قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٨٠ ٨٠



٨١ ٨١
ﭿ
٨٢ ٨٢



٨٣ ٨٣



٨٤ ٨٤


٨٥ ٨٥
ﯿ
٨٦ ٨٦
91
سورۃ النساء آیات 0 - 82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ

اللہ کی کتاب میں غور وفکر کرنے کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بندہ اس کے ذریعہ یقین کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔(السعدی: ۱۹۰)
سوال: قرآن کریم کے تدبراورغور وفکرسے کون سے فائدے کی امیدِ ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا ٨٢

یہ آیت اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : (ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ) (سورۂ محمد:۲۴) کیا وہ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں!
(دونوں آیتیں) اس بات پر دلیل ہیں کہ قرآن کا معنی ومفہوم سمجھنے کے لئے اس میں غوروفکر کرنا واجب ہے۔ (القرطبی: ۶؍۴۷۷)
سوال: قرآنِ کریم میں تدبراورغور وفکر کرنے کا کیا حکم ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 82

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا ٨٢

یعنی: قرآن اگر غیر اللہ کی جانب سے ہوتا تو اس میں تضادیعنی معنی اور مضمون کا ٹکراؤہوتا جیسا کہ انسانوں کے کلام میں ہوتا ہے ۔یا اس کی فصاحت یعنی زبان وبیان کے اعلیٰ معیارمیں فرق اور اختلاف ہوتا مگر قرآن ان دونوں عیبوں اور خامیوں سے پاک ہے ۔لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔ اب اگر کسی کے سامنے کوئی شبہ یا اعتراض آئے اور اسے ایسا لگے کہ قرآن کی کچھ باتوں میں اختلاف (وتضاد)ہے تو اس پر واجب ہے کہ اپنی نظر کو الزام دے اور اپنی سمجھ کو قصوروار ٹھہرائے اور اہلِ علم سے پوچھے ،ان کی کتابوں کا مطالعہ کرے یہاں تک کہ وہ یقینی طور سے جان لے کہ جسے وہ قرآن کا اختلاف سمجھ رہا تھا وہ حقیقت میں اختلاف ہے ہی نہیں ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۰۰)
سوال: جس شخص کو کوئی شبہ پیش آئے اور وہ اس وہم میں مبتلا ہوجائے کہ قرآن میں کچھ ٹکراؤ اور تعارض ہے ۔اس پر کیا واجب ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 85

مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ

اچھی سفارش یہ ہے کہ: کسی مسلمان کا غم اور پریشانی کو دور کرنے کے لئے یاظلم وزیادتی کی روک تھام کے لئے یا اسے کوئی خیر وبھلائی پہنچانے کے لئے سفارش کی جائے جبکہ بری سفارش اس کے خلاف ہوتی ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۲۰۱)
سوال: اچھی سفارش اور بری سفارش کی مثال دیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 85

مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقِيتٗا ٨٥

اچھی سفارش سے مراد لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا ہے ۔جبکہ بری یا برائی کی سفارش لوگوں کے بیچ چغل خوری اور لگائی بجھائی کرنا ہے ۔ (البغوی: ۱؍ ۵۶۸)
سوال: اچھی اور بری سفارش کیا ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٖ فَحَيُّواْ بِأَحۡسَنَ مِنۡهَآ أَوۡ رُدُّوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيبًا ٨٦

اس آیت کو جہاد کی آیت کے فوری بعد لانے میں کتنی بڑی خوبصورتی ہے! یعنی اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص سلام کا نذرانہ پیش کرے اس پر حملہ اور وار کرنے سے رک جانا واجب ہے چاہےیہ جنگ کے دوران ہی کیوں نہ ہو ۔چنانچہ ان مذکورہ دوآیتوں سے حاصل ہونے والا ایک تقاضہ (اور نتیجہ )یہ ہے کہ اس سورت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ لوگوں کو بھلائی اور حسن سلوک پر ،باہمی ہمدردی ومہربانی اور ایک دوسرے سے میل ملاپ کرنے پر ابھارناہے اور ان میں عظمت واہمیت والی چیز ہے نرم بات کرنا اس لئے کہ قول (بات) سےدل کی ترجمانی ہوتی ہے اور دل ہی وہ مقام اور جگہ ہے جہاں شفقت ومہربانی ہوتی ہے اور ہمدردی ومہربانی کی سب سے عمدہ شکل سفارش کرنا اور سلام کرنا ہے۔ )البقاعی: ۲؍ ۲۹۲)
سوال: جہاد کی آیتوں کے فوری بعد سفارش اور سلام کی بات کیوں لائی گئی؟

سورۃ النساء آیات 0 - 86

وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٖ فَحَيُّواْ بِأَحۡسَنَ مِنۡهَآ أَوۡ رُدُّوهَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ حَسِيبًا ٨٦

اس آیت میں عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال کا ایک نمونہ دیا گیا ہے۔پس مطلب یہ ہے کہ: جب اللہ نے تم پر عطیات وانعامات کا احسان کیا ہے تو تم اس کی عطاکردہ چیزوں میں سے بہترین چیز کو خرچ کرو یا اس چیز کا صدقہ کرو جو اس نے تم کو دیا ہے اور مستحقین کے ہاتھوں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹاؤ اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر توفیق دینے والا ہے۔ (الألوسی: ۵؍ ۱۰۴)
سوال: سلام کو زیادہ اچھے اور بہتر طریقے سے لوٹانے کے حکم سے کیا مطلب نکلتا ہے؟