قرآن
ﮏ
ﰼ
ﭜ ﭝ ١٢٢ ١٢٢ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ١٢٣ ١٢٣ ﭫ ﭬ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ١٢٤ ١٢٤ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ
ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ
١٢٥ ١٢٥ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ
ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ١٢٦ ١٢٦ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ١٢٧ ١٢٧
ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ١٢٨ ١٢٨ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ١٢٩ ١٢٩ ﯨ
ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٣٠ ١٣٠ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ١٣١ ١٣١ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ١٣٢ ١٣٢
وَلَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدۡرٖ وَأَنتُمۡ أَذِلَّةٞۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ١٢٣
جب اللہ تعالیٰ نے غزوۂ اُحد کا قصہ ذکر کردیا تواس کے فوراًبعد بدر کا تذکرہ فرمایا ۔یہ اس وجہ سے کہ بدر کے دن مسلمان ، تعداد اور سامانِ جنگ دونوں اعتبار سے کم اور کمزور تھے جبکہ کفار بڑی بھاری تعداد اور بھرپور سامان وقوت رکھتے تھے ۔ (مگر) پھربھی اللہ تعالیٰ نے کافروں کے خلاف مسلمانوں کو فتح ونصرت عطافرمائی۔ چنانچہ یہ چیز اس بات کی انتہائی مضبوط دلیل بن گئی کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے اور صبر وتقویٰ کا دامن پکڑے رہنے کا یقینی نتیجہ اور فائدہ، نصرت، مدد او ر تائیدِ (غیبی ) ہوتا ہے۔ (القاسمی: ۲؍۴۰۲)
سوال:غزوۂ اُحد کے بعد سیاقِ کلام (سلسلۂ گفتگو) میں غزوۂ بدر کا ذکر لانے کی کیا وجہ ہے؟
بَلَىٰٓۚ إِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ وَيَأۡتُوكُم مِّن فَوۡرِهِمۡ هَٰذَا يُمۡدِدۡكُمۡ رَبُّكُم بِخَمۡسَةِ ءَالَٰفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ ١٢٥
اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ (اگر)صبر اور تقویٰ ہوگا، تو وہ فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائیگااور انہیں قوت دیگا اور ان سے لڑنے والے (برسرپیکار) دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کریگا۔ (ابن تیمیہ:۲؍۱۳۵)
سوال: صبر اور تقویٰ ایسے دواسباب ہیں جن سے مومن کی مددفرشتوں کے نزول کی صورت میں کی جاتی ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ لَكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦۗ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١٢٦
مطلب ہے: اللہ تعالیٰ نے جو فرشتوں کو اتارا اور تمہیں اس کی خبردی تو یہ محض تمہارے لئے خوشخبری ،دلجوئی اوراطمینان کی خاطر ہے ورنہ مدد تو اللہ کے پاس سے آتی ہے ۔اگر وہ چاہے تو ( فرشتے کیا) تمہارے بغیر بھی اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکتا ہے ۔ ان سے لڑنے بھڑنے کے لئے اللہ تمہارا محتاج نہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ مومنوں کو (دشمنوں سے) لڑنے (جہاد) کا حکم دینے کے بعدفرمایا: (ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ) (سورۂ محمد:۴) یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو (تمہارے بغیر) خود ان سے بدلہ لے لیتا لیکن وہ چاہتاہے کہ تمہارا ایک دوسرے کے ذریعہ امتحان لے لے۔ (ابن کثیر: ۱؍ ۳۸۰)
سوال:کیا ہمارا رب سبحانہ مجاہدین کا محتاج ہے؟مجاہد کو اس کے عمل کا کیا فائدہ ملتا ہے؟
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ لَكُمۡ وَلِتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦۗ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١٢٦
(وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ) اور اللہ نے اسے نہیں بنایا ۔یعنی اللہ نے جو وعدہ اور مدد کی ہے ۔ (إِلَّا بُشۡرَىٰ لَكُمۡ) مگروہ تمہارے لئے خوشخبری ہے۔ (وَلِتَطۡمَئِنَّ) تاکہ پر سکون ومطمئن ہوجائیں ۔ (قُلُوبُكُم بِهِ) اس سے تمہارے دل۔لہذا اپنے دشمنوں کی کثرتِ تعداد اور اپنی قلتِ تعداد سے گھبراؤ نہیں۔ (وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ) اور مدد تو دراصل اللہ کے پاس سے ہی ہے جو زبردست (کامل ) حکمت والا ہے۔یعنی: فتح کو فرشتوں اور فوج پر منحصر نہ سمجھو۔ (ان اسباب پر بھروسہ نہ کرلو) کیونکہ نصرت ومدد اصل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے ۔لہذا اسی سے مدد مانگواور اسی پر بھروسہ کرو۔اس لئے کہ غلبہ اور فیصلہ (عزت وحکمت) کا مالک بس وہی ہے۔ (البغوی:۱؍۴۱۵)
سوال:نصرت ومدد کا واحد سرچشمہ کیا ہے؟
وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١٢٦
لہٰذا تم اپنے پاس موجود اسباب پر اعتماد نہ کرلو کیونکہ اسباب توصرف دلوں کی تسلی کے لئے ہیں۔جبکہ حقیقی فتح و نصرت جس میں کوئی دورائے نہیں وہ اللہ کی مشیئت وارادہ سے ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے مدد کرے۔ چنانچہ اگر وہ چاہے تو ان کی مدد کرتا ہے جن کے ساتھ مقابلہ اور غلبہ کے اسباب ہوتے ہیں جیسا کہ مخلوق میں اللہ کی یہی سنت(جاری) ہے۔ (چنانچہ زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے )اور اگر اللہ چاہے تو کمزور ولاچار اور بے حیثیت لوگوں کی حمایت ومدد کرتا ہے،تاکہ بندوں کو معلوم ہوجائے کہ (کائنات کی)تمام چیزیں اسی کے ہاتھوں میں ہیں۔اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ (السعدی:۱۴۶)
سوال:مدد،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ہے۔مسلمانوں کو یہ خبر دینے کا کیا فائدہ ہے؟
لَيۡسَ لَكَ مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٌ
آیت میں اس بات کی رہنمائی اور ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چاہت بندوں کے اختیار پر غالب ہے ۔اور بندہ اس کا درجہ خواہ کتنا ہی بلند ہوجائے اور اس کی شان کتنی ہی اونچی ہوجائے کبھی کبھی ایک چیز کو پسند اور اختیار کرتا ہے، جبکہ بھلائی اور مصلحت دوسری چیز میں ہوتی ہے ۔ نیز آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو (اللہ کے کاموں اور)معاملات میں کوئی اختیارحاصل نہیں تھا ۔(اور جب رسول اللہ ﷺ کا یہ معاملہ ہے ) تو آپ کے علاوہ دوسرے لوگوں کا دامن بدرجۂ اولی ایسے اختیار وقدرت سے خالی ہوگا۔ چنانچہ اس میں ان لوگوں کی پرزورتردید ہے جو (اپنی حاجتوں کے لئے)انبیاء اور ان کے علاوہ اولیاء وصالحین سے لَو لگاتے ہیں ۔اور (آیت میں دلیل ہے کہ)یہ (عقیدہ وعمل) عبادت میں شرک ہے ۔اور عقل وسوجھ بوجھ کی کمی کی علامت ہے کہ ایسی ذات کو چھوڑدیتے ہیں جو تمام معاملات کا تنہا مالک ومختار ہے اور انہیں پکارتے ہیں جو معاملہ میں ذرہ برابر اختیار نہیں رکھتے۔ (السعدی: ۱۴۷)
سوال: مذکورہ آیت سے آپ اس شخص کی تردید کیسے کریں گے جو اللہ کے بجائے انبیاء وصالحین سے لَولگاتا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٣٠
اپنے اور سود سے اللہ کی ممانعت کی مخالفت کے بیچ بچاؤ کی دیوار کھڑی کرلو۔وہ اس طرح کہ دنیا کی محبت میں بے لگام ہونے اور اس پر فریفتہ ہونے سے بچتے رہو، تاکہ مقصد میں کامیاب ہونے کی تمہاری امید قائم رہے ۔ کیونکہ کائنات کا سارا وجود جس ذات کی ملکیت ہے، وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو وہ تمہیں اپنی سلطنت میں سے کچھ عطاکردے اور اگر تم کوتاہی برتو تو وہ تمہیں محروم کردے۔ (البقاعی:۲؍۱۵۲)
سوال:سود سے منع کرنے اور تقویٰ کا حکم دینے کے درمیان کیا تعلق ہے؟