قرآن
ﮐ
ﰼ
ﭘ ﭙ ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ
ﭠ ﭡ ﭢ ٢٠ ٢٠ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
٢١ ٢١ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ٢٢ ٢٢ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ
ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٢٣ ٢٣
وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٖ مَّكَانَ زَوۡجٖ وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا
تخفیفِ مہر یعنی مہر کم رکھنے میں نبی ﷺ کی اقتداء کرنا سب سے بہتر، افضل اور مناسب ہے۔ (السعدی:173)
سوال: مہر کی مقدار کے سلسلہ میں افضل چیز کیا ہے؟
وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٖ مَّكَانَ زَوۡجٖ وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا فَلَا تَأۡخُذُواْ مِنۡهُ شَيۡـًٔاۚ أَتَأۡخُذُونَهُۥ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ٢٠
مہر کے واپس لینے کو بہتان کہاگیا کیونکہ ان کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کسی عورت سے نفرت کرتے اور اسے طلاق دینے کا ارادہ رکھتے تو اس پر برے سلوک کا الزام لگاتےاور اس پر بے جا بہتان باندھتے تاکہ وہ عورت بدنامی کے خوف سے پیسہ خرچ کرکے شوہر سے طلاق لے لے۔ (ابن عاشور: 4؍ ۲۸۹)
سوال: شوہر نے اپنی بیوی کو جو مہر دیا ہے، اسے واپس لینے کو آیت ِکریمہ میں بہتان کیوں کہاگیا ہے؟
وَكَيۡفَ تَأۡخُذُونَهُۥ وَقَدۡ أَفۡضَىٰ بَعۡضُكُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ وَأَخَذۡنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٢١
اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے مردوں سے جو مضبوط عہد وپیمان اور پکا قو ل وقرارلے رکھا ہے وہ ہے : اچھے طریقہ سے رکھنا یا پھر بھلے طریقہ سے چھوڑدینا یعنی طلاق دے دینا۔ (الطبری: ۸؍۱۲۷)
سوال: بیوی نے شوہر سے کون سا پختہ عہد لے رکھا ہے؟
وَكَيۡفَ تَأۡخُذُونَهُۥ وَقَدۡ أَفۡضَىٰ بَعۡضُكُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ وَأَخَذۡنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٢١
جب پچھلی آیت میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی اس جدائی کا حکم گزرا جس کا سبب عورت ہوتی ہے اور اس بناپر شوہر کو اس سے مال واپس لینے کاحق ہوتا ہے تو اس کے بعد اس جدائی کا ذکر کیا ہے جس کا سبب شوہر ہوتاہے چنانچہ یہ بات بیان کی کہ جب آدمی بیوی کی کسی نافرمانی یا برے برتاؤ کے بغیر طلاق دینا چاہتا ہے تو اسے بیوی سے مال لینے کا حق نہیں ہے۔ (القرطبی: ۶؍ ۱۷۰)
سوال: شوہر پر طلاق کے مقابل مال طلب کرنا کب حرام ہوتاہے؟
وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَمَقۡتٗا وَسَآءَ سَبِيلًا ٢٢
(فَٰحِشَةٗ)بے حیائی اور قبیح کام ۔کا معنی قباحت والے عقد وبندھن کو شامل ہے ۔اسی طرح برائی کے کاموں کے ارتکاب کو شامل ہے ۔ (ابن تیمیہ: ۲؍۲۲۲)
سوال: (فَٰحِشَةٗ) برائی والے عقد وپیمان اور برے کام ، دونوں کو شامل ہے۔کیسے؟
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ
نکاح کے لئے حرام کی گئی ان محرم عورتوں کو حرام قرار دینا دراصل شرافت اور انسانیت کے اس قاعدے کی طرف لوٹتا ہے جو عزت وآبرو کی حفاظت کے عام ضابطے کا تابع ہے اور یہ اسلام کا ایک نہایت معقول ،مناسب اور ضروری حصہ ہے اور انسانی ترقی کے ابتدائی مناظر (مظاہر) میں سے بھی ہے۔(ابن عاشور: ۴؍ ۲۸۹)
سوال: محرمات سے نکاح کیوں حرام کیا گیا؟
وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ
اللہ تعالیٰ نے (بیک وقت) دوبہنوں کو اکٹھا نکاح میں رکھنے کا ذکر کیا ہے اور اسے حرام قرار دیا ہے ۔ کیونکہ یہ رشتوں کے بیچ دراڑ کا باعث اور ایک دوسرے سے قطعِ رحمی کا سبب ہے ۔ (السعدی: ۱۷۴)
سوال:اللہ تعالیٰ نے دوبہنوں کو نکاح میں جمع کرنے سے کیوں منع فرمایا ہے؟