال: بیان کیجئے کہ کس طرح شیطان اللہ کے بندوں میں سے اپنا مقررہ حصہ لیتا ہے؟
وَلَأُضِلَّنَّهُمۡ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمۡ
اس بابت ایک بات یہ کہی گئی ہے: میں انہیں خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے کی امیدیں دلاؤں گا ۔
یہ بھی کہا گیا کہ: میں انہیں اس خیال میں مبتلا کر دونگا کہ کوئی جنت ہے نہ جہنم اورنہ تو دوبارہ زندہ ہونا ہے۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ: میں انہیں اس آرزو میں ڈال دونگا کہ گناہوں میں ملوث رہ کر بھی آخرت کی کامیابی حاصل ہوجائیگی ۔ (البغوی: ۱؍ ۶۰)
سوال: وہ امیدیں اور تمنائیں کیا ہیں، جن میں شیطان آدمی کو مبتلا کردیتاہے۔بتائیے تاکہ ہم ان سے ہوشیار رہیں؟
وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ ٱللَّهِۚ
ایسا کرنے والے اللہ کی تخلیق سے ناراض ہوتے ہیں اس کی حکمت پر انہیں اعتراض ہوتا ہے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ جو کچھ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں وہ رحمان کی بنائی ہوئی شکل سے بہتر ہے اسی طرح وہ تقدیرِ الٰہی اور تدبیر سے خوش اور مطمئن نہیں ہوتے ہیں۔ (السعدی: ۲۰۴)
سوال: ربّانی تخلیق یعنی اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا شیطانی اعمال میں سے کیوں ہے؟
يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيهِمۡۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ١٢٠
اس کا معنی ہے :وہ دھوکے اور چالبازی سے حق وباطل کو خلط ملط کرکے باطل کو نہایت حسین وخوبصورت بناتا ہے۔ جبکہ وہ ایسی حقیقت میں ہے نہیں، یا ہے تو بری حقیقت والی ہے اور اسے سب سے اونچی اوراچھی نفس کے لئے سب سے زیادہ پرلطف ولذت والی اور طبیعت کی سب سے بڑی خواہش ،من کی چاہت بناکر پیش کرتا ہے۔ اس لئے کہ وہ “غر” اور “رغ” کا مادہ (جس سے لفظ غرور بنا ہے۔) شرف وبلندی ،حسن وخوبی اور زندگی کی خوشحالی وآسودگی کا معنی دیتا ہے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۳۲۱)
سوال: شیطان کے وعدے کو (غُرُورًا) کے نام سے بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟