قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ
ﭫ ﭬ ﭭ ٨٤ ٨٤ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ٨٥ ٨٥ ﭽ
ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ٨٦ ٨٦ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ
ﮗ ﮘ ﮙ ٨٧ ٨٧ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ٨٨ ٨٨ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٨٩ ٨٩ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ
ﯝ ﯞ ﯟ ٩٠ ٩٠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ
ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٩١ ٩١
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٨٥
آیت اسلام کے علاوہ تمام ادیان ومذاہب کو باطل قرار دیتی ہے ۔ (ابن جزی:۱؍۱۵۱)
سوال:آپ اس شخص کی تردید کیسے کریں گے جو کہتا ہے کہ:یہودیت ونصرانیت آسمانی مذاہب ہیں لہٰذا ان دونوں کے ذریعہ بندگی اختیار کرنے والے کو ہم کافر قرار نہیں دے سکتے؟
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٨٥
اللہ نے واضح کردیا کہ:اسلام ہی وہ دین ہے جسے اللہ پسند کرتا اور اپنے بندوں سے قبول کرتا ہے۔
اور یہ دین رضامندی اور قبولیت کا مقام اسی وقت پاسکتا ہے جب دل کی تصدیق ویقین کے ساتھ ظاہری عمل بھی شامل ہو ۔ورنہ قبولیت ورضائے الٰہی سے محروم ہوگا۔ (ابن تیمیہ:۲؍۹۶)
سوال:دین کب مقبول ہوتا ہے؟
كَيۡفَ يَهۡدِي ٱللَّهُ قَوۡمٗا كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ وَشَهِدُوٓاْ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقّٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ
تو یہ لوگ ہدایت کی توفیق سے محروم ہیں کیونکہ ہدایت پانے کی امید تو ایسے شخص کے لئے کی جاسکتی ہے جو حق کو جانتا اور پہچانتا نہیں لیکن وہ حق پانے کی تڑپ اور جذبہ رکھتا ہو ۔تو یہ شخص اس کے لائق ہے کہ اللہ اس کے لئے ہدایت کے اسباب اور راستے آسان کردے اور گمراہی کے اسباب سے بچالے۔( السعدی: ۱۳۷)
سوال:کن کافروں سے ہدایت وایمان کی توقع کی جاسکتی ہے؟
كَيۡفَ يَهۡدِي ٱللَّهُ قَوۡمٗا كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ وَشَهِدُوٓاْ أَنَّ ٱلرَّسُولَ حَقّٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ
یعنی:رسول اللہ ﷺ ان کے پاس جو دین وشریعت لے کر آئے ہیں اس کی سچائی پر حجتیں اور دلیلیں قائم ہوچکی ہیں اور معاملہ کی حقیقت ان کے سامنے کھل کر آچکی ہے ۔پھر بھی پلٹ کر شرک کے اندھیرے میں چلے گئے یعنی مرتد ہوگئے۔لہٰذا جب خود انہوں نے اندھے پن کا لباس پہن لیا ہے تو اللہ کی جانب سے ہدایت پانے کےمستحق کیسے ہوسکتے ہیں! (ابن کثیر:۱؍۳۵۹)
سوال:آیت میں جن لوگوں کا ذکرآیاہے وہ ہدایت کےمستحق کیوں نہیں ہیں؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّن تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ
یعنی انہیں ایسی توبہ کی توفیق نہیں ملتی جو قابلِ قبول ہوبلکہ اللہ تعالیٰ رسی ڈھیلی چھوڑکرانہیں سرکشی میں اور بڑھا دیتا ہے کہ وہ اسی میں بہکتے اور بھٹکتے رہتے ہیں۔ تو یہ ایسا شخص ہے جس نے خود ہی اپنے لئے رب کی رحمت کا راستہ روک لیا اور خود اپنے اوپر توبہ کا دروازہ بند کرلیا ہے۔ (السعدی: ۱۳۷)
سوال:جن لوگوں کا ذکر آیت میں آیا ہے ان کی توبہ قبول کیوں نہیں ہوتی؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡدَ إِيمَٰنِهِمۡ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّن تُقۡبَلَ تَوۡبَتُهُمۡ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلضَّآلُّونَ ٩٠
ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اس لئے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادیتا ہے لہٰذا وہ ایسی خالص اور سچی توبہ کرتے ہی نہیں جس پر قائم وبرقرار رہیں۔اور جو بگاڑ پیدا ہوگیا ہے توبہ کے بعداس کی اصلاح کرلیں ۔یا یہ کہ ان کی جانب سے کبھی توبہ کا وجودہی نہیں ہوگا کہ قبول کرنے کی نوبت آئے ۔یہ محرومی اس لئے ہے کہ ان لوگوں نے پہلی قسم کے لوگوں سے زیادہ ہٹ دھرمی دکھائی اور حد سے آگے بڑھ گئے۔ (البقاعی:۲؍۱۲۳)
سوال:جو شخص باربار ایمان لانے کے بعد کفر کرے ۔اس کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوتی؟
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡ أَحَدِهِم مِّلۡءُ ٱلۡأَرۡضِ ذَهَبٗا وَلَوِ ٱفۡتَدَىٰ بِهِۦٓۗ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٩١
ابوعمران رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:میں نے حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:“اللہ قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی شخص سے پوچھے گا:زمین میں جو کچھ بھی ہے ،اگر وہ سب تجھے مل جائے تو کیا تو،اسے سزا سے بچنے کے لئے فدیہ میں دے دیگا؟وہ کہے گا:ہاں،ضرور۔تب اللہ کہے گا:میں نے تجھ سے اس وقت جبکہ تو آدم (علیہ السلام)کی پشت میں تھا ،اس سے کہیں آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا وہ یہ کہ :تو میرے ساتھ ذرابھی شرک نہ کرنا۔لیکن تونہیں مانا اور میرے ساتھ شرک کئے بغیر نہیں رہا’’۔ (البغوی:۱؍۳۸۰)
سوال:قیامت کے دن سب سے ہلکے عذاب والے جہنمی سے کیا کہا جائیگا؟