قرآن
ﮏ
ﰼ
١٦٦ ١٦٦ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ١٦٧ ١٦٧ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ١٦٨ ١٦٨ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١٦٩ ١٦٩ ﮣ ﮤ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ١٧٠ ١٧٠ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ
ﯣ ١٧١ ١٧١ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٧٢ ١٧٢
ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ١٧٣ ١٧٣
وَمَآ أَصَٰبَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ
اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ جس دن دوگروہوں میں مڈبھیڑ ہوئی ۔یعنی اللہ نے اُحد میں مسلمانوں اور مشرکوں کو آمنے سامنے جمع کردیا ۔اس دن مسلمانوں کو قتل اور شکست کی جس مصیبت سے گذرنا پڑا وہ اللہ کے حکم اور اس کی قضا وقدر سے ہی واقع ہوئی تھی ۔تقدیر کا وہ فیصلہ تھا جو ٹل نہیں سکتا تھا اور اس کا ہونایقینی تھا او ر جب تقدیر کا حکم نافذ ہوتو بندے کے لئے تسلیم ورضاکے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔اوربندہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ تقدیر کا یہ فیصلہ عظیم حکمتوں اور زبردست مصلحتوں کے تحت کیا گیا ہے ۔نیز تقدیر کے فیصلوں سے مومن اور منافق کے درمیان واضح تمیز دلانا مقصود ہوتا ہے۔(السعدی: ۱۵۶)
سوال:اُحد کی شکست سے مسلمانوں کو ایک فائدہ ہوا۔وہ فائدہ کیا ہے؟
ٱلَّذِينَ قَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ وَقَعَدُواْ لَوۡ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُواْۗ قُلۡ فَٱدۡرَءُواْ عَنۡ أَنفُسِكُمُ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٦٨
منافقین کے قول(لَوۡ أَطَاعُونَا) اگر وہ ہماری بات مانتے۔ اس سے مراد یہ تھا کہ مسلمان قریش کے مقابلہ کے لئے مدینہ سے نہ نکلتے اور اللہ کے اس قول (وَقَعَدُواْ) اور وہ بیٹھے رہے۔ کا مطلب ہے:انہوں نے یہ بات کہی اور خود کو جہاد سے پیچھے رکھا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
(قُلۡ فَٱدۡرَءُواْ) یعنی آپ فرمادیں:اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو دورکرکے بتاؤ۔
‘‘دَرء’’ کا معنی ہے: ہٹانا، دورکرنا۔ اللہ نے اس میں یہ بات بھی صاف طور پر بتادی کہ تقدیر کے مقابل تدبیر کام نہیں دیتی اور یہ بات بھی واضح کردی کہ مقتول اپنے مقررہ وقت پر ہی مارا جاتا ہے ۔اسی طرح یہ بات بھی کہ جو کچھ اللہ کے علم میں ہے اور اللہ نے اس کی خبر دی ہے اور تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ ضرور بالضرور ہوکر رہے گا۔ (القرطبی: ۵؍۴۰۵)
سوال: کیا انسان کی موت کا وقت مقرر کئے جانے میں جہاد کا کوئی اثر ہوتا ہے؟
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ١٦٩
(بَلۡ أَحۡيَآءٌ) بلکہ وہ زندہ ہیں۔اس میں خبر دی گئی ہے کہ جنت کے رزق سے لطف اندوز ہونے میں شہداء کی حالت ،زندہ لوگوں کی طرح ہے ۔برخلاف دوسرے مرنے والے مسلمانوں کے ۔کیونکہ وہ ان روزیوں سے قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے سے پہلے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔(ابن جزی: ۱؍۱۶۶)
سوال: قتل ہوجانے کے باوجود شہداء کے زندہ ہونے کی کیا صورت ہے؟
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ١٦٩
(عِندَ رَبِّهِمۡ) ان کے رب کے پاس۔ کا لفظ ان کے بلند درجہ اور اپنے رب سے قربت رکھنے کا پتہ دیتا ہے۔
(يُرۡزَقُونَ) انہیں ایسی ایسی نعمتیں دی جائیں گی جن کی صفات وکیفیات کو صرف وہی ذات جانتی ہے جس نے انہیں نعمتوں سے نوازا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ (فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِ) اللہ کے عطاکردہ فضل وکرم پر خوش وخرم ہوں گے۔ یعنی باغ باغ اور مگن ہوں گے ۔اس فضل سے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو سرور ملے گا ۔یہ خوشگواری اس وجہ سے ہوگی کہ اللہ کی نوازشات بڑی حسین وخوشنما (خوبصورت ) ہوں گی ،بھرپور اور بہت زیادہ ہوں گی ،نہایت عظیم اور اونچی ہوں گی ،ان کو پانے میں پوری پوری لذت (اور سہولت) ہوگی اور مزا کرکرا کرنے والی کوئی چیز موجود نہ ہوگی ۔ (نعمتوں میں کوئی رکاوٹ اور پابندی بھی نہیں ہوگی اور نہ انہیں کوئی زوال ہوگا۔) چنانچہ اللہ نے ان کے لئے جسم وجان دونوں کی نعمت ولذت اکٹھا کردی ۔ اللہ نے اپنی عطاء سے رزق کے ذریعہ جسمانی نعمت و لذت اور فرحت کے ذریعہ دل اور روح کی نعمت جمع کردی ۔یوں ان کو پوری طرح سے نعمت اور فرحت حاصل ہوگئی۔ (السعدی: ۱۵۶)
سوال: اللہ تعالیٰ شہید کے لئے جسمانی نعمت اور قلبی نعمت دونوں کو اکٹھا کردیتا ہے ۔اس کی وضاحت کیجئے.
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِهِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١٧٠
ان شہداء سے جو زندگی چھوٹ گئی ، وہ تکلیفوں اور مشقتوں والی زندگی ہے اور کسی کو بھی ایسی زندگی کے باقی ودائمی رہنے کی کوئی خواہش نہیں ہوتی ہے خواہ عمر لمبی ہی کیوں نہ ہو۔اور اس کے مقابل ان کے حصہ میں صاف ستھری اور خوشیوں سے بھرپور زندگی آگئی، جو اُن سے کبھی جدا نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی نعمتوں کا کوئی خاتمہ ہوگا۔چنانچہ انہیں کسی فتنہ کا سامنا ہوگا ، نہ رنج وغم سے وہ دوچار ہوں گے ،نہ حشر کے وقت انہیں مدہوشی اور حیرانی لاحق ہوگی اور نہ ہی کوئی اوربری چیز۔ (البقاعی: ۲؍ ۱۸۰)
سوال: اللہ کی راہ میں قتل کئے جانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟
وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِهِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١٧٠
شہداء خوشخبری دیتے ہیں اپنے ان بھائیوں کو جنہیں وہ دنیا میں ایمان او رجہاد کے راستوں پر زندہ چھوڑگئے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ لوگ بھی شہید ہوں گے تو وہ بھی ان سے آملیں گے اور انہیں بھی وہی عزت واکرام ملے گا جو انہیں ملاہے ۔لہذا یہ شہداء اس بات کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ (البغوی: ۱؍۴۴۸)
سوال:شہداء دنیا میں اپنے بھائیوں کی حالت پر کیوں خوش ہوتے ہیں؟
ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنٗا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ ١٧٣
(حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ) اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ کیاہی خوب کام بنانے والا ہے۔اس کلمہ کے ذریعہ ڈر ،خوف اور ناپسندیدہ چیزو ں سے حفاظت طلب کی جاتی ہے ۔یہی وہ کلمہ ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا اور (حَسۡبُنَا ٱللَّهُ) کا معنی ہے کہ : اللہ اکیلا ہمارے لئے کافی ہے لہذا ہم اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔اور (وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ) کا معنی ہے : اللہ کی ثناء وتعریف، کہ وہ سب سے بہتر ذات ہے جس پر بندہ اعتماد وبھروسہ کرے اور اس کی پناہ لے۔
(فَٱنقَلَبُواْ) یعنی سلامتی کی نعمت اور اجر وثواب کی فضیلت کے ساتھ (کامیاب وبامراد ہوکر ) واپس لوٹے۔(ابن جزی: ۱؍ ۱۶۷)
سوال: (حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ) اس قول کا کیا مطلب ہے؟