قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

ﰃ

ﱖ

Surah Header

ﰃ

ﭦﭛﭣﭤ
ﭑ ﭒ ١ ١ ﭔ ﭕ ﭖ ﭗ ٢ ٢ ﭙ ﭚ
٣ ٣
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٤ ٤ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ٥ ٥
ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٦ ٦
ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ٧ ٧ ﭳ ﭴ
ﭵ ﭶ ٨ ٨
ﭸ ﭹ ﭺ ٩ ٩ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
١٠ ١٠
ﮃ ﮄ ﮅ ١١ ١١ ﮇ ﮈ ﮉ ١٢ ١٢ ﮋ
ﮌ ﮍ ١٣ ١٣
ﮏ ﮐ ﮑ ١٤ ١٤ ﮓ ﮔ ﮕ ١٥ ١٥
ﮗ ﮘ ١٦ ١٦
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ١٧ ١٧
Surah Header

ﰄ

ﭦﭛﭣﭤ
ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ١ ١ ﮤ ﮥ ﮦ ٢ ٢ ﮨ ﮩ ﮪ
٣ ٣
ﮬ ﮭ ﮮ ٤ ٤ ﮰ ﮱ ﯓ ٥ ٥ ﯕ
ﯖ ﯗ ٦ ٦
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٧ ٧ ﯤ
ﯥ ٨ ٨
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ٩ ٩ ﯬ ﯭ ﯮ ١٠ ١٠
591
سورۃ الطارق آیات 0 - 9

يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ ٩

انسان کی چھپی ہوئی باتیں نکال کر ظاہر کردی جائیں گی۔ہر وہ اچھائی یا برائی جو انسان چھپاتا ہے اور اسی طرح اس کے سینہ میں چھپا ہوا ایمان اور کفر بھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ راز کو ظاہر کردیگا، اس سے بہت سے لوگوں کی عزت بڑھ جائیگی اور بہت سے لوگ ذلیل ہوجائیں گے۔(القرطبی: ۲۲؍۲۱۲–۲۱۴)
سوال:قیامت کے دن بندے کے راز کیسے فاش ہوجائیں گے؟

سورۃ الطارق آیات 0 - 9

يَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَآئِرُ ٩

آیت میں‘‘اعمال’’ کو(السَّرَآىِٕرُ)یعنی راز کہنے میں ایک نکتہ ہے،وہ یہ کہ اعمال دل کے چھپے ہوئے رازوں کا نتیجہ ہوتے ہیں تو اب جس کا باطن نیک ہو اس کے اعمال بھی نیک ہوں گے تو اس کے راز قیامت کے دن اس کے چہرے پرنور،روشنی اور حیاء بن کر جھلکیں گے۔اس کے برخلاف جس کا باطن فاسد ہوتا ہے‘ اس کے اعمال بھی اس کے باطن کے تابع ہوتے ہیں اور اس کی صورت کا کوئی اعتبار نہیں ہوتااور اس کی باطنی گندگی اس کے چہرے پر تاریکی، وحشت اور شرمندگی بن کر ابھرے گی۔گرچہ دنیا میں ہمیں لوگوں کے ظاہری اعمال نظر آتے ہیں ان کا باطن ہم نہیں جان سکتے مگر قیامت کے دن لوگوں کے باطن کھل کر سامنے آجائیں گے تو اسی کے اعتبار سے حکم بھی لگے گا۔ (ابن القیم: ۳؍۲۸۸–۲۸۹)
سوال:باطن کی اصلاح کی کیا اہمیت ہے؟

سورۃ الطارق آیات 0 - 10

فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٖ وَلَا نَاصِرٖ ١٠

قیامت کے دن کافر کو کوئی قوت حاصل نہیں ہوگی جو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی مضبوط گرفت سے بچاسکے اور نہ کوئی مددگار ہوگا جو اس کی مدد کرکے اسے اس آفت اوردکھ سے نجات دلاسکے۔حالانکہ یہی کافر دنیا میں اپنے خاندان اور قبیلے کی مدد سے دشمن سے بچ جایا کرتا تھا اور کسی ظالم یا حق چھیننے والے کے خلاف اپنے کسی حلیف کی مدد سے غلبہ پالیتا تھا۔(الطبری: ۲۴؍۳۵۹)
سوال:قیامت کے دن بندے کو نہ کوئی قوت حاصل ہوگی اور نہ اس کا کوئی مدد گار ہوگا۔اس بات کو واضح کیجئے.

سورۃ الطارق آیات 15 - 16

إِنَّهُمۡ يَكِيدُونَ كَيۡدٗا ١٥ وَأَكِيدُ كَيۡدٗا ١٦

اس سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ کون غالب ہوگا! کیونکہ آدمی اس سے کہیں زیادہ کمزور اور حقیر ہے کہ مکمل علم رکھنے والے طاقتور اللہ پر غلبہ پاسکے۔ (السعدی؍۹۲۰)
سوال:کافر اور گمراہ لوگ ہر آن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چالیں چلتے اورسازشیں کرتے رہتے ہیں۔اب اس آیت میں غور کرکے بتائیے کہ غالب کون ہوگا؟

سورۃ الأعلى آیات 0 - 8

وَنُيَسِّرُكَ لِلۡيُسۡرَىٰ ٨

ہم آپ کے لئے اچھی باتیں اور نیک اعمال آسان کردیں گے اور آپ کو ایسی شریعت سے نوازیں گے جو آسان،عمدہ،بالکل سیدھی اور مبنی بر انصاف ہے، اس میں کوئی ٹیڑھاپن ہے،نہ تنگی اور نہ مشکل۔ (ابن کثیر: ۴؍۱۰۵)
سوال:اس آیت کریمہ سے اسلام کے آسان اور بہترین دین ہونے کو واضح کیجئے.

سورۃ الأعلى آیات 0 - 9

فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ ٩

نصیحت کیجئے جہاں وہ فائدہ مند ہو۔ اس سے علم سکھانے کا ایک ادب سمجھا جاسکتا ہے وہ یہ کہ جو علم کے لائق نہ ہو اسے علم نہ دیا جائے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ لوگوں سے ایسی کوئی حدیث بیان کریں جو اُن کی سمجھ میں نہ آئے تو یقینا وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “لوگوں سے وہی بات کرو جنہیں وہ سمجھ سکتے ہوں کیا تم چاہوگے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا جائے”!۔ (ابن کثیر: ۴؍۵۰۱)
سوال:اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: (إن نفعت الذكرى) طالب ِعلم کا ایک ادب بتاتا ہے۔وہ کیا ہے؟

سورۃ الأعلى آیات 9 - 10

فَذَكِّرۡ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكۡرَىٰ ٩ سَيَذَّكَّرُ مَن يَخۡشَىٰ ١٠

مفید نصیحت یہی ہے کہ آدمی پر اس نصیحت کا اثر ظاہر ہو،اگر کسی پسندیدہ چیز کے حصول کی نصیحت ہو تو آدمی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ نصیحت کسی تکلیف دہ چیز سے بچنے کی ہو تو آدمی اس سے بچے۔(ابن تیمیہ: ۶؍۵۰۲)
سوال:آیت میں نصیحت کو ڈر کے ساتھ کیوں جوڑا گیا ہے؟