قرآن
ﰆ
ﱖ
ﭙ ﭚ ٢٣ ٢٣ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٢٤ ٢٤ ﭡ
ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ٢٥ ٢٥ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ٢٦ ٢٦ ﭬ
ﭭ ﭮ ٢٧ ٢٧ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ٢٨ ٢٨
ﭶ ﭷ ﭸ ٢٩ ٢٩ ﭺ ﭻ ٣٠ ٣٠
ﰇ
٣ ٣ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٤ ٤ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ٥ ٥ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ٦ ٦ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
٧ ٧ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ٨ ٨ ﮨ ﮩ ٩ ٩ ﮫ
ﮬ ١٠ ١٠ ﮮ ﮯ ﮰ ١١ ١١ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ١٢ ١٢
ﯘ ﯙ ١٣ ١٣ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ١٤ ١٤ ﯢ ﯣ ﯤ
١٥ ١٥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ١٦ ١٦ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ١٧ ١٧ ﯵ ﯶ ﯷ ١٨ ١٨
يَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي قَدَّمۡتُ لِحَيَاتِي ٢٤
گناہگار اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوگا اور اطاعت گزار چاہیگا کہ کاش! اس نے اور زیادہ نیکیاں کرلی ہوتیں۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۱۱)
سوال:کیا قیامت کے دن صرف گناہگار ہی شرمندہ ہوگا؟وضاحت سے جواب دیجئے.
يَٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ ٢٧ ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ ٢٨
وہ دل جو اللہ کی بات پر اس طرح یقین رکھتا تھا کہ اس پر مطمئن تھا،اس کا یقین اتنا مضبوط تھا کہ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔
یہ بھی کہا گیا ہے: مراد وہ مطمئن نفس ہے جسے اُس وقت کوئی خوف نہیں ہوگا۔(ابن جزی: ۲؍۵۷۲)
سوال:نفس میں کون سی صفت ہے جس سے وہ اللہ کی رضا کی حقدار ہوتی ہے؟
لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِي كَبَدٍ ٤
اس سے مراد وہ تکلیفیں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا میں،برزخ میں جھیلتا ہے اور قیامت کے دن جھیلے گاچنانچہ انسان کے لئے یہی مناسب ہے کہ ایسے کام کرنے کی کوشش کرے جو اسے ان تکلیفوں سے نجات دلاسکیں اور اسے ہمیشہ کی خوشی اور سکون کا حقدار بناسکیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہےتو ہمیشہ ہمیشہ شدید عذاب میں ہی مبتلا رہے گا۔ (السعدی:۹۲۵)
سوال:کیا مصیبتیں انسان کو صرف دنیوی زندگی میں ہی لاحق ہوتی ہیں؟اور وہ کون سے ذرائع اختیار کرکے اپنے آپ کو مصیبتوں سے نجات دلاسکتا ہے؟
يَقُولُ أَهۡلَكۡتُ مَالٗا لُّبَدًا ٦
شہوت پرستی اور گناہوں میں مال خرچ کرنے کو اللہ نے مال ہلاک کرنے سے تعبیر کیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ان جگہوں میں خرچ کرنے والا اپنے مال سے صحیح فائدہ نہیں اٹھاپاتا اور اسے اس خرچ کے عوض ندامت،نقصان،تھکاوٹ اور مال میں کمی کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ (السعدی؍۹۲۵)
سوال:گناہوں میں مال خرچ کرنے کوخرچ کرنے کے بجائے “مال ہلاک کرنا” کیوں کہا گیا ہے؟
أَلَمۡ نَجۡعَل لَّهُۥ عَيۡنَيۡنِ ٨ وَلِسَانٗا وَشَفَتَيۡنِ ٩ وَهَدَيۡنَٰهُ ٱلنَّجۡدَيۡنِ ١٠
ان عظیم نعمتوں کا تقاضہ ہے کہ بندہ اللہ کے حقوق ادا کرے،اس کی نعمتوں پر شکربجالائے اور اس کی نافرمانی میں انہیں استعمال نہ کرے۔ (السعدی؍۹۲۵)
سوال:آپ نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو آنکھوں،زبان اور ہونٹوں کی نعمت سے نوازا ہے اور وہی ہے جس نے آپ کے لئے خیر و شر کے راستے کو واضح کیا تو اب ان نعمتوں کے تئیں آپ کا عملی اقدام کیا ہونا چاہئے؟
فَلَا ٱقۡتَحَمَ ٱلۡعَقَبَةَ ١١ وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡعَقَبَةُ ١٢
گھاٹی کہہ کر اس کے بعد مذکور نیک اعمال مراد لئے گئے ہیں اور انہیں پہاڑ کی گھاٹی سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی انجام دہی مشکل ہے جیسے کہ پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہوتا ہے۔(ابن جزی: ۲؍۵۷۴)
سوال:اعمال صالحہ کو گھاٹی سے تعبیر کرنے میں کیاراز ہے؟
يَتِيمٗا ذَا مَقۡرَبَةٍ ١٥
(ذا مقربة) قرابت دار کو خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ یہ بتانا ہے کہ اسے کھاناکھلانا دوسرے کو کھلانے سے زیادہ افضل اور اچھا ہے اور اسی معنی میں یہ حدیث ہے:“ان الصدقۃ علی القریب صدقۃ وصلۃ، وعلی البعید صدقۃ فقط”۔ رشتے دار کو صدقہ دیا جائے تو صدقہ اور صلہ رحمی دونوں ہوں گی اور غیررشتہ دار کو دیا جائے تو صرف صدقہ ہوگا۔(الشنقیطی: ۸؍۵۳۳)
سوال:کھانا کھلانے میں قرابت دار یتیم کا خصوصی ذکر کیوں کیا گیا؟