قرآن
ﮐ
ﰼ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ١ ١ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ٢ ٢ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٣ ٣ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ
ﮰ ﮱ ٤ ٤ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ٥ ٥ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ
ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ٦ ٦
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
مراقبہ (اللہ کے نگراں ہونے کا احساس)کا مقام ومرتبہ بڑے شرف والا ہے۔اس کی اصل بنیاددوچیزیں ہیں:علم اور حال۔علم تو یہ ہے کہ بندہ کو اس بات کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے،اس کی نگہبانی کررہا ہے،اس کے سارے اعمال دیکھ رہا ہے ،سارے اقوال سن رہا ہے اور اس کے ہر خیال اور ہر کھٹک سے واقف ہے ۔جبکہ حال :یہ ہے کہ اس علم کو دل سے اس طرح چمٹائے اور اس میں بسائے رکھے کہ(یہ علم ویقین )اس پر ہر وقت چھایا رہے اور کبھی بھی اس سے غافل نہ ہو ۔اس حال یا حالت کے بغیر صرف علم ویقین کرلینا کہ (اللہ دیکھ رہا ہے )کافی نہیں ہے۔ (ابنِ جزی: ۱؍۱۷۲)
سوال:مراقبہ یعنی اللہ تعالیٰ کے نگراں ہونے کے احساس کی اصل کیا ہے؟
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
(ٱتَّقُواْ) ڈرتے رہو۔کا فعل دوبارہ لایا گیا ہے کیونکہ ایسے تقویٰ کا مسلمانوں کو خاص طور پر حکم دیا گیا ہے ۔کیونکہ ان کے اندر جاہلی عادات واطوار کے کچھ اثرات باقی رہ گئے تھے ،جس کا انہیں احساس نہیں تھا اور وہ باقی رہنے والے اثرات رشتہ داروں اور یتیموں کے حقوق میں غفلت وسستی برتنے پر شامل تھے ۔(ابن عاشور:۴؍۲۱۷)
سوال:اس آیت میں تقویٰ کا حکم دومرتبہ کیوں دہرایا گیا ہے؟
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا ١
اللہ کے تقویٰ پر ابھارنے والا سبب : تمہارا ایک دوسرے سے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرنا اورتمہارا اللہ کی تعظیم کرناہے ۔اس لئے کہ جب تم اپنی حاجتیں اور ضرورتیں پوری کرنا چاہتے ہو تو تم اللہ(کے نام )سے سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو اس کاواسطہ دیتے ہو،چنانچہ جو شخص کسی سے اپنی ضرورت طلب کرتا ہے تو کہتا ہے: میں اللہ کے واسطے سے سوال کررہا ہوں کہ تم فلاں کام کردو۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں اللہ کی بڑی تعظیم وبڑائی موجود ہے اور یہ تعظیم اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ اللہ کے وسیلے سے سوال کرنے والے کو (خالی)نہ لوٹائے ۔لہٰذا جب تم اس معاملہ میں اللہ کی تعظیم کرتے ہوتو اسی طرح اس کی عبادت اور تقویٰ میں بھی اس کی تعظیم کرو۔ (السعدی:۱۶۳)
سوال: ہم بعض معاملات میں اللہ کی تعظیم کرتے ہیں اور بعض دوسرے امور میں اس کی تعظیم سے غفلت برتتے ہیں ۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ وَلَا تَتَبَدَّلُواْ ٱلۡخَبِيثَ بِٱلطَّيِّبِۖ
پچھلی سورت (سورۂ آلِ عمران) میں جنگ اُحد کے واقعہ کا ذکر گزرا،جس سے (شہید ہونے والوں کے ) یتیم بچوں کامعاملہ سامنے آیا ۔پھر اللہ تعالیٰ کے قول میں یہ بیان بھی آیا (ﮞ ﮟ ﮠ ﮡﮢ ) (سورۂ انبیاء:۳۵) ہر نفس ،موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ بلا شبہ موت ایسا گھاٹ ہے ،جہاں ہر جاندار کو ضرور آنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر وقت یتیم بچے لا محالہ موجود ہوں گے ۔لہٰذا اللہ نے ان یتیموں کے بارے میں (بدسلوکی اور برائی سے) بچنے ،احتیاط برتنے اور ان کے حق میں انصاف کرنے پر ابھارا ہے ۔اس لئے کہ رشتے ناطوں کے بعد یتیم بچے سب سے زیادہ اس لائق ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرا جائے اور ان کی وجہ سے اللہ کی نگرانی کا خوف اور خشیت پیداہو ۔اسی بناء پر فرمایا: (وَءَاتُواْ ٱلۡيَتَٰمَىٰٓ أَمۡوَٰلَهُمۡۖ) یتیموں کو ان کے مال دے دو۔ (البقاعی: ۲؍۲۰۷)
سوال:سورۂ آل عمران کے آخر میں موت اور اُحد کاقصہ ذکر کرنے کے بعد سورۂ نساء (کی ابتدائی آیات ) میں یتیموں کا ذکر کرنے کی کیا مناسبت ہے؟
فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ
(نکاح کے لئے) اپنی صوابدیداور سوچ سمجھ کے مطابق عورتوں کو پسند اور منتخب کرو۔اور سب سے اچھا انتخاب دین کی صفت کا ہے ۔اور عورتوں کے انتخاب کے لئے بہترین صفت،دین کی صفت ہے۔جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: “تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِيْنِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ”۔ (متفق علیہ)‘‘عورت سے چار چیزوں کی بناپر نکاح کیا جاتا ہے: اس کے مال کی وجہ سے ، حسن وجمال کی وجہ سے،حسب ونسب کی بناپر اور اس کے دین کے سبب ۔تم دین دار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کرو۔تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو’’۔
اس آیت میں ہدایت ہے کہ انسا ن کو نکاح سے پہلے بیوی کا انتخاب اوراسے پسند کرلینا چاہئے بلکہ صاحبِ شریعت نے اس کے لئے جائز ومباح ٹھہرایا ہے کہ جس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے ،اسے دیکھ لے تاکہ وہ اپنے اس معاملہ میں اندھیرے میں نہ رہے۔ (السعدی: ۱۶۴)
سوال: (مَا طَابَ لَكُم) جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں بیوی کے انتخاب کی اہمیت پر اشارہ ہے ۔آیت کی روشنی میں اس کی وضاحت کیجئے.
فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ
اس ارشاد میں یہ تعلیم ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ایسے امور کے حوالے نہ کرے جس میں ظلم وزیادتی اور حق تلفی کا اندیشہ ہو اور یہ ڈر ہو کہ وہ اپنی ذمہ داری اور فریضہ نبھا نہیں پائیگا اگرچہ وہ جائز کا م ہی کیوں نہ ہو ۔بلکہ وہ ایسے معاملہ میں گنجائش کا پہلو اور عافیت لازم پکڑلے کیونکہ عافیت،بندے کو دی جانے والی سب سے بہتر ین چیز ہے۔ (السعدی: ۱۶۴)
سوال: جب ظلم واقع ہونے کا غالب گمان ہو تو حکمت ودانائی یہ ہے کہ اس کے اسباب سے دوری اختیار کرلی جائے ۔اس بات کو آیت کے تناظر میں واضح کیجئے.
وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا
آیت میں مال ودولت کی تعریف کی جانب اشارہ ہے ۔سلف کہا کرتے تھے کہ :مال مومن کا ہتھیارہے۔اور میں کچھ مال چھوڑ جاؤں جس پر اللہ تعالیٰ مجھ سے حساب لے ،یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ میں لوگوں کا محتاج بن جاؤں۔
وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ :تجارت کرو اور کماؤ ۔اس لئے کہ تم ایسے دور میں جی رہے ہو کہ اگر کوئی محتاج ہوجائے تو یہ چیز سب سے پہلے اس کے دین کو ہڑپ لیتی ہے۔ (الألوسی: ۴؍۲۰۲)
سوال:(ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﭳ )تمہارے وہ مال جن کو اللہ نے تمہاری گذربسر کا ذریعہ بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کس چیز کی طرف اشارہ ہے ؟