قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





ﭿ
٢٤ ٢٤








٢٥ ٢٥

٢٦ ٢٦
82
سورۃ النساء آیات 0 - 24

وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ

ہر وہ عورت جس کا ذکر اس آیت میں نہیں ہے ،وہ نکاح کے لئےحلال اور پاکیزہ ہے ۔ حرام گنے چنے اور محدود ہیں جبکہ حلال لامحدود اور بے شمار ہے ۔ یہ اللہ کی جانب سے بندوں پر لطف وکرم ،رحمت ومہربانی اور انہیں سہولت وآسانی دینے کی خاطرہے ۔ (السعدی: ۱۷۴)
سوال:یہ آیت دینِ اسلام کے آسان ہونے اور اللہ کی رحمت کے کشادہ ہونے پر دلیل ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 25

وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ

یعنی! ایمان کے بارے میں لوگوں کے باطن (اندرونی حالت)کے پیچھے مت پڑو، ظاہر کو لے لو۔ اس لئے کہ اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ (البغوی: ۱؍ ۵۰۹)
سوال: کیا لوگوں کے باطنی معاملات پر کلام کرنا مسلمان کاطریقہ ہے؟ اور کیوں؟

سورۃ النساء آیات 0 - 25

ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٥

ایک قول ہے کہ: لفظ (ٱلۡعَنَتَ) کا اصلی معنی ہے: ٹوٹی ہوئی ہڈی کا درست اور ٹھیک ہوجانے کے بعد پھر سے ٹوٹ جانا۔ چنانچہ اس لفظ کو ہر ایسی مشقت ودشواری اور نقصان وخلل کے لئے استعمال کیا جانے لگا جو انسان کی حالت کے ٹھیک ٹھاک ہوجانے کے بعداسے دوبارہ لاحق ہوجائے اور آدمی سب سے گھناؤنی برائی کا ارتکاب کرکے گناہوں میں ملوث ہوتا جائے اس سے بڑھ کر کوئی نقصان نہیں ہوسکتا ۔ (الألوسی: ۵؍ ۱۲)
سوال: لونڈی سے شادی کرنے کے حکم میں (ٱلۡعَنَتَ) یعنی گناہ سے ڈرنے کا کیا مطلب ہے؟

سورۃ النساء آیات 0 - 25

فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَٰحِشَةٖ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٥

اس آیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دو عزت والے ناموں(غَفُورٞ)بہت بخشنے والا اور (رَّحِيمٞ) نہایت مہربان؛ کے ساتھ ختم کیاہے اس لئے کہ یہ بیان کئے ہوئے احکامات بندوں پر رحمت ومہربانی اور اس کا فضل واحسان ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تنگی اورتکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ بہت زیادہ وسعت اور کشادگی عطا فرمائی ۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ بے حیائی کے مرتکب کے لئے (حدشرعی) سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد بخشش ومغفرت کا ذکر کرنے میں شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حدود(شرعی سزائیں ) مذکورہ گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں یعنی ان کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے جیسا کہ یہ بات حدیث میں آئی ہے۔ (السعدی: ۱۷۵)
سوال: اللہ تعالیٰ کے دو نام (غَفُورٞ) اور (رَّحِيمٞ)کے ذریعہ اس آیت کے اختتام کی کیا وجہ ہے ؟

سورۃ النساء آیات 0 - 26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ

یعنی: (لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ) تاکہ تمہارے لئے بیان کردے، تمہارے دین کے مسائل اور تمہارے معاملات کی مصلحتیں نیز تمہارے لئے حلال اور حرام چیزیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی واقعہ اور حادثہ اللہ کے حکم سے خالی نہیں ہے ۔اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅﮆ ) (سورۂ اَنعام:۳۸) ہم نے کتاب (لوحِ محفوظ) میں کوئی چیز نہیں چھوڑی ہے۔سب کچھ لکھ دیا ہے۔ (القرطبی: ۶؍۲۴۴)
سوال: کیا کوئی واقعہ یا ناگہانی ایسی بھی ہوسکتی ہے جس کے بارے میں اللہ کی شریعت میں کوئی بیان یا حکم موجود نہ ہو؟

سورۃ النساء آیات 0 - 26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ

یعنی:تمہیں تم سے پہلے کے انبیاء وصالحین کے طریقوں اور راستوں کی ہدایت ورہنمائی کردے تاکہ تم انہی کے نقشِ قدم پر چلو اور ان کی پیروی کرو۔(ابن جزی: ۱؍ ۱۸۶)
سوال:عرصہ گزرجانے کے باوجود تمام مومنین کی بھائی چارگی قائم ہے۔وہ ایک دوسرے کی وپیروی کرتے ہیں ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ النساء آیات 0 - 26

يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوبَ عَلَيۡكُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٦

(وَيَتُوبَ عَلَيۡكُمۡۗ) یعنی تم پر اور تمہارےاوپر اتاری گئی شریعت میں نرمی کا معاملہ کرے، تاکہ اللہ تعالیٰ کی نافذ کی گئی چیزوں سے واقف ہوسکو، اور حلال چیزوں پر اکتفا کرو، اور اللہ تعالیٰ کی دی گئی آسانی کے نتیجےمیں تم سے کم سے کم گناہ سرزد ہوں، یہ ہے بندوں کا توبہ قبول کرنے کا مطلب۔توبہ قبول کرنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ جب بندے گناہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر رحمتوں کے دروازے کھول کر انہیں اپنی جانب رجوع اور انکساری کی توفیق دیتا ہے،( پھر اللہ تعالیٰ انہیں جن کاموں کی توفیق بخشی اسے شرف قبولیت بخشتے ہوئے ان کی توبہ قبول کرتا ہے)۔ (السعدی: ۱۷۵)
سوال:اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا توبہ کس طرح قبول کرتا ہے؟