قرآن
ﰍ
ﱖ
ﭠ ﭡ ١٥ ١٥ ﭣ ﭤ ﭥ ١٦ ١٦ ﭧ ﭨ ١٧ ١٧
ﭪ ﭫ ١٨ ١٨ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ١٩ ١٩
ﰎ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ٣ ٣ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٤ ٤ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ٥ ٥
ﰏ
ﮡ ﮢ ١ ١ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ٢ ٢ ﮫ ﮬ
ﮭ ٣ ٣ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ٤ ٤ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٥ ٥
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ ١
دن کے بجائے رات میں قرآن کا نزول یہ بتاتا ہے کہ رات کو خاص فضیلت حاصل ہے۔قرآن اور سنت میں اس کی اور مثالیں بھی موجودہیں: مثلاً اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا﴾ [الإسراء: 1]، پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔ یہ فرمان:﴿وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةً لَّكَ﴾ [الإسراء: 79]،رات کے کچھ حصہ میں نماز تہجد میں قرآن پڑھئے،یہ آپ کے لئے زائد نماز ہوگی۔یہ فرمان: ﴿وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَأَدۡبَٰرَ ٱلسُّجُودِ﴾ [ق: 40]، رات میں اللہ کی پاکی بیان کیجئے اور سجدوں کے بعد بھی۔یہ فرمان: ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡـٔٗا وَأَقۡوَمُ قِيلًا﴾ [المزمل: 6]، بے شک رات کا قیام نفس کو خوب کچل دیتا ہے اور قرآن سمجھنے کے لئے زیادہ مناسب وقت ہے۔ نیزیہ فرمان:﴿كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ﴾ [الذاريات: 17]. وہ متقی لوگ راتوں کو بہت کم سوتے تھے۔
اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان:“ینزل ربنا تبارك وتعالیٰ الی السماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الآخر”۔(متفق علیہ)جب رات کا آخری تیسرا پہر باقی رہتا ہے تو ہمارا رب تبارک وتعالیٰ آسمان ِدنیا پر نزول فرماتا ہے۔
یہ آیات واحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رات میں بندوں کے لئے انوار وبرکات ِالٰہی اور فیضان ربی کا نزول زیادہ ہوتا ہے وہ اس وجہ سے کہ رات میں سکون ہوتا ہے،دن کی طرح مشغولیات نہیں ہوتیں،دنیا کی فکروں سے دل خالی ہوتا ہے او ر رات کا خوف بھی دل کی لگن اور صفائی میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ (الشنقیطی: ۹؍۳۸)
سوال:قرآن کو خصوصیت سے رات میں نازل کرنے کا سبب واضح کیجئے.
إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةِ ٱلۡقَدۡرِ ١
(أنزلناه)میں ضمیر قرآن کے لئے ہے، سیاق اس بات پر دلالت کرتا ہے۔
اس آیت میں تین وجوہ سے قرآن کی تعظیم کی دلیل ہے:پہلی وجہ:ضمیر کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا نام نہیں لیا گیایہ قرآن کی شہرت پر دلیل ہے اور اس بات کی غماز کہ نام لئے بغیربھی وہ معروف ہے۔
دوسری وجہ:اللہ نے قرآن کے نزول کے لئے افضل ترین وقت منتخب کیا۔
تیسری وجہ: اللہ نے اس کے نزول کو خود اپنی جانب منسوب کیا۔(ابن جُزی: ۲؍۵۹۳)
سوال:آیت میں قرآن کی تعظیم کی کئی وجوہ ہیں۔بیان کیجئے.
لَمۡ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأۡتِيَهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ ١
اس آیت میں اہل ِکتاب کے حد سے زیادہ ٹیڑھے ہونے کی دلیل ہے۔ وہ علم والے تھے توجاہل مشرکین کے مقابلہ میں ہدایت پر اکٹھا ہونا ان کے لئے زیادہ لائق تھا۔اس سے یہ بھی دلیل ملتی ہے کہ جاہل کی بہ نسبت عالم زیادہ ہٹ دھرم اور مخالفت میں سخت ہوتاہے۔(البقاعی:۲۲؍۱۹۲)
سوال:سرزنش کرنے میں مشرکین سے پہلے اہل ِکتاب کو کیوں ذکر کیا گیا؟
وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَةُ ٤
سورت کی شروعات میں اہل کتاب کے ساتھ دوسروں کا بھی ذکر تھا مگر یہاں صرف اہل ِکتاب کو ذکر کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی کتابوں میں ایسی آیات پڑھتے تھے جن میں نبیﷺ کا تذکرہ تھا اس طرح وہ نبیﷺ کی نبوت کی سچائی سے واقف تھے۔(ابن جزی: ۲؍۵۹۷)
سوال:سورت کی شروعات میں اہل ِکتاب کے ساتھ دوسروں کا بھی تذکرہ ہے مگر یہاں صرف اہل ِکتاب کو ہی کیوں ذکر کیا گیا؟
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ ٥
(وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء) یعنی شرک سے منہ موڑکر توحید کی طرف (ويقيموا الصلاة) نماز دین کی اشرف ترین عبادت ہے (ويؤتوا الزكاة) زکاۃ کا مقصد فقراء او ر حاجت مندو ں کے ساتھ احسان کرنا ہے (وذلك دين القيمة) یعنی مضبوط اور انصاف پر مبنی ملت ہے۔ یا درست اور معتدل ملت ہے۔
بہت سے ائمہ کرام رحمہم اللہ مثلاً زہری اور شافعی وغیرہ نے اس آیت سے دلیل پکڑی ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۴۰)
سوال:یہ آیت کریمہ اہل سنت والجماعت کے اس مذہب پر کس طرح دلالت کرتی ہے کہ: ایمان دل سے تصدیق،زبان سے اقراراور اعضاء سے عمل کرنے کا نام ہے؟
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ ٥
نماز اور زکاۃ عبادت کے عام مفہوم میں داخل ہیں،اس کے باوجود خصوصیت سے ان کا تذکرہ ان کی فضیلت اور شرف کی وجہ سے ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو اِن دونوں عبادات کو کما حقہ ادا کریگا وہ دین کے تمام احکام پر صحیح طور سے عمل پیرا ہوگا۔ (السعدی؍۹۳۲)
سوال:عبادت کے مفہوم میں نماز اور زکاۃ کے داخل ہونے کے باوجود انہیں خاص طور سے کیوں ذکر کیا گیا؟
وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ
اس میں دلیل ہے کہ عبادات میں نیت ضروری ہے اس لئے کہ اخلاص دل کا عمل ہے او ر وہ یہ ہے کہ عبادت کا مقصود صرف اللہ کی رضا ہو کچھ اور نہیں۔
(القرطبی:۲۲؍۲۱۴)
سوال:وہ کون سا عظیم اصول ہے جس پر یہ آیت دلالت کررہی ہے؟