قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ٦٦ ٦٦ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٦٧ ٦٧ ﭵ ﭶ ﭷ
٦٨ ٦٨ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
ﮉ ﮊ ﮋ ٦٩ ٦٩ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ
ﮓ ﮔ ٧٠ ٧٠ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٧١ ٧١ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ٧٢ ٧٢ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ٧٣ ٧٣ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ٧٤ ٧٤
وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ
اللہ تعالیٰ بتارہا ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں پر ایسے احکام فرض دیتے جو نفس پر دشوار اور پر مشقت ہوتے جیسے( توبہ کے لئے) اپنے آپ کو قتل کرلینا اور گھروں سے نکل جاناو غیرہ تو اس پر بہت کم اور شاذ ونادر لوگ ہی عمل کرتے ۔لہذا لوگوں کو اللہ کی حمد وتعریف بیان کرنی چاہئے اور اس کا شکر بجالانا چاہئے کہ اس نے ان پر عائد کردہ احکامات میں سہولت وآسانی رکھی۔جن پر عمل کرنا ہر کسی کے لئے آسان ہے اور انہیں انجام دینے میں کوئی مشقت نہیں ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ شریعت کے جن امور اور کاموں کو بھاری سمجھ رہا ہو ، ان کے متعلق دل میں کراہت کا احساس ہوتا ہو تو اسے چاہئے کہ ان کاموں کی ضد یعنی مخالف چیز کو دیکھے اور غور کرے تو اس پر عبادات ہلکی اور آسان ہوجائیں گی۔ (السعدی: ۱۸۵)
سوال: آیت کریمہ سے شریعت کے آسان اور نرم ہونے کا مطلب کیسے نکلتا ہے؟
وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ
اللہ سبحانہ نے خبر دی کہ اس نے ہم پر یہ مشکل احکام فرض نہیں کئے۔ اس سے اللہ کا منشاء ہمارے ساتھ نرمی برتنا ہے تاکہ ہماری نافرمانی ظاہر نہ ہو ۔ (احکام مشکل ہوتے تو نافرمانی ظاہر ہوجاتی) پھر کتنے احکام ہیں جن کے آسان ہونے کے باوجود ہم ان کے بارے میں کوتاہی کرتے ہیں ۔اب اگر ایسے مشکل احکام دے دئے جاتے تو معاملہ کیا ہوتا؟ لیکن جان لیجئے! اللہ کی قسم! مہاجرین نے اپنے گھروں کو خالی چھوڑ دیا اور اپنے گھروں سے نکل گئے تاکہ اس کے بدلے میں وہ من پسند اور پرلطف زندگی حاصل کرسکیں۔ ( القرطبی: ۶؍۴۴۶)
سوال: بیان کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحمت ومہربانی فرمائی کہ انہیں ایسے احکام کا مکلف وپابند نہیں بنایا جن میں تنگی اور مشقت ہے؟
وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا ٦٦
بندہ جب اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس علم کا بھی وارث بنادیتا ہے جو وہ نہیں جانتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا) یعنی: اور جس بات کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے اگر یہ اسی پر عمل کرتے تو یہی ان کے لئے بہتر تھا اور وہ (حق پر ) پوری طرح جمے بھی رہتے۔ (ابن تیمیہ: ۲؍ ۲۹۳)
سوال: علم پر عمل کرنا علم میں اضافہ کا ذریعہ ہے ۔اس بات پر آیت سے دلیل قائم کیجئے.
ذَٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا ٧٠
یعنی: یہ عظیم فضل وکرم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے کسی اور کی طرف سے نہیں ۔
یا یہ معنی ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے فضل واحسان ہے ،بندوں کے اعمال اسے واجب نہیں کرتے۔ (بندے محض اپنے عمل سے اس کے حقدار نہیں بنتے)
(وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا) اور اللہ کافی ہے جاننے والا: فرمانبردار لوگوں کے اجر وثواب کو ،فضل وکرم کی مقدار کو اور فضل وکرم کے مستحق کو! (الألوسی: ۵؍۷۹)
سوال: اس آیت میں اللہ کی صفتِ “علم” (کے ذکر) کا کیا اثرہے اور اس کاکیامطلب ہے؟
ذَٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا ٧٠
اس آیت میں یہ بیان ہے کہ انہیں یہ بلند مقام اور اونچا درجہ اپنی نیکیوں کے ذریعہ حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ انہیں اللہ عزوجل کے فضل واحسان کی بدولت ملا ہے۔ (البغوی: ۱؍ ۵۶۰)
سوال: کیا اہلِ ایمان اس بلند درجہ تک اپنی کوشش وعمل سے پہنچے ہیں؟
وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِيدٗا ٧٢
(لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ) جو پس وپیش کرتے ہیں۔ یعنی: انہیں جہاد میں شامل ہونا گراں گزرتا ہے۔ ان کا ایسا رویہ ان کے ایمان میں کمزوری یا دل میں نفاق ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اور پھر تمہارے ساتھ شفقت وہمدردی کااظہار کرتے ہوئے دوسروں کو بھی پرزور انداز میں اس کا حکم دیتا ہے یہ ہمدردی نہیں بلکہ پکا دھوکا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مسلمانوں میں کمزوری پیدا ہوگی،نتیجہ میں دشمن کی جرأت بڑھ جائیگی اوریہ چیز مسلمانوں کی حیثیت اور طاقت کو ختم کردیگی ۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۷۸)
سوال: جہاد اور خیر کو گراں سمجھنے کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟
وَإِنَّ مِنكُمۡ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَالَ قَدۡ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيَّ إِذۡ لَمۡ أَكُن مَّعَهُمۡ شَهِيدٗا ٧٢
اس کا معنی ہے : وہ دوسروں کو پست ہمت کرتے ہیں،اسے جہاد سے روکتے ہیں اور جنگ سے پیچھے رہنے پر ابھارتے ہیں ۔اس کے معنی میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ: وہ خودپست ہمت ہوجاتے ہیں اورجنگ سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اسے بوجھ سمجھتے ہیں۔
(فَإِنۡ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ) پس اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے ۔ یعنی قتل او رشکست ۔معنی یہ ہے کہ: مسلمان جب شکست سے دوچار ہوتے ہیں تو منافق ان کے ساتھ اپنی غیرموجودگی پر خوش ہوتا ہے۔ (ابن جزی: ۱؍ ۱۹۸)
سوال: آیت میں منافقین کی دوصفات بیان کی گئی ہیں۔وہ کیا ہیں؟