قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے




٧٨ ٧٨


ﭿ
٧٩ ٧٩


٨٠ ٨٠




٨١ ٨١

٨٢ ٨٢

٨٣ ٨٣
60
سورۃ آل عمران آیات 0 - 78

وَإِنَّ مِنۡهُمۡ لَفَرِيقٗا يَلۡوُۥنَ أَلۡسِنَتَهُم بِٱلۡكِتَٰبِ لِتَحۡسَبُوهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ

دراصل کتاب سے مطلوب یہ ہے کہ اس کے الفاظ یاد کئے جائیں،ان میں ردوبدل نہ کیا جائے ،اس کے معنی ومفہوم کو سمجھااور سمجھایا جائے لیکن ان یہودیوں نے معاملہ پوری طرح الٹ دیا اور اشارۃً یا پھر صراحتاً کتاب کے وہ مطالب سمجھائے جو مراد تھے ہی نہیں۔ (السعدی: ۱۳۶)
سوال:آیت نے اللہ کی کتاب کے ساتھ کھلواڑ اور تحریف کی ایک شکل بیان کی ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.

سورۃ آل عمران آیات 0 - 78

وَإِنَّ مِنۡهُمۡ لَفَرِيقٗا يَلۡوُۥنَ أَلۡسِنَتَهُم بِٱلۡكِتَٰبِ لِتَحۡسَبُوهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَمَا هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٧٨

(يَلۡوُۥنَ) زبان لپیٹتے اور موڑتے ہیں۔ اور(يَقُولُونَ) کہتے ہیں۔ان جیسے ان افعال کو مضارع یعنی حاضر کے صیغوں کے ساتھ لا یا گیا ہے تاکہ اس عمل کے باربار ہونے پر دلالت کریں نیز یہ بتانے کے لئے کہ یہ ان کی عادت تھی۔ (ابن عاشور:۳؍۲۹۲)
سوال:آیت کریمہ میں ذکرکردہ افعال‘مضارع کے صیغوں کے ساتھ کیوں آئے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 78

وَإِنَّ مِنۡهُمۡ لَفَرِيقٗا يَلۡوُۥنَ أَلۡسِنَتَهُم بِٱلۡكِتَٰبِ لِتَحۡسَبُوهُ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَمَا هُوَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ

تحریف کی تفسیرتنزیل یعنی نازل شدہ الفاظ کی تبدیلی وتحریف سے بھی کی گئی ہے اور تاویل یعنی معنی کی تبدیلی وتحریف سے بھی۔ رہی معنی کی تحریف تو یہ بہت زیادہ ہوتی رہی ہے ۔اور اس امت محمدیہ کے کئی گروہ اس برائی میں مبتلا ہوگئے۔او ر رہی تنزیل یعنی الفاظ کی تحریف تو بہت سے لوگوں میں اس نے راستہ اور جگہ بنالی چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے الفاظ میں تحریف کردیتے ہیں اور منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (ابن تیمیہ :۲؍۸۶)
سوال:وحی کی تحریف کی دوقسمیں ہیں۔وہ کیا ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 79

وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّٰنِيِّۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ ٧٩

یعنی:رب کے طریقہ کی تابعداری کرنے والے،زیورِ عمل سے آراستہ ،پورے علم کے ساتھ اسی رب کی طرف نسبت رکھنے والے ۔کیونکہ ربّانی وہ شخص ہے جو سختی کے ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین کی پابندی وپاسداری اور فرمانبرداری کرتا ہے۔ (البقاعی:۲؍۱۱۸)
سوال:( رَبَّٰنِيِّۧنَ) کے اوصاف کیا ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 79

وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّٰنِيِّۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ ٧٩

(رَبَّٰنِيِّۧنَ) سعید بن جُبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ربّانی وہ عالم ہے جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ :ربّانین ،احبار سے اونچے درجہ والے ہیں۔اور اَحبار علماء کو کہتے ہیں۔جبکہ ربانیّین وہ لوگ ہیں جو علم وبصیرت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سیاست یعنی معاملات کی تدبیر وانتظام بھی جانتے ہیں۔ (البغوی:۱؍۳۷۵)
سوال:آپ کس طرح ربانی عالم بن سکتے ہیں؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 79

وَلَٰكِن كُونُواْ رَبَّٰنِيِّۧنَ بِمَا كُنتُمۡ تُعَلِّمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ وَبِمَا كُنتُمۡ تَدۡرُسُونَ ٧٩

بیشک سیکھنے،پڑھنے کا فائدہ علم ہے اورعلم کا فائدہ عمل ہے اور اس میں لوگوں کو بھلائی پر ابھارنا،اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا یقین اور اس کا دھیان رکھنا بھی شامل ہے۔ (البقاعی:۲؍۱۱۸)
سوال:سبق پڑھنے اورعلم حاصل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ آل عمران آیات 0 - 81

وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلنَّبِيِّۧنَ لَمَآ ءَاتَيۡتُكُم مِّن كِتَٰبٖ وَحِكۡمَةٖ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مُّصَدِّقٞ لِّمَا مَعَكُمۡ لَتُؤۡمِنُنَّ بِهِۦ وَلَتَنصُرُنَّهُۥۚ قَالَ ءَأَقۡرَرۡتُمۡ وَأَخَذۡتُمۡ عَلَىٰ ذَٰلِكُمۡ إِصۡرِيۖ قَالُوٓاْ أَقۡرَرۡنَاۚ قَالَ فَٱشۡهَدُواْ وَأَنَا۠ مَعَكُم مِّنَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٨١

علی ،ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ان دونوں کے علاوہ متعدد علماء سلف سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ :اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے زمانہ سے کسی بھی نبی کو یہ عہد وپیمان لئے بغیر نہیں بھیجا کہ اگر محمد ﷺ تمہارے جیتے جی مبعوث ہوں تو تم ان پر ضرور ایمان لاؤگے اور ان کی مدد بھی ضرور کروگے نیز اللہ نے ہر نبی کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی امت سے یہ عہد لے لیں :اگر محمد ﷺ مبعوث ہوں اور وہ لوگ زندہ ہوں تو ان پر ضرور ایمان لائیں گے اور لازمی طور سے ان کی مدد کریں گے۔ (ابن تیمیہ:۲؍۸۸)
سوال: محمد ﷺ کا مقام بیان کیجئے؟