قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﮏ

ﰼ

ﭑ ﭒ ﭓ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ﭘ ﭙ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ١٧٤ ١٧٤
ﭢ ﭣ ﭤ
ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ١٧٥ ١٧٥

ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ١٧٦ ١٧٦
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ١٧٧ ١٧٧
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ
ﮧ ﮨ ١٧٨ ١٧٨
ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ١٧٩ ١٧٩
ﯳ ﯴ
ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ١٨٠ ١٨٠
73
سورۃ آل عمران آیات 0 - 174

فَٱنقَلَبُواْ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوٓءٞ وَٱتَّبَعُواْ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَظِيمٍ ١٧٤

جب انہوں نے اپنے معاملات کو اللہ کے حوالے کردیا اور اپنے دلوں سے اس پر اعتماد کیا تو اللہ نے انہیں چارطرح کی جزاء عطافرمائی :نعمت،فضل ،برائی کا پھیر دیا جانا او ر (اللہ کی ) رضا وخوشنودی کی پیروی کرنا ۔چنانچہ اللہ نے انہیں ذات سے راضی رہنے والا بنادیا اور خود بھی ان سے راضی ہوگیا۔ (القرطبی: ۱۶؍۴۱۷)
سوال: اہلِ ایمان نے جب اپنا معاملہ اپنے رب کے سپرد کردیا تو انہیں کون سی چار نوازشات حاصل ہوئیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٧٥

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا حقیقت میں وہ ہے جسے یہ اندیشہ لگارہتا ہے کہ اللہ اسے دنیا یا آخرت کے عذاب میں پکڑلے گا ۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ: ڈرنے والا وہ نہیں ہے جو روتا رہتا ہے او ر اپنے آنسوپونچھتا رہتا ہے ۔بلکہ ڈرنے والا شخص وہ ہے جو اُن کاموں کو چھوڑدیتا ہے جن کی بناء پر اسے عذاب دیا جائیگا۔ (القرطبی: ۵؍۴۲۸)
سوال: حقیقت میں اللہ کے عذاب سے ڈرنے والا کون ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 175

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٧٥

جب رحمن کے اولیاء اللہ کی خاطر ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ،شیطان کے اولیاء کے خلاف ان کی مدد کرنے کا وعدہ پورا کرتا ہے اور جو شخص شیطان کے ڈرانے سے ڈر جائے اور اس کے ڈراورخوف کے مطابق عمل کرنے لگے تو اس شخص کے اندر شیطان کی ولایت (دوستی)پائی جاتی ہے۔ (البقاعی: ۲؍ ۱۸۵)
سوال: جوشخص شیطان سے ڈرتا ہو اور اس کے خوف کے تقاضے نبھاتا ہو ،اسے کس صفت سے متصف کیا جائیگا؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 176

وَلَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِۚ إِنَّهُمۡ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡٔاًۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظّٗا فِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٧٦

(ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹﭺ) وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ نقصان پہنچانے کی نفی کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا دراصل مسلمانوں کی عزت افزائی (اور انہیں شرف عطاکرنا) ہے اور اس بات سے خبردار کرنا بھی ہے کہ مومنوں کو نقصان پہنچانا ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو نقصان پہنچانے کے معنی میں ہے۔ (الألوسی: ۴؍۱۳۳)
سوال: اللہ تعالیٰ نے نقصان نہ ہونے کو اپنی ذات سے کیوں جوڑدیا؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 179

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ

اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کو منافقوں سے گھلا ملا چھوڑدے چنانچہ غزوۂ اُحد میں رونماہونے والی باتوں اور کاموں سے ایمان اور نفاق کا پتہ چل گیا اورمومنوں کو منافقوں سے الگ کردیا ۔جنگ اُحد میں ان کی باتوں اور کاموں سے ایمان اور نفاق معلوم ہوگیا ۔ (وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ) یعنی: اللہ ایسا بھی نہیں ہے کہ تمہیں اس بات پر مطلع کردے کہ دلوں میں ایمان ہے یا نفاق۔ (ابن جزی:۱؍ ۱۶۸)
سوال:غزوۂ احد میں مسلمانوں کی شکست کے منظر نامے میں مسلمانوں کے لئے ایک بڑی حکمت سامنے آئی۔وہ کیا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 179

مَّا كَانَ ٱللَّهُ لِيَذَرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَىٰ مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِۗ

(حَتَّىٰ يَمِيزَ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ) یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے الگ کردے۔ وہ اس طرح کہ پرمشقت پابندیوں اور سخت حالات کے ذریعہ باطل پرست آدمی کو رسوااور اس کی برائی کو بے نقاب کردے۔ اگرچہ لمبی مدت سے اس کے باطل پر پردہ پڑا رہا ہو، کیونکہ مشکل کاموں اور سخت حالتوں پر صرف وہی بندے صبر کرتے ہیں جو عقیدے میں مخلص ،کھرے اور سچے ہوتے ہیں۔ (البقاعی: ۲؍ ۱۸۷)
سوال: اللہ تعالیٰ ،ناپاک کو پاک سے الگ کیسے کرتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 180

وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ١٨٠

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خبر دی کہ وہ باقی رہنے والا ہے اور اس کی سلطنت ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی ہے۔نیز وہ ازل میں ہمیشہ سے جس طرح تھا، ٹھیک اسی طرح ابد میں ہمیشہ رہے گا۔ تمام جہانوں (اور مخلوقات )سے بے نیاز ہے ۔یعنی کسی کا محتاج نہیں۔لہذا تمام مخلوقات کے فنا ہوجانے اور ان کی ملکیتوں کے ختم ہوجانے کے بعد زمین کا وہی وارث ہوگا۔(اگرچہ مالک ووارث تو وہ اب بھی ہے لیکن مخلوقات کے خاتمہ کے بعد) ساری املاک وجائداد اور مال واسباب اس طرح باقی رہ جائیں گے کہ کوئی بھی ان کا دعویدار نہیں رہ جائیگا۔ (القرطبی: ۵؍۴۴۲)
سوال: خالقِ بلند وبرترکی عظمت(بڑائی)اور مخلوق کی کمتری وبے وقعتی بیان کیجئے.