قرآن
ﰀ
ﱖ
ﭙ ﭚ ٣٥ ٣٥ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٣٦ ٣٦
ﰁ
٣ ٣ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ٤ ٤ ﭴ ﭵ ﭶ ٥ ٥ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ٦ ٦ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ٧ ٧ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ٨ ٨ ﮌ
ﮍ ﮎ ﮏ ٩ ٩ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٠ ١٠ ﮘ
ﮙ ﮚ ١١ ١١ ﮜ ﮝ ١٢ ١٢ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ١٣ ١٣
ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ١٤ ١٤ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ١٥ ١٥ ﯔ ﯕ
ﯖ ١٦ ١٦ ﯘ ﯙ ﯚ ١٧ ١٧ ﯜ ﯝ ﯞ ١٨ ١٨
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ١٩ ١٩ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ٢٠ ٢٠ ﯪ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ٢١ ٢١ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ
٢٢ ٢٢ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٢٣ ٢٣ ﯼ ﯽ ﯾ ٢٤ ٢٤
عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ ٣٥
جنتیوں کو جنت میں صرف یہی کام ہوگا کہ وہ جنت کی انواع واقسام کی نعمتوں،نہروں،حوروں اور خوبصورت خادموں یا ان کے علاوہ لذتوں میں مصروف رہیں گے اور انہی کو دیکھیں گے۔امام قُشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: اللہ نے یہاں بس یہ کہا ہے کہ“وہ دیکھ رہے ہوں گے” مگر کیا دیکھ رہے ہوں گے؟اس کی وضاحت نہیں کی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے لوگ الگ الگ چیزوں کو دیکھ رہے ہوں گے مثلاً کوئی اپنے محلوں کو دیکھ رہاہوگا،کوئی حوروں کو اور کوئی دوسری نعمتوں کو۔ بہت ہی خاص لوگ تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے اس کے برخلاف کافر ہمیشہ ہی اپنے رب کی دید سے محروم رہیں گے۔ (البقاعی: ۲۱؍۳۲۷)
سوال:اللہ تعالیٰ نے یہ تو بتایا ہے کہ مومنین جنت میں دیکھیں گے مگر یہ نہیں بتایا کیادیکھیں گے؟اس کی کیا وجہ ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ ٦
اس میں اچھے ڈھنگ سے عمل کی کوشش کرنے پر ابھارا گیا ہے اس لئے کہ جو یہ یقین رکھے گا کہ اسے لازمی طور سے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے،وہ پوری لگن اور جذبہ سے ان کاموں کے لئے اپنی کوشش وقف کردیگا جن پر اللہ ملاقات کے وقت اس کی تعریف کرے۔ (البقاعی: ۲۱؍۳۳۹)
سوال:بندہ جان لے کہ یقینا وہ اپنے رب سے ملنے والا ہے تو اس پر کیا واجب ہوجاتا ہے؟
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورٗا ٩
دنیا میں مومن اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا رہتا تھا،اسے ہمیشہ یہی فکر دامن گیر رہتی،اسی کی خاطر وہ بےچین رہتا اور اسی وجہ سے صبح وشام اپنا سخت محاسبہ کیا کرتا تھا حالانکہ وہ گھر والوں کا خیال رکھنے کے لئے مشقت اٹھاتا، زندگی کی سختی بھی جھیلتاتھا اور اس کے علاوہ مخالفین کی جانب سے پہنچائی جانے والی تکالیف بھی برداشت کرتا تھا۔ (البقاعی: ۲۱؍۳۴۱)
سوال:مومن کو جنت میں اہل ِخانہ کے ساتھ خوش رہنے کا انعام کیوں دیا جائیگا؟
وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهۡرِهِۦ ١٠
کافروں کو پیٹھ کے پیچھے سے نامۂ اعمال دیے جانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ نامۂ اعمال تقسیم کرنے والے فرشتے ان کافروں کی ڈروانی شکلیں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکیں گے یایہ کہ شدت ِنفرت کی وجہ سے ان کا سامنا نہیں کریں گے۔یایہ بھی وجہ ہوسکتی ہے کہ جیسے ان کافروں نے اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا تھا تو انہیں بھی پیٹھ کے پیچھے سے نامۂ اعمال دیے جائیں گے۔ (الألوسی: ۳۰؍۸۱)
سوال:کافر کو نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے سے کیوں دیا جائیگا؟
إِنَّهُۥ كَانَ فِيٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورًا ١٣
کافر اپنے گھروالوں کے ساتھ مستی میں رہتا تھا نہ اسے انجام کی فکر تھی اور نہ مستقبل میں پیش آنے والے کسی عذاب کا ڈر تھا تو اس ختم ہونے والی مستی نے اسے کبھی نہ ختم ہونے والے دکھوں کا وارث بنادیا۔ (ابن کثیر: ۴؍۴۹۰)
سوال:خوشی کب قابل مذمت بن جاتی ہے؟
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ ١٤
اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دوبارہ زندہ کئے جانے کو تسلیم نہ کرنا یا اس میں شک کرنا دراصل یہی ہر برائی کا سبب اور ہر اچھائی سے محرومی کا باعث بنتا ہے اس کے برعکس یوم آخر پر ایمان رکھنا ہی ہر خیر کے حصول پر آمادہ کرنے والا اور ہر شر سے روکنے کا ذریعہ بنتا ہے۔چنانچہ قیامت کے دن پر ایمان رکھنا ہی تمام نیک اعمال کا سبب ہے اور یہی بات قرآن کریم کے شروع میں بیان کی گئی ہے: ﴿هُدٗى لِّلۡمُتَّقِينَ ...﴾ (الشنقیطی: ۸؍۴۱۷)
سوال:قیامت پر ایمان نہ رکھنا یا اس میں شک کرنا ہر برائی کی بنیاد کیسے بنتا ہے؟ الشنقيطي: 8/471.
السؤال: كيف يكون عدم الإيمان بالبعث أو الشك فيه أصل كل شر؟
بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا ١٥
اللہ تعالیٰ ہر انسان کو ہر پہلو سے دیکھنے والا اور اس کی بابت مکمل علم رکھنے والا ہے تو انسان کے اعمال کا علم رکھنے کے باوجود اسے یونہی چھوڑدینا اللہ تعالیٰ کی حکمت،عدل اور بادشاہت کے منافی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو عقل کسی طورتسلیم نہیں کرتی۔(البقاعی:۲۱؍۳۴۵)
سوال:اللہ تعالیٰ بندے کو دیکھتا ہے۔یہ خبر کس بات پر دلالت کرتی ہے؟