قرآن
ﮎ
ﰹ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٥٨ ٥٨ ﭧ ﭨ
ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ٥٩ ٥٩ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ٦٠ ٦٠
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ
ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٦١ ٦١
وَإِذۡ قُلۡنَا ٱدۡخُلُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ فَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدٗا وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدٗا وَقُولُواْ حِطَّةٞ
حاصل مقصد یہ ہے کہ:انہیں حکم دیا گیا تھا کہ فتح کے موقع پر قولاًو عملاً (دونوں کے ذریعہ) اللہ کی جناب میں عاجزیوانکساری اختیار کریں ،اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور ان کی معافی مانگیں ،ساتھ ہی اس موقع پرنعمت کا شکر بجالائیں۔یہی وجہ ہے کہ فتح ونصرت کے موقع پر نبی کریمﷺ کے اوپر حددرجہ عاجزی وانکساری کے آثار نمایاں رہتے تھے ۔جیسا کہ روایت کیا گیا ہے کہ فتحِ مکہ کے دن جب آپ ‘‘ثَنِیَّۃُ الْعُلْیَاء’’بالائی گھاٹی کی جانب سے مکہ میں داخل ہورہے تھے تو آپ اپنے رب کے لئے عاجزی وانکساری اختیار کرتے ہوئے اس قدر جھکے جارہے تھے کہ آپ کی داڑھی سواری کے پالان کو چھو رہی تھی۔اس طرح آپ فتح مندی کی نعمت پر اللہ کے سامنے شکرکے پیکر بن گئے۔پھر جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو غسل فرمایااور آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی۔(ابن کثیر:۱؍۹۴)
سوال:فتح ونصرت اور کامیابی وغلبہ کے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟
قَالَ أَتَسۡتَبۡدِلُونَ ٱلَّذِي هُوَ أَدۡنَىٰ بِٱلَّذِي هُوَ خَيۡرٌۚ ٱهۡبِطُواْ مِصۡرٗا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلۡتُمۡۗ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلۡمَسۡكَنَةُ وَبَآءُو بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِۗ
اس آیت میں امت محمدیہ کے لئے دھمکی ہے کہ ان میں سے دنیا میں مگن رہنے والے لوگوں پر بنی اسرائیل کے طور طریقے اور رنگ ڈھنگ غالب ہوں گے۔اس طور سے کہ یہ لوگ (انہی کی طرح)اعلیٰ یعنی پاکیزہ وحلال چیزوں کو چھوڑکر ان کے بدلے ادنیٰ اور گھٹیایعنی حرام اور مشکوک چیزوں کو اختیارکریں گے۔(یعنی اگر یہ بھی اعلیٰ کو ادنی سے بدل لیں گے تو ان کے سامنے بھی بنی اسرائیل کی طرح نتائج رونما ہوں گے۔) (البقاعی:۱؍۱۴۹)
سوال:یہود کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اور پیش آئیگا،اس میں امت کے لئے کیاسبق ہے؟
وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلۡمَسۡكَنَةُ
چونکہ ان سے جو حرکتیں سرزد ہوئی تھیں،ان میں اس بات کی واضح دلیل تھی کہ ان کے اندر صبر بہت کم ہے اور وہ اللہ کے احکامات اور نعمتوں کو کم تر سمجھتے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بدلہ دیا وہ ان کے اعمال کی جنس سے ہی تھا ،چنانچہ فرمایا:(وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ) ان پر ذلت مسلط کردی گئی،جس کا ظاہری طور پر ان کے تن بدن پر مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔(وَٱلۡمَسۡكَنَةُ)یعنی محتاجی ومسکینی جو ان کے دلوں میں گھر کرگئی۔(السعدی:۵۳)
سوال:بنی اسرائیل کے گناہوں سے مناسبت رکھنے والی سزا ذلت ومسکنت (فقیری ولاچاری)کیوں تھی؟
وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلذِّلَّةُ وَٱلۡمَسۡكَنَةُ
یہود سے ذلت اورفقیری کے چمٹے رہنے کا مطلب ہے کہ وہ بہادری اور شجاعت کھوبیٹھےاور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی فراوانی کے باوجود ان پر فقر ومحتاجگی کی علامت ظاہر ہوگئی۔کیونکہ جب وہ ان نعمتوں سے بددل اور بیزار ہوگئے توان کے پاس ان نعمتوں کا ہونا اور نا ہونا برابر ہوگیا۔اسی لئے حرص ولالچ ان کی نسلوں میں باقی رہنے والی طبیعت وخصلت بن گئی۔(ابن عاشور:۱؍۵۲۸)
سوال:حرص ولالچ یہودیوں کی صفت ہے ۔آیت کریمہ اس بات پر کیسے دلالت کرتی ہے؟
وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۧنَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ ٦١
(ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ)یہ (سزا)ان کی نافرمانی کا بدلہ تھا۔کہ انہوں نے اللہ کی معصیت ونافرمانی کا ارتکاب کیا ۔( وَّكَانُواْ يَعۡتَدُون)اوراللہ کے بندوں پر ظلم وزیادتی کرتے تھے۔
دراصل گناہوں کا معاملہ ایسا ہے کہ ایک گناہ ،دوسرے گناہ کا راستہ ہموار کرتاہے ۔(یعنی ایک گناہ ،مزید گناہوں کا ذریعہ بنتا ہے)چنانچہ غفلت سے گناہِ صغیرہ وجود میں آتے ہیں ،پھر صغیرہ سے کبیرہ گناہ جنم لیتے ہیں ،پھر ان سے کفر و بدعت وغیرہ کی مختلف شکلیں وجود میں آتی ہیں ۔پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہرقسم کی بلاء سے عافیت دے۔(السعدی:۵۳)
سوال: ‘‘غافل شخص جب صغیرہ گناہوں کے پیچھےچل پڑتا ہے تو یہ اسے کبائر میں ملوث کردیتے ہیں اور پھرکفر کے گڑھے میں ڈال دیتے ہیں’’ ۔ آیت کریمہ کی روشنی میں اسے واضح کیجئے.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۧنَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ ٦١
مسلسل گناہوں کا ارتکاب گناہوں کی گہرائیوں میں ڈبو دیتا ہے اور صغیرہ گناہوں سے کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے ۔(ابن عاشور:۱؍۵۳۰)
سوال:بنواسرائیل ،صغیرہ گناہوں سے آگے بڑھتے ہوئے کفر اور انبیاء کرام کے قتل تک جاپہنچے۔اس سے کیا سبق ملتا ہے؟
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۧنَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَ ٦١
مطلب یہ ہے کہ:جس چیز نے انہیں اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے اور نبیوں کو قتل کرنے پر اکسایا وہ ان کی پچھلی نافرمانیاں ،زیادتیاں اور حدود کی پامالیاں تھیں کیونکہ ایک گناہ دوسرے گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔(الألوسی:۱؍۲۷۷)
سوال:یہود کو اللہ کی آیات کے انکار کرنے اور انبیاء کو قتل کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟