قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ
ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ١٠٢ ١٠٢
ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ
ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ١٠٣ ١٠٣ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ١٠٤ ١٠٤ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ١٠٥ ١٠٥
وَلۡيَأۡخُذُواْ حِذۡرَهُمۡ وَأَسۡلِحَتَهُمۡۗ
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ہر حالت میں دشمن سے مقابلہ کی مضبوط تیاری رکھی جائے ،دشمن سے چَوکنا اور ہوشیار رہا جائے اور ان کے سامنے خودسپردگی کی راہ اختیار نہ کی جائے ۔کیونکہ دشمن کی طرف سے اسلامی لشکر پر کبھی بھی کوئی مصیبت آئی ہے تو وہ صرف احتیاط اور حفاظتی تدبیر وانتظام میں کوتاہی کی وجہ سے آئی ہے۔ (القرطبی: ۷؍۱۰۹)
سوال: مسلمانوں کو احتیاط برتنے اور ہوشیار رہنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
وَلۡتَأۡتِ طَآئِفَةٌ أُخۡرَىٰ لَمۡ يُصَلُّواْ فَلۡيُصَلُّواْ مَعَكَ وَلۡيَأۡخُذُواْ حِذۡرَهُمۡ
آیتِ کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ زیادہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھے اگرچہ اس طرح نماز پڑھنے سے تھوڑا بہت خلل اور اس میں کچھ کمی ہوجاتی ہو ۔جبکہ کئی اماموں کے پیچھےنماز پڑھنے میں وہ خلل پیدا نہ ہوتا ہو ،تب بھی خلل ہونے کے باوجود ایک امام کے ساتھ نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ مسلمانوں کا کلمہ ایک اور متحد رہے اور ان کے درمیان اختلاف وتفرقہ نہ رہے ۔تاکہ یہ چیز دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کا زیادہ رعب ودبدبہ اور ہیبت ڈالے۔ (السعدی: ۱۹۸)
سوال: آیت مسلمانوں کی اجتماعیت اور عدمِ اختلاف کی اہمیت بتاتی ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.
فَإِذَا سَجَدُواْ فَلۡيَكُونُواْ مِن وَرَآئِكُمۡ وَلۡتَأۡتِ طَآئِفَةٌ أُخۡرَىٰ لَمۡ يُصَلُّواْ فَلۡيُصَلُّواْ مَعَكَ وَلۡيَأۡخُذُواْ حِذۡرَهُمۡ وَأَسۡلِحَتَهُمۡۗ
یہ آیت دوطریقوں سے بتاتی ہے کہ نمازِ باجماعت فرضِ عین ہے ۔اول : اللہ تعالیٰ نے اس سخت حالت میں بھی نماز باجماعت کا حکم دیا ہے جس میں دشمن کا خوف اور اس کے حملے کاسخت ڈر ہوتا ہے ۔ لہذا جب اللہ تعالیٰ نے نمازِ باجماعت کو ایسی مشکل اور پرخطر حالت میں بھی فرض قرار دیا ہے تو امن واطمینان کی حالت میں تو وہ بدرجۂ اولیٰ فرض ہے۔
دوم: نمازِ خوف پڑھنے والے اپنی اس نماز میں نماز کی کئی ایک لازم اور ضروری چیزیں چھوڑدیتے ہیں؛ اور اس نماز میں عام نمازوں کو باطل قرار دینے والی بہت سی چیزوں کو معاف کردیا گیا ہے؛ یہ محض نمازِ باجماعت کے فرض ہونے کی تاکید کے لئے ہے۔ اس لئے کہ فرض اور مستحب میں کوئی ٹکراؤنہیں ہے لہذا اگر نماز باجماعت کی تاکیدی فرضیت اور اہمیت نہ ہوتی تو جماعت کی خاطر ان ضروری امور اور کاموں کو چھوڑا نہیں جاتا۔ ( السعدی: ۱۹۸)
سوال: مذکورہ آیتِ کریمہ سے نماز باجماعت کی فرضیت پر کیسے دلیل پکڑی جاتی ہے؟
وَخُذُواْ حِذۡرَكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا ١٠٢
چونکہ دشمن سے بچاؤ اور احتیاط برتنے کے حکم سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ اس طرح وہ غلبہ اور طاقت پاجائیں گے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی مدد کرنے اور دشمنانِ حق کو مدد سے محروم کرنے کا وعدہ کرکے اس وہم کو دور کردیا تاکہ جنہیں دشمن سے چوکنارہنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ جان لیں کہ احتیاط برتنا بذاتِ خود ایک عبادت ہے۔ (الألوسی: ۵؍۱۳۷)
سوال: مذکورہ آیت کو کافروں کے لئے وعید (دھمکی) کے ساتھ کیوں ختم کیا گیا؟
فَإِذَا قَضَيۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمۡۚ
یہاں اللہ تعالیٰ صلاۃِ خوف کے بعد کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دے رہا ہے ۔اگرچہ دوسری نمازوں کے بعد بھی اللہ کے ذکر کا حکم اور ترغیب موجود ہے لیکن یہاں صلاۃِ خوف کے بعد اس کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ صلاۃِ خوف میں اللہ کی جانب سے نماز کے ارکان میں تخفیف ہوگئی اور نماز میں جانے اور آنے کی خاص چھوٹ دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اورکئی سہولتیں دی گئیں جو صلاۃِ خوف کے علاوہ میں نہیں پائی جاتیں۔ (ابنِ کثیر: ۱؍ ۵۲۱)
سوال: صلاۃِ خوف کے بعد خصوصیت سے اللہ کا ذکر کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
وَلَا تَهِنُواْ فِي ٱبۡتِغَآءِ ٱلۡقَوۡمِۖ إِن تَكُونُواْ تَأۡلَمُونَ فَإِنَّهُمۡ يَأۡلَمُونَ كَمَا تَأۡلَمُونَۖ وَتَرۡجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرۡجُونَۗ
یہ مناسب نہیں کہ دکھ اور تکلیف تمہیں راہِ حق میں ڈٹ جانے سے روک دے ۔ اس لئے کہ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا جو خوف ہے تمہیں دکھ اور الم سے بچنے سے کہیں زیادہ اس خوف کا لحاظ رکھنا چاہئے؛ جبکہ اُن دشمنانِ حق کے پاس اللہ کا کوئی خوف نہیں ہے جو انہیں دکھ جھیلنے پر مجبور کرے بلکہ وہ تو اپنے باطل دین کی سربلندی کے لئے دکھ جھیلتے اور گلے لگاتے ہیں؛ تو پھر کمزوری اور بے ہمتی سے تمہارا کیا تعلق ! (الألوسی: ۵؍۱۳۸)
سوال: اللہ کا ڈر اور اس سے امید اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو احساسِ کمتری وکمزوری سے بچاتے ہیں ۔ اس کی وضاحت کیجئے.
وَلَا تَكُن لِّلۡخَآئِنِينَ خَصِيمٗا ١٠٥
علماء کا کہنا ہے کہ: جب مسلمانوں کے سامنے کسی گروہ کانفاق ظاہرہوجائے تو مسلمانوں کے ایک گروہ کادوسرے گروہ سے ان منافقین کی حمایت میں اور انہیں بچانے کے لئے بحث ومباحثہ کرنا اور لڑنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ نبی ﷺ کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا تھا تو انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: (وَلَا تَكُن لِّلۡخَآئِنِينَ خَصِيمٗا) اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔ (القرطبی: ۷؍۱۱۶)
سوال: اہلِ نفاق کی طرف سے دفاع کرنے کا کیا حکم ہے؟