قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے





١٩٥ ١٩٥

١٩٦ ١٩٦

١٩٧ ١٩٧


١٩٨ ١٩٨




١٩٩ ١٩٩

٢٠٠ ٢٠٠
Surah Header

76
سورۃ آل عمران آیات 0 - 195

فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ

(فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ ) تو جن لوگوں نے ہجرت کرلی۔یعنی شرک کی بستی (مکہ) کو چھوڑکر ایمان کی بستی (مدینہ ) میں آگئے ۔اور دوستوں، قریبی لوگوں، بھائیوں اور پڑوسیوں سے جدائی اختیار کرلی۔
(وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ۔یعنی مشرکین نے اذیت دے کر انہیں ایسا تنگ کیاکہ انہیں اپنے درمیان (شہر) سے نکل جانے پر مجبور کردیا۔ اور اسی لئے فرمایا: (وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي) وہ میری راہ میں ستائے گئے۔ یعنی لوگوں کے نزدیک ان کا گناہ بس یہی تھا کہ وہ ایک وتنہا اللہ پر ایمان لائے ۔(ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ) (سورۂ بروج:۸) وہ لوگ مومنوں سے صرف اس وجہ سے انتقام لے رہے تھے کہ وہ غالب اور لائقِ تعریف اللہ کی ذات پر ایما ن لائے۔اور اللہ کا یہ فرمان: ( وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ) اور انہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے ۔ تو یہ سب سے بلند درجہ ہے کہ آدمی اللہ کی راہ میں جان کی بازی لگادے۔ (ابن کثیر: ۱؍۴۱۸)
سوال: اس شخص کا کیابدلہ ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے یا اپنے گھر سے نکال دیا جائے، یا ستایا جائے، یا قتل کردیا جائے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ١٩٦

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کفار دنیا میں بھی انعام یافتہ نہیں ہیں ۔اس لئے کہ نعمت کی حقیقت ہے اس کا دنیا اور آخرت میں نقصان کی آلودگی سے پاک وصاف ہونا جبکہ کفار کو میسر نعمتیں دکھوں اور سزاؤں سے ملی جُلی ہیں۔ تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص دوسرے کو شہد کی بنی ہوئی مٹھائی پیش کرے جس میں زہر ملا ہوا ہو ۔اب اسے کھانے والا اگرچہ لذت محسوس کرے گا لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس پر نعمت یا انعام کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں ہلاکت ہے۔ (القرطبی: ۵؍۴۸۱)
سوال: کیا کفار دنیا میں انعام یافتہ یا نعمت سے ہمکنار ہوتے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 196

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ١٩٦

فریب کا شکار آدمی جس چیز سے فریب کھاتا ہے، اسے پاکر بڑا خوش اور مگن ہوتاہے، چنانچہ کفار اپنی چلت پھرت (اور اچھل کود) سے دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں اور مومنین اس (کفار کی چلت پھرت) کی وجہ سے فکر مندہیں، لیکن بعض اوقات کسی مومن کے دل میں یہ بات آسکتی ہے کہ کفار کو ملنے والی یہ ڈھیل اور مہلت ان کے لئے بہتر ہے۔ چنانچہ یہ خیال کفار کی حالتِ کفر کی طرف ایک طرح کا جھکاؤ اور ایک قسم کا دھوکہ پیدا کرتا ہے ۔اسی لئے اچھی تعبیر ہے : (لَا يَغُرَّنَّك) کہ آپ کو ہرگز فریب نہ دے۔کوئی مومن ہو یا کافر ۔دونوں کے لئے موت بہتر ہے۔ کافر کے لئے اس وجہ سے کہ وہ گناہ میں اور زیادہ اضافہ نہ کرپائیگااور مومن کے لئے اس بناء پر موت بہتر ہے کہ اللہ کے پاس جو کچھ اجروانعام ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ (ابن عطیہ: ۱؍ ۵۵۸)
سوال: یہاں “غرور” (دھوکا) کے لفظ کو استعمال کرنے کی وجہ بتائیے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 198

نُزُلٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّلۡأَبۡرَارِ ١٩٨

(لِّلۡأَبۡرَارِ) “ابرار” بار اور بَر کی جمع ہے۔ اس کا معنی ہے:نیکی کرنے والے ۔اور یہ تقویٰ اور عملِ صالح کا نتیجہ ہے ۔بعض علماء کا کہنا ہے: “ابرار” وہ لوگ ہیں جو کسی کو تکلیف اور ایذا نہیں دیتے۔ (ابن جزی: ۱؍۱۷۰)
سوال: ابرار سے کون لوگ مرادہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 199

وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ

چونکہ ان کا ایمان تمام چیزوں پر ہے اور حقیقی ہے ۔اس لئے یہ ایمان فائدہ مند ہوگیا ۔اس ایمان نے ان کے دلوں میں اللہ کی خشیت اور ڈر پیدا کردیا ۔اور ان کی خشیتِ الٰہی کے کامل ہونے کا نتیجہ ہے کہ (ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝﯞ ) وہ اللہ کی آیتوں کو معمولی قیمت کے عوض نہیں بیچتے۔ لہٰذا وہ دین کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح نہیں دیتے۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا عمل تھا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ چیزوں کو چھپاتے اور انہیں معمولی قیمت کے بدلے بیچ دیتے ۔مگر ان لوگوں نے معاملے کی حقیقت کو پہچان لیا اور یہ بات بخوبی جان لی کہ دین کے بدلے میں دنیا کو اختیار کرنا، سب سے بڑا نقصان اورخسارہ ہے۔ (السعدی: ۱۶۲)
سوال: حقیقی ایمان کی کیا علامت ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 200

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٢٠٠

اللہ تعالیٰ نے سورت کا خاتمہ اس آیت سے کیا ہے کیونکہ یہ آیت اس دسویں وصیت پر مشتمل ہے جو دنیا میں دشمنوں پر غلبہ پانے اور آخرت میں نعمتوں کی کامیابی کو سموئے ہوئے ہے۔ چنانچہ اللہ نے نیک کاموں پر جمے رہنے اور خواہشاتِ نفس سے اپنے آپ کو روک لینے پر ابھارا ۔یعنی نیکیوں پر صبر کرنے اور شہوتوں سے صبر برتنے کی ترغیب دی۔ اور ‘‘صبر’’ قابو رکھنے کو کہتے ہیں۔ (القرطبی: ۵؍ ۴۸۵)
سوال: آیت نے دشمنوں پر غالب ہونے اور آخرت میں کامیاب ہونے کی کئی شرطیں بیان کی ہیں ۔وہ کیا ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 200

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٢٠٠

یہ آیت کافروں کے خلاف نصرت ومدد کے لئے مانگی گئی دعا قبول ہونے کی شرط سکھا رہی ہے ۔ نیز عقل والوں کو دعوت دے رہی ہے کہ اکیلے ،زندہ اور بذاتِ خود قائم اور مخلوق کو سنبھالنے والی ذات اللہ کی نگرانی ونگہبانی کو یاد رکھیں۔ (البقاعی: ۲؍ ۲۰۳)
سوال: مومنوں کی نصرت ومدد کی دعا اللہ کے یہاں قبول ہونے کی کیا شرط ہے؟