قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے


١٣٣ ١٣٣


١٣٤ ١٣٤


ﭿ
١٣٥ ١٣٥


١٣٦ ١٣٦


١٣٧ ١٣٧
١٣٨ ١٣٨

١٣٩ ١٣٩


١٤٠ ١٤٠
67
سورۃ آل عمران آیات 0 - 134

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلۡكَٰظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣٤

جب اللہ نے ایسی چیز کا ذکر کیا جس کا چھوڑنا اور خرچ کرنابہت بھاری اور مشکل ہوتا ہے یعنی ما ل کا ۔ تو اس کے بعدایک ایسی چیز کا تذکرہ کیا جسے روکنا اور قابومیں رکھنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا: (وَٱلۡكَٰظِمِينَ) پی جانے والے ہیں۔یعنی قابو میں رکھنے والے ہیں۔ (ٱلۡغَيۡظَ) غصہ کو۔ مطلب : غصہ سے بھر جانے کے باوجود وہ اسے دبادیتے ہیں،اس کا نفاذ نہیں کرتے۔ (البقاعی:۲؍۱۵۷)
سوال:مال خرچ کرنے کے بعد غصہ پی جانے کا تذکرہ کیا معنی دیتا ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 134

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي ٱلسَّرَّآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَٱلۡكَٰظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣٤

غصہ پی جانے والا اور لوگوں کو معاف کردینے والاحقیقت میں خود اپنا بھلا اور فائدہ کرتا ہے اور لوگوں کا بھی۔اس لئے کہ یہ اپنے نفس کے ساتھ بھی اچھا عمل ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی ۔اور جو شخص لوگوں سے احسان کا معاملہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ خود اپنے ساتھ احسان وبھلائی کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( ﮭ ﮮ ﮯ ﮰﮱ ﯓ ﯔ ﯕﯖ ) (سورۂ اِسراء:۷) اگر تم اچھے کام کرتے ہو تو اس کا فائدہ خود تمہیں ہی ہوگا اور اگر برائیاں کرتے ہو تو (اس کا نقصان) بھی تمہارے اپنے لئے ہی ہوگا۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۴۰–۱۴۱)
سوال:آپ کے غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے پر سب سے پہلے کس کوفائدہ ملتا ہے؟اور کیسے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 134

وَٱلۡكَٰظِمِينَ ٱلۡغَيۡظَ وَٱلۡعَافِينَ عَنِ ٱلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣٤

یعنی : جب ان کے دل غیظ وغضب سے بھرجاتے ہیں ،اس وقت وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پی جاتے ہیں ۔ اسی معنی میں کہا جاتا ہے: “کَظَمَ فُلَانٌ غَیْظَہ” یعنی غصہ کو گھونٹ بناکر پی لیا ۔اس طرح وہ غصہ کی حالت میں خود کو ایسے (جذباتی اور غصہ کے رد عمل والے) کام سے بچالیتا ہے، جسے کرگزرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے۔ (الطبری:۷؍۲۱۴)
سوال:آیت سے ان لوگوں کی ایک صفت نکالئے جو مغفرت اور جنت کی طرف لپکنے والے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 137

قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُمۡ سُنَنٞ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ١٣٧

یہ آیت علم تاریخ کی اہمیت پر روشنی ڈال رہی ہے کیونکہ اس میں دنیا کی سیر ،سفر اور زمین میں چلنے پھرنے کا فائدہ بتایا گیا ہے ۔اور وہ فائدہ ہے: پہلے لوگوں کی خبروں اور حالات کا جاننا۔ نیز قوموں کی بہتری اور بربادی کے اسباب بھی معلوم کرنا وغیرہ۔ (ابن عاشور:۴؍۹۷)
سوال:تاریخ کا مطالعہ کرنے اور اقوام واُمم کے احوال جاننے کی بڑی اہمیت ہے ۔آیت کریمہ کی مدد سے اس بات کی وضاحت کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 138

هَٰذَا بَيَانٞ لِّلنَّاسِ وَهُدٗى وَمَوۡعِظَةٞ لِّلۡمُتَّقِينَ ١٣٨

غرض (قرآن کا )یہ بیان ہر اُس شخص کو شامل ہے جو اسے سمجھ لے ۔ البتہ اس کی ہدایت اور وعظ ونصیحت صرف متقیوں کے لئے ہے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۴۳)
سوال: “البیان” تمام لوگوں کے لئے ہے اور ہدایت ونصیحت صرف متقی لوگوں کے لئے ہے۔اس بات کو آیت کی مدد سے بیان کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 139

وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٣٩

(وَلَا تَهِنُواْ) سست اور کمزور نہ بنو۔ یعنی:اپنے دشمنوں سے جہاد کرنے میں ۔جو حقیقت میں اللہ کے دشمن ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف تمہارے ساتھ ہے ۔ اور اگرچہ اُحد کے دن ،انہیں ایک قسم کا غلبہ حاصل ہوگیا تھا لیکن تم جلد ہی دیکھ لوگے کہ انجام کس کے حق میں ہوتا ہے ۔ (وَلَا تَحۡزَنُواْ) اور غم نہ کرو۔ یعنی:دشمنوں کی جانب سے تمہیں جو نقصان پہنچا ہے اس پر نہ اس کے علاوہ کسی مصیبت پر۔ جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ (أَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ) تم ہی سربلند اور برتر رہوگے۔یعنی دنیا اور آخرت دونوں جگہ۔ (إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ) اگر تم ایمان والے رہو۔ (البقاعی:۲؍۵۹)
سوال:کیا مومنوں کی وقتی(عارضی)پستی اور شکست ،ان کی سربلندی کے منافی (خلاف )ہے؟اسے واضح کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 139

وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١٣٩

اس آیت کے مطابق یہ فرض ہے کہ جب تک مسلمانوں کو قوت حاصل رہے ،دشمنوں سے صلح نہیں کی جائیگی اور اگر کسی علاقہ میں ان کی حالت دوسری ہو (قوت کی بجائے کمزوری یا اس جیسی کوئی حالت ہو ) تو حاکم یہ غور کریگا کہ مسلمانوں کے حق میں زیادہ مناسب وبہتر شکل کون سی ہے ؟ (اسی کو اختیار کرے۔) (ابن عطیہ:۱؍۵۱۳)
سوال:مسلمانوں کا کفار سے صلح کرنا کب صحیح ہوتا ہے؟