قرآن
ﰏ
ﱖ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٦ ٦ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٧ ٧ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ
ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ٨ ٨
ﰐ
ﮏ ﮐ ﮑ ٣ ٣ ﮓ ﮔ ﮕ ٤ ٤ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
٥ ٥ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ٦ ٦ ﮣ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ٧ ٧ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ٨ ٨
ﰑ
ﯙ ٣ ٣ ﯛ ﯜ ﯝ ٤ ٤ ﯟ ﯠ ﯡ ٥ ٥
رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ
اللہ ان کی ہر تمنا اور خواہش پوری کردیگا کہ ان کی اور کوئی آرزو بچے گی ہی نہیں۔اور وہ یقین رکھیں گے کہ یہ سب خالص اللہ کا فضل ہے ورنہ اس پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں ہوتا لیکن لوگ کما حقہ اللہ کی قدر نہیں کرتے۔اگر اللہ مخلوق کو اس کے گناہوں کے سبب پکڑلے تو سب کو ہلاک کردے۔ ان مومنوں پر اللہ کا سب سے بڑا احسان تو یہ ہوا کہ اس نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی توفیق بخشی اور وہی ہر خیر کا ذریعہ ہے۔ (البقاعی: ۲۲؍۱۹۸)
سوال:اللہ کا یہ فرمان (رضي الله عنه ورضوا عنه)کس امر پر دلیل ہے؟
جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ ٨
اللہ کا ڈر حقیقی سعادت کی بنیاد اور بلند مرتبے کے حصول کی ضمانت ہے اس لئے کہ اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتو کوئی گناہ اور نافرمانی سے رک نہیں سکتااور نہ اس دن کے لئے تیاری کرسکتا ہے جس دن مجرموں کی پیشانیوں اور پیروں کو پکڑ لیا جائیگا۔ (الالوسی: ۱۵؍۴۳۱)
سوال:خشیت کاکیا معنی ہے؟
جَزَآؤُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهُۥ ٨
جو اپنے رب سے کما حقہ ڈریگا وہ ہر اس حرکت سے باز آجائیگا جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور نامناسب ہو۔اللہ کی آیات میں طعن کریگا اور نہ انہیں قبول کرنے سے ہچکچائے گا۔حق تو یہ ہے کہ اللہ کا ڈر دل سے نکل جائے تودل برباد ہوجاتا ہے۔(البقاعی: ۲۲؍۱۹۹)
سوال:بندے کا اپنے رب سے ڈرنے کی کیا علامت ہے؟
يَوۡمَئِذٖ تُحَدِّثُ أَخۡبَارَهَا ٤
زمین اپنے اوپراچھائی اور برائی کرنے والوں کے حق میں یا ان کے خلاف گواہی دیگی کیونکہ زمین ان گواہوں میں شامل ہے جو بندوں کے اعمال کی گواہی
دیں گے۔(السعدی؍۹۳۲)
سوال:اس آیت سے آپ کو کون سا عملی فائدہ ہوتا ہے؟
يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْۗ ٦
قیامت کے دن ہر شخص اپنے کو ملامت کریگا اگر نیک ہوگا تواس وجہ سے کہ مزید نیکیاں کیوں نہ کیں؟اور اگر بدکار ہوا تو پچھتائیگا کہ کاش برائیاں نہ کی ہوتیں۔ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ ثواب اور عذاب کو دیکھیں گے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (أشتاتا) یعنی اپنے اعمال کے اعتبار سے الگ الگ۔ (القرطبی: ۲۲؍۴۳۷)
سوال: کیا قیامت کے دن تمام لوگ اپنے آپ کو ملامت کریں گے؟ اور کیوں؟
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ ٨
( مِثْقَالَ )یعنی وزن اور (ذَرَّةٍ)چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں۔ دیکھنایہاں آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں نہیں بلکہ بدلے کے معنی میں ہے اور اللہ نے چیونٹی کے وزن جتنا کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اس سے زیادہ او ر بڑے کی جزا اور سزا بدرجہ اَولیٰ ملے گی گویا یوں کہا گیاکہ تھوڑا عمل ہو یازیادہ۔(ابن جزی: ۲؍۶۰۰)
سوال:آیت میں(مِثْقَالَ ذَرَّةٍ) کہہ کر کیا مرادلیا گیا ہے؟
فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧ وَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖ شَرّٗا يَرَهُۥ ٨
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(اِن اللہ لا یظلم المؤمن حسنۃيثاب علیہا الرزق فی الدنیا ویجزی بہا فی الآخرۃ، وأما الکافر فیعطِیہ بہا فی الدنیا،فاذا کان یوم القیامۃ لم تکن لہ حسنۃ)۔اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا دنیامیں بھی اس پر نوازتا ہے اور آخرت میں بھی اس کا بدلہ دے گا لیکن کافر کوتو دنیا میں ہی اس کی ہر نیکی کا بدلہ دے دیتا ہے لہٰذا قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا بدلہ مل سکے۔ (الطبری:۲۴؍۵۵۳)
سوال:اللہ تعالیٰ عادل ہے کسی پر ظلم نہیں کرتاتو آخر ایسا کیوں ہوگا کہ کافر دنیا میں کی گئی اپنی نیکیوں کا آخرت میں کوئی بدلہ نہیں پائیگا؟واضح کیجئے.