قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


٢٧ ٢٧

٢٨ ٢٨



ﭿ ٢٩ ٢٩


٣٠ ٣٠

٣١ ٣١




٣٢ ٣٢


٣٣ ٣٣
83
سورۃ النساء آیات 0 - 27

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُواْ مَيۡلًا عَظِيمٗا ٢٧

جب تم نے یہ بات جان لی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اسی بات کا حکم دیتا ہے جس میں تمہاری بہتری ،کامیابی اور سعادت مندی ہے اور یہ خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلنے والے تمہیں اس بات کا حکم دیتے ہیں جس میں تمہارا سراسر نقصان ہے ،محرومی اور بدبختی ہے ۔تو پھر تم اپنے لئے ان دونوں داعیوں میں سے بہتر داعی کوچن لو اور ان دونوں راستوں میں سے وہ راستہ اختیار کروجو زیادہ اچھا ہے۔ (السعدی: ۱۷۵)
سوال: اللہ نے لوگوں کے لئے راستے بیان کردیئے ہیں ۔اب لوگوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 32

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ... وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ

جب اللہ تعالیٰ نے باطل (ناجائز) طریقے سے لوگوں کا مال کھانے اور جانوں کو مارنے سے منع کیا تو اس حکم کے بعد ان چیز وں سے بھی صاف منع کردیا جن سے لوگوں کو مال ودولت کی لالچ پیدا ہوتی ہے ۔پہلے اعضاء وجوارح کے ذریعہ ظاہری طور پرمال ودولت کے پیچھے پڑنے سے منع کیا پھر حسد وجلن کی شکل میں دل میں لوگوں کے مال کا خیال پالنے سے روکا تاکہ ان کے ظاہری وباطنی اعمال پاک صاف ہو جائیں۔ (الألوسی: ۵؍ ۱۹)
سوال: دوسروں کو ملی ہوئی نعمت کی تمنا کرنے سے کیوں روکا گیا؟

سورۃ النساء آیات 0 - 29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ

یہ آیت جاہل صوفیوں کے قول کو فاسد اور غلط قرار دینے کی بہت ہی واضح دلیل ہے جو تجارت ،کاروبار اور صنعت وحرفت کے ذریعہ روزی حاصل کرنے کا انکار کرتے ہیں ۔ (القرطبی: ۶؍۲۵۰)
سوال: کیا حصولِ رزق کے لئے دوڑ دھوپ کرنا اور تجارت کرنا ‘اللہ پر توکل کے خلاف ہے ؟آیت کی روشنی میں وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 31

إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلٗا كَرِيمٗا ٣١

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ہر وہ گناہ گناہِ کبیرہ ہوتا ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم یا لعنت یا غضب کی وعید(دھمکی) کا ذکر کیا ہے۔(ابن جزی: ۱؍۱۸۷)
سوال:کبیرہ گناہوں سے کیا مراد ہے ؟ان میں سے تین کومثالوں کے ساتھ لکھئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 32

وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبُواْۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ وَسۡـَٔلُواْ ٱللَّهَ مِن فَضۡلِهِۦٓۚ

(وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ ) الآيۃ: اس کے نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ عورتیں یہ کہنے لگیں کہ کاش !ہم لوگ وراثت میں مردوں کے برابر ہوجاتیں اور جنگ میں ان کے شانہ بشانہ شریک ہوتیں ۔ تب ایسی تمنا سے منع کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ۔کیونکہ ان کی اس تمنا میں شریعت کے حکم کوردکرنا اوراس کی مخالفت کرنا تھا۔ چنانچہ اس ممانعت میں تمام شرعی احکامات کے خلاف تمنا کرنا داخل ہے ۔ (ابن جزی: ۱؍ ۱۸۷)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو فضیلت وبرتری دوسروں کو عطا کی ہے ،اس کی تمنا کرنے سے کیوں روکا گیاہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 32

وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ

اللہ تعالیٰ نے ایسی تمنا سے منع کیا ہے کیونکہ اس میں حسد کا جذبہ ہوتا ہے اور حسد کہتے ہیں ‘‘جس شخص کو نعمت حاصل ہو اس کی نعمت کے چھن جانے اور ختم ہوجانے کی تمنا کرنا ۔چاہے خود اپنے لئے اس نعمت کی تمنا کرے یا نہ کرے”اور یہ حرام ہے ۔ جبکہ رشک کرنا یہ ہے کہ ‘‘آدمی اپنے بھائی کو ملی ہوئی نعمتوں کے ختم ہوجانے کی تمنا کئے بغیر اپنے لئے بھی ایسی نعمتوں کے مل جانے کی تمنا کرے اور ایسی تمنا کرنا جائز اور درست ہے ۔کلبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: آدمی اپنے بھائی کے مال ،اس کی بیوی اور اس کے خادم کی تمنا نہ کرے (کہ اس سے چھن جائے اور مجھے مل جائے ) بلکہ اسے یہ کہنا اور دعا مانگنی چاہئے : “اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ مِثلَہٗ” اے اللہ! اس کی طرح مجھے بھی عطا فرما۔(البغوی: ۱؍ ۵۱۷)
سوال: حسد اور رشک کے درمیان کیا فرق ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 32

لِّلرِّجَالِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبُواْۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٞ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ

اللہ کے فضل کو کمائی سے تعبیرکیا گیا تاکہ اس بات کی تاکید ہوجائے کہ مردوعورت میں سے ہر کوئی اپنے حصہ کا حقدار ہے اور یہ بات پختہ کردی جائے کہ ہر ایک کا حصہ اور حق اسی کے ساتھ خاص ہے ۔اس طرح سے کہ وہ حصہ اس حقدار سے ہٹ کر کسی اور کو نہ مل جائے کیونکہ یہ بات یعنی حقدار کو حق ملنامذکورہ تمنا سے باز رہنے کا ایک ذریعہ ہے ۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین تدبیر وانتظام کے ذریعہ بندوں کو جن نیکیوں کامکلف (پابند)کیا ہے، اس کے مطابق ہر شخص ثواب اور بدلہ کا حقدار ہوگا ۔ (الألوسی: ۵؍۱۹)
سوال: اللہ کے فضل کو اکتساب یعنی کمائی سے کیوں تعبیر کیا گیا؟