قرآن
ﮐ
ﰽ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ
ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ٣٤ ٣٤ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ٣٥ ٣٥ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ
ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ٣٦ ٣٦ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٣٧ ٣٧
ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ
مردوں کو عورتوں پر کئی طرح سے فضیلت حاصل ہے:
1) اہم دینی مناصب اور عہدے مردوں کے ساتھ خاص ہیں ۔نبوت ورسالت کی عظیم ذمہ داری بھی مردوں کے لئے مخصوص رہی ۔اسی طرح بہت سی عبادتیں جیسے جہاد ،عیدوں اور جمعہ کے قیام میں بھی مردوں کو خصوصیات حاصل ہیں۔
2) ۔اللہ نے مردوں کو جس طرح کی سوجھ بوجھ ،سنجیدگی ، وقار ،صبر ،قوتِ برداشت ،جسمانی قوت اور مضبوطی کا خاص عطیہ دیا ہے ،اس طرح عورتوں کو عطا نہیں فرمایا ۔
3) اسی طرح اللہ نے مردوں کو عورتوں پر خرچ کرنے (نان نفقہ)کا ذمہ داربناکر انہیں خصوصیت دی ہے بلکہ اس کے علاو ہ دیگر اخراجات کی ذمہ داری بھی مرد کے ساتھ خاص ہے ۔ان تمام وجوہات کی وجہ سے مرد،عورتوں سے ممتاز ہوجاتے ہیں۔ (السعدی: ۱۷۷)
سوال: ایسے تین اسباب بیان کیجئے جن کی بناپر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت بخشی ہے؟
فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ
یعنی:ایسی عورتیں جو دینی اعتبار سے نیک اور اپنے شوہروں کی اطاعت گذار وفرمانبردار ہیں یا شوہروں کے حق میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہیں ۔ (حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ)شوہروں کی غیر موجودگی میں حفاظت کرنے والیاں، یعنی اس چیز کی حفاظت اور دیکھ بھال کرتی ہیں جو اُن کے شوہروں کے علم میں نہیں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس میں اپنی عزت و آبرو، شوہر کے مال واسباب ، گھر بار اور اس کے راز کی حفاظت ونگہبانی بھی شامل ہے ۔ (بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ) یعنی: اللہ کی حفاظت اور نگہداشت (توجہ ) کے ساتھ (وہ عورتیں شوہر کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ۔) یا اس کا یہ مطلب ہے کہ عورتیں شوہر کے حقوق کی حفاظت اس وجہ سے کرتی ہیں کہ اللہ نے عورتوں کو حکم دیا ہے کہ شوہر کی اطاعت کریں اور اس کےحق کی حفاظت کریں ۔(ابن جزی: ۱؍ ۱۸۸)
سوال: نیک عورتوں کی کیا صفات ہیں؟
حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ
شوہروں کی غیر موجودگی میں عورتوں کا حفاظت کرنا!! دراصل اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی حفاظت کرنے اور ان کو توفیق دینے کی وجہ سے ہوتا ہے ورنہ یہ خود اُن کے اپنے بس کی بات نہیں ۔اس لئے کہ نفس تو برائی پر ابھارتا رہتا ہے لیکن جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کے ہرالجھے معاملے میں اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ (السعدی:۱۷۷)
سوال: عورتوں کی جانب سے (شوہروں کے حق کی) حفاظت کرنے کے ساتھ“ اللہ کی حفاظت” کی قید لگانے کی کیا وجہ ہے؟
فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ
وہ عورتیں اپنے شوہروں کی غیر موجودگی میں اپنی اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتی ہیں ۔اسی طرح جان ومال میں جن چیزوں کی حفاظت ضروری ہے ان کی بھی حفاظت کرتی ہیں ۔نیز وہ اپنے شوہروں کے راز بھی محفوظ رکھنے والی ہیں ۔یعنی وہ چیزیں اور باتیں جو خلوت اور تنہائی میں ان کے اور شوہروں کے درمیان ہوتی ہیں۔ (الألوسی: ۵؍۲۴)
سوال: نیک عورتوں کی صفت کہ ‘‘ وہ غیب یعنی شوہروں کی غیرموجودگی میں حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں ” کا کیا مطلب ہے؟
فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤
جب تمہاری بیویاں توبہ کرلیں اور اپنی غلطی سے رجوع کرلیں تو تم ان کی غلطیوں کو درگزر کردو اور انہیں معاف کردو،یا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لینے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور وہ کسی کے ظلم وستم پر راضی نہیں ہوتا ۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے بلند وبالا ہونے اور اپنی بڑائی وکبریائی کے باوجود تم کو ایسے کاموں کا پابند نہیں بنایا جن کی تم طاقت نہیں رکھتے لہذا تم بھی اسی طرح ان عورتوں کو اتنا ہی پابند بناؤ جتنی ان کی طاقت واستطاعت ہے ۔ (الألوسی: ۵؍ ۲۶)
سوال: آیت کا خاتمہ اس فرمان : (اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا) (یقیناًاللہ تعالیٰ بلند وبالا ،بڑائی والا ہے) ۔ سے کرنے میں کیامقصد ہے؟
إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا ٣٤
اس میں مردوں کے لئے دھمکی ہے جب وہ بلاوجہ عورتوں پر ظلم وزیادتی کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ ‘‘العلی” بلند ،شرف وتسلط والا اور ‘‘الکبیر” بڑائی اور کبریائی والا ہے لہذا جو کوئی ان عورتوں پر ظلم کریگا اور ان پر ستم ڈھائیگا تو اللہ تعالیٰ اس سے ضرور انتقام لیگا۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۴۶۷)
سوال: آیت کو اللہ کے صفاتی نام ‘‘العلی الکبیر ”کے ساتھ ختم کرنے کی کیا وجہ ہے؟
وَٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُشۡرِكُواْ بِهِۦ شَيۡـٔٗاۖ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنٗا
علماء کا قول ہے: خالق اور منّان (پیدا کرنے اور بے پناہ احسان کرنے والے)کے بعد شکر وحسنِ سلو ک، نیکی وفرمانبرداری اور ادب واحترام کے سب سے زیادہ حقدار وہ ہیں جن کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت واطاعت کے حکم کے ساتھ ملا دیا ۔جن کے شکر وقدردانی کو اپنے شکر کے ساتھ ذکر فرمایا؛اوروہ والدین ہیں۔ (القرطبی: ۶؍ ۳۰۲)
سوال: اللہ تعالیٰ کے بعد لوگوں میں شکر وسپاس کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟