قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢ ٣ ٣
٤ ٤
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥

. ﮖﮗﮘ ٦ ٦
604
سورۃ الإخلاص آیات 0 - 1

قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ١

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:“قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌتعدِل ثلث القرآن”۔ سورۂ اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اس حدیث کے مفہوم میں علماء کے مختلف اقوال ہیں: ایک قول تو یہ ہے کہ:یہ ثواب میں ہے یعنی جو یہ سورت پڑھے اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے جتنا اجر ملے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ: اس سے مراد وہ علوم اور معارف ہیں جن پر یہ سورت مشتمل ہے۔وہ اس طرح کہ قرآن میں بنیادی طور سے تین علوم ہیں:توحید،احکام اور واقعات۔ تو یہ سورت ان میں سے توحید پر مشتمل ہے۔اس اعتبار سے یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔اور یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ہے۔ (ابن جُزَی: ۲؍۶۲۴)
سوال:قرآن میں کون سے تین علوم ہیں؟اور سورۂ اخلاص کس علم پر مشتمل ہے؟

سورۃ الإخلاص آیات 0 - 2

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ ٢

(الصمد) ابن الانباری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل ِلغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صمد یعنی سب سے بڑا سردار جو کسی کا ماتحت نہ ہو اور سب لوگ اپنی حاجات اور معاملات میں اسی سے رجوع کرتے ہوں۔
زَجّاج کہتے ہیں: صمد یعنی وہ سردار جس پر سرداری کی انتہا ہوتی ہو اور سب ہر معاملہ میں اسی کا قصد کرتے ہوں۔
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب اس کے محتاج ہوں مگر وہ کسی کا محتاج نہ ہو۔(الألوسی: ۳۰؍۲۷۳–۲۷۴)
سوال(الصمد) کا معنی بتائیے؟

سورۃ الفلق آیات 0 - 5

وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ٥

حاسد کے معنی میں نظر بد لگانے والا بھی داخل ہے۔وجہ یہ ہے کہ نظر بد اسی کی لگتی ہے جو حسد کرتا ہو،بری نیت رکھتا ہواور خبیث النفس ہو۔(السعدی؍۹۳۷)
سوال:وضاحت کیجئے کہ کیا اس سورت میں نظر بدلگانے والے کا بھی تذکرہ ہے؟

سورۃ الناس آیات 0 - 3

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ ١ مَلِكِ ٱلنَّاسِ ٢ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ ٣

سورۂ فلق میں اللہ کی صرف ایک ہی صفت کے ذریعہ پناہ مانگی گئی ہے اور وہ (رَبِّ الفلق) جب کہ سورۂ ناس میں اللہ کی تین صفات کے ذریعہ پناہ مانگی گئی ہے حالانکہ سورۂ فلق میں تین امور سے پناہ مانگی گئی ہے اور سورۂ ناس میں ایک ہی امر سے۔ تو چونکہ یہ ایک امر بہت زیادہ خطرناک ہے اسی وجہ سے اللہ کی تین صفات کے ذریعہ پناہ مانگی گئی ہے۔ (الشنقیطی: ۹؍۱۸۳)
سوال:سورۂ فلق میں تین شر سے اللہ کی ایک ہی صفت کے ذریعہ پناہ مانگی گئی ہے جبکہ سورۂ ناس میں ایک ہی شر سے اللہ کی تین صفات کے ذریعہ پناہ مانگی گئی ہے۔ایسا کیوں؟

سورۃ الناس آیات 1 - 3

قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ ١ مَلِكِ ٱلنَّاسِ ٢ إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ ٣

اگر سوال کیا جائے کہ پہلے اللہ کی صفت ربوبیت پھر اس کی صفت بادشاہت اور پھر صفت الوہیت اس ترتیب سے کیوں ذکر کی گئی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تدریجی اسلوب ہے یعنی پہلے چھوٹا پھر اس سے بڑا اور پھر اس سے بڑا یعنی پہلے ادنیٰ اورپھر اعلیٰ کوذکر کیا جائے۔اس لئے کہ رب تو انسانوں میں سے بھی بہت سے لوگوں کو کہا جاتا ہے جیسے“رب الدار” گھر کا مالک اور اس طرح کے لفظ کا معنی میں مشترک ہونے کی وجہ سے اللہ نے اس سے شروع کیا۔پھر بادشاہ ہے تو اس لفظ سے بہت کم ہی لوگوں کو متصف کیا جاتاہے جوبادشاہ ہوتے ہیں اور یقینا وہ دیگر سارے لوگوں میں سب سے اعلیٰ ہوتے ہیں تو اس وجہ سے اس لفظ(مَلِكِ) کو (رَبِّ) کے بعد ذکر کیا اور (اِلٰهِ)بادشاہ سے بہت بلندہوتا ہے۔اسی وجہ سے بادشاہ اپنے الٰہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے اور حق تو یہ ہے کہ اللہ اکیلا الٰہ ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس جیسا کوئی ہے۔اسی وجہ سے سب سے آخر میں الٰہ کی صفت ذکر کی ہے۔ (ابن جُزی: ۲؍۶۳۱)
سوال:اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے(رَبِّ)پھر(مَلِكِ)اور آخر میں(اِلٰهِ) کا ذکر کیااس ترتیب کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ الناس آیات 0 - 4

مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ ٤

انسان کے دل میں شیطانی وسوسے کئی اقسام کے ہوتے ہیں: مثلاً ایمان خراب کرنا،عقائد میں شکوک پیداکرنا۔اگر شیطان اس میں کامیاب نہ ہوسکے تو گناہ کی رغبت دلاتا ہے،اگر اس میں ناکام رہے تو نیکیوں میں سستی کرواتا ہے،اگر یہ بھی نہ کرواسکے تو دل میں ریا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ عبادت ضائع ہوجائے،اگر انسان یہاں بھی محفوظ رہے تو اسے خود پسندی میں مبتلا کرتاہے اور وہ اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنے لگتا ہے۔اسی کے ساتھ وہ انسان کے دل میں حسد،بغض،کینہ اور غصہ کی آگ بھی بھڑکاتا ہے تاکہ اسے برے اعمال اور خراب حالتوں میں پہنچاسکے۔(ابن جزی: ۲؍۶۳)
سوال:انسان کے دل میں وسوسہ ڈالنے کے لئے شیطان کیسے کیسے طریقے اپناتا ہے؟

سورۃ الناس آیات 0 - 6

مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ ٦

اللہ نے بتایا کہ وسوسہ ڈالنے والا بعض دفعہ کوئی انسان بھی ہوتا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں:شیطان دوطرح کے ہوتے ہیں: جنی شیطان تو وہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور انسانی شیطان تو وہ علانیہ حملہ کرتا ہے۔
امام قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جنات میں سے شیطان ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی شیطان ہوتے ہیں تو آپ دونوں طرح کے شیاطین سے اللہ کی پناہ مانگا کیجئے۔ (القرطبی: ۲۲؍۵۸۳)
سوال:کیا انسانوں میں سے بھی شیطان ہوتے ہیں؟ اور ایک مومن کو ان کے تئیں کیا موقف اپنانا چاہئے؟