قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے






ﭿ

٩٢ ٩٢


٩٣ ٩٣





٩٤ ٩٤
93
سورۃ النساء آیات 0 - 92

وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن يَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَٔاًۚ وَمَن قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَٔاً فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖ وَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُواْۚ

چونکہ بھول چوک پر اس امت کی پکڑ نہیں ہوگی ۔اس لئے یہ گمان ہوسکتا تھا کہ بھول چوک یا غلطی سے قتل کردینے والے شخص پر بھی کچھ نہیں ہوگا۔لہذا واضح طور سے بیان فرمایا کہ قتل کا معاملہ ایسا نہیں ہے ،مقصد لوگوں کی جانوں کی حفاظت ہے کیونکہ انسانی جان کا معاملہ بہت ہی نازک اور خطرناک ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے بڑی سختی کے ساتھ ایسے فعل اور ایسی حرکت پر خوب غور کرلینے اور اچھی طرح جانچ پڑتال اور جستجو کرلینے کا حکم دیا جس سے قتل ہوجاتا ہے (فَتَحۡرِيرُ) تواس پر آزاد کرنا واجب ہے (رَقَبَةٍ) یعنی ایک نفس یا جان کو۔جان یا آدمی کو (رَقَبَةٍ) یعنی “گردن” کے لفظ سے بیان کیا ہے اس لئے کہ آدمی گردن کے بغیر زندہ نہیں رہتا۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۹۷)
سوال: اللہ نے قتلِ خطا یعنی بھول چوک والے قتل میں کفارہ اور دیت کو کیوں واجب قرار دیا ہے جبکہ بھول چوک معاف ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 92

وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن يَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَٔاًۚ

اس آیت میں یہ آگاہی دی گئی ہے کہ مومن کو قتل کرنا بہت ہی سنگین جرم اورحرام کام ہے اور یہ ایمان کے انتہائی خلاف ہے ۔کسی مسلمان کا قتل یا تو کافر شخص سے سرزد ہوسکتا ہے یا ایسے فاسق وفاجر آدمی سے سرزد ہوگا جس کے ایمان میں بہت زیادہ کمی ہے ۔اورایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے آدمی سے ڈر اور اندیشہ ہے کہ وہ اس سے بھی بڑے جرم کا ارتکاب کریگا کیونکہ صحیح ایمان، مومن کو اپنے اُس بھائی کے قتل سے ر وک دیتا ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایمانی بھائی چارہ کا بندھن باندھ دیا ہے اور دینی رشتہ جوڑ دیا ہے ۔اس بھائی چارے اور رشتے کا تقاضہ ہے کہ وہ اس سے محبت اور دوستی رکھے اور اپنے بھائی کو پیش آنے والی تکلیف دور کرے ۔اور قتل سے زیادہ بڑی تکلیف والی بات کون سی ہوگی؟ (السعدی: ۱۹۲)
سوال: سچا مومن اپنے مومن بھائی کو کیوں قتل نہیں کرسکتا؟

سورۃ النساء آیات 0 - 94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا

اس آیت میں فقہ فی الدین کا ایک اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ دینی احکام کا دارومدار غالب گمان اور ظاہری چیزوں پر ہے ۔یقینی علم اور پوشیدہ چیزوں کو جاننے پر نہیں ہے ۔ (القرطبی: ۷؍ ۵۱)
سوال: آیتِ کریمہ سے کون سا عظیم الشان قاعدہ نکلتا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا

(فَتَبَيَّنُواْ) تو تحقیق کرلیا کرو یعنی غور وفکر اور اطمینان کے ساتھ بغیر کسی جلد بازی کے معاملات کی جانچ پڑتال کرلو، اور ان کو کرنے اور عمل میں لانے سے پہلے اچھی طرح سمجھ بوجھ کر حقیقت معلوم کرلو۔چنانچہ جب کوئی معاملہ پیش آجائے تو خوب اچھی طرح سوچ کر قدم بڑھاؤ۔یہ چیز معاملات کو ایک دوسرے سے الگ کرنے سے ہوسکتی ہے ۔ نیز ان میں شک وشبہ کے پہلوؤں کو پوری طرح دور کرنے سے حاصل ہوگی۔ لہٰذا جب تک بات واضح نہ ہوجائے کوئی اقدام نہ کرو ۔ (وَلَا تَقُولُواْ ) اور تم نہ کہو۔یعنی کوئی بھی بات نہ کہو چہ جائیکہ وہ کام کرو جو بات سے بڑھ کر ہو ۔(لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ) اس شخص سے جو کرے۔ (إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ) تم سے سلام: یعنی اس نے تم سے “اسلامی تحِیّہ” کے ذریعہ سلام کرنے میں پہل کی اور اپنی تابعداری پیش کردی (تو اس سے یہ نہ کہو) ( لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا) تو مومن نہیں ہے ۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۹۹)
سوال: بندے کے اخلاص اور حکمت کی ایک علامت ہے : غور وفکر اور تحقیق کرلینا اور جلد بازی نہ کرنا ۔ آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 94

وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا

(تَبۡتَغُونَ) یعنی تمہارا یہ حال ہے کہ تم آدمی کو قتل کرکے جلدی سے حاصل کرلینا چاہتے ہو (عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ) دنیاوی زندگی کے اسباب وسامان۔ یعنی: اس مقتول آدمی کے پاس جو کچھ فنا ہونے والی دنیا کاساز وسامان اور ختم ہوجانے والے اسباب واشیاء ہیں انہیں لینے کے لئے قتل کرنے میں عجلت سے کام لیتے ہویا پھر پہلے سے چل رہے اپنے کسی خون کا بدلہ لینے کے لئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے“صحیح بخاری” کی “كتاب التفسیر ” میں اور امام مسلم رحمہ اللہ نے “ صحیح مسلم ” کے آخر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے: کہ ایک چرواہا اپنی بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ تھا کہ کچھ مسلمان اس کے پاس پہنچے ،اس چرواہے نے کہا“السلام علیکم” مگرانہوں نے اسے قتل کردیا اور اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں مذکورہ آیت (عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا) تک نازل فرمائی۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۹۹)
سوال:مالِ غنیمت سے مجاہد کی نیت کا امتحان ہوتا ہے ۔آیت کے تناظر میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 94

كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ

یہ بہت بڑی تربیت ہے کہ انسان جب کسی دوسرے کی گرفت کرے اوراسے سزا دے تو خودپر یہ احساس طاری کرلے کہ کبھی خود بھی اسی حالت میں تھا جس حالت پر آج دوسرے کا مواخذہ کررہا ہے۔ جیسے معلم (استاد،ٹیچر) شاگرد سے کسی برائی اور غلطی پر باز پرس اور اس کی سرزنش کرے جبکہ شاگرد نے اپنی محنت وکوشش میں کوئی کوتاہی نہ کی ہو ۔اسی طرح یہ آیت ان لوگوں کے لئے بہت عظیم ہے جو طالبانِ علم کا امتحان لینے میں ان کے ساتھ سختی اور شدت برتنے اور ان کی لغزشوں (غلطیوں) کی تلاش میں رہنے کے عادی ہیں۔(ابن عاشور: ۵؍۱۶۸)
سوال: اللہ تعالیٰ کے فرمان: (كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ ) (تم بھی پہلے ایسی ہی حالت میں تھے ،پس اللہ نے تم پر احسان کیا لہذا تم تحقیق کرلیا کرو ۔) میں لوگوں کے لئے تربیت کا بڑا سبق موجودہے ۔ اسے بیان کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 94

كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ

یعنی :جس طرح اللہ نے تمہاری گمراہی کے بعد تمہیں ہدایت دی ہے ،اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت دیگا اور جس طرح تمہیں درجہ بدرجہ ہدایت ملی ہے ایسے ہی تمہارے علاوہ دوسرے بھی بتدریج راہِ ہدایت پالیں گے۔ لہذا وہ شخص جو (ایمان وہدایت میں )کامل ہوچکا ہے، اس کا اپنی پہلی ناقص حالت پر نظر رکھنا، اور اب جو شخص ویسی ہی ناقص حالت میں ہو تو اس سے اپنی جانی پہچانی پچھلی حالت کا لحاظ کرتے ہوئے معاملہ کرنا، اور اسے حکمت اوراچھی نصیحت کے ساتھ ہدایت کی طرف دعوت دینا؛ایسے بڑے بڑے اسباب وذرائع میں سے ہیں جن سے خود کا فائدہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ۔ (السعدی: ۱۹۵)
سوال:آیت میں گناہ گار مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے اور انہیں دعوت دینے کا عظیم قاعدہ مذکور ہے۔ اس کی وضاحت کیجئے.