قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



٣٠ ٣٠


٣١ ٣١

٣٢ ٣٢



٣٣ ٣٣

٣٤ ٣٤


٣٥ ٣٥


٣٦ ٣٦

ﯿ ٣٧ ٣٧
6
سورۃ البقرہ آیات 0 - 30

وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ

یہ آیت اس مسئلہ كی اصل بنیاد ہے کہ مسلمانوں کاایساامام اور خلیفہ مقرر کیا جائے ،جس کی بات سنی اور مانی جائے، جس کے ذریعہ مسلمان متحد ہوسکیں، اور خلیفہ کے احکامات نافذ ہوسکیں۔اس حکم کی فرضیت میں امت اور ائمہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔(القرطبی:۱؍۳۹۵)
سوال:امت کا بغیر امام کے باقی رہناایسی غلطی ہے جس پر تمام افرادِ امت گنہگار ہوتے ہیں۔اس لئے کہ امام کا نہ ہونابہت سی خرابیوں کا سبب ہے ۔اس بات کو آیت کی روشنی میں واضح کیجئے.

سورۃ البقرہ آیات 0 - 30

أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ

يه دوسبب(زمین میں فساد اور خونریزی)جوفرشتوں نے ذکر کیے هيں،اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انہی دونوں کے بدلے میں قتل کی سزا مقرر کی تھی۔ (ابن تیمیہ:۱؍۱۹۲)
سوال:کون سے دوسبب ہیں کہ جب وہ عام ہوجاتے ہیں تو قوموں کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیتے ہیں؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 30

أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَۖ

فرشتوں کا یہ قول بطور اعتراض تھا نہ ہی انسانوں سے حسد کے طور پر تھا، بلکہ یہ محض انسانی خلافت کی حکمت معلوم کرنے اور اس کا راز جاننے کے لئے پوچھا گیا ایک سوال تھا۔(ابن کثیر:۱؍۶۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے سوال پر اس کی سرزنش کی مگر فرشتوں کے سوال پران کی سرزنش وملامت کیوں نہیں کی؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 30

قَالُوٓاْ أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ

(أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا)کیا تو زمین میں انہیں بسائیگا جو اس میں فساد برپاکریں گے!)یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے۔
(وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ)اور خوں ریزی کریں گے۔یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے (فساد پھیلانے کے عمومی معنی میں خون بہانا بھی آجاتا ہے لیکن اسے بطور خاص ذکر کیا)جس کا مقصد قتل وخونریزی سے پیدا ہونے والے فساد وبگاڑ کی شدت کا اظہار ہے۔ (السعدی:۴۸)
سوال:خوں ریزی کو بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا جب کہ وہ فساد پھیلانے میں داخل ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 32

قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ٣٢

اگرکسی سےکسی مسئلے کے بارے میں سوال کیا جائے اور اسے مسئلہ کا علم نہ ہوتو اس پر واجب ہے کہ وہ فرشتوں،نبیوں اورفاضل علماء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کہہ دے: ‘‘اَﷲُ أَعْلَمُ’’(اللہ بہتر جانتا ہے)اور ‘‘لَاأَدْرِیْ’’(میں نہیں جانتا)لیکن نبی صادق ﷺ کی پیشن گوئی ہے کہ علماء کی موت کے ذریعہ علم اٹھالیا جائیگا،اس کے بعد جاہل لوگ باقی رہ جائیں گے ،ان سے فتویٰ پوچھاجائیگا تو اپنی رائے سے ہی فتویٰ دے دیں گے ،چنانچہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔( القرطبی:۱؍۴۲۵)
سوال:فرشتوں کے قول(سُبۡحَٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ إِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَآ)سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 35

وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٣٥

جب اس درخت کے پاس جانا ہی ممنوع تھا تو اس کاپھل کھانا،بدرجۂ اولیٰ ممنوع ہوا۔درخت کے قریب ہونے سے روکنادراصل سدِّ ذریعہ(ممنوع کام تک لے جانے والے راستے اور دروازے بند کرنے)کے لئے تھا ۔اس طرح یہ آیت قاعدۂ‘‘سدِّ ذرائع’’ کے سلسلہ میں اصل اور بنیاد ہے۔(ابن جزی:۱؍۶۲)
سوال:گناہوں سے بچنے کے سلسلہ میں مثالی طریقہ کیا ہے؟

سورۃ البقرہ آیات 0 - 37

فَتَلَقَّىٰٓ ءَادَمُ مِن رَّبِّهِۦ كَلِمَٰتٖ فَتَابَ عَلَيۡهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ٣٧

اللہ کی رحمت ،اس کے غضب پر غالب اور مقدم ہے چنانچہ (دیکھئے کہ)وہ عین غضب کی حالت میں بھی اپنے بندے کے ساتھ رحم وکرم کا برتاؤ کرتا ہے۔جیسا کہ(مذکورہ واقعہ میں نظر آرہا ہے کہ ) آدم (علیہ السلام) کے جنت سے نیچے اترنے کو ہی ان کی بلندی کا ذریعہ بنادیا اور ان کی دوری کو نزدیکی کا ذریعہ (یعنی غلطی دوری کا سبب تھی تو توبہ کو قربت کا وسیلہ بنادیا)پس پاک ہے وہ جو توبہ قبول کرنے والاہے!وہ کتنا بندہ نواز ہے اور اس کی رحمت كتنی عظیم ہے!(الألوسی:۱؍۲۳۸)
سوال: آدم (علیہ السلام) کا قصہ جاننے کے بعد ہم اللہ سبحانہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوسکتے۔اس بات کی وضاحت کیجئے.