قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

١٧ ١٧ ١٨ ١٨
١٩ ١٩
٢٠ ٢٠ ٢١ ٢١
٢٢ ٢٢
٢٣ ٢٣ ٢٤ ٢٤
٢٥ ٢٥
ﭿ ٢٦ ٢٦
٢٧ ٢٧
٢٨ ٢٨
٢٩ ٢٩
٣٠ ٣٠
٣١ ٣١
٣٢ ٣٢
٣٣ ٣٣
٣٤ ٣٤
٣٥ ٣٥
٣٦ ٣٦ ٣٧ ٣٧
٣٨ ٣٨
٣٩ ٣٩
٤٠ ٤٠

٤١ ٤١
٤٢ ٤٢
٤٣ ٤٣
ﯿ ٤٤ ٤٤
٤٥ ٤٥
٤٦ ٤٦
Surah Header

584
سورۃ النازعات آیات 0 - 18

فَقُلۡ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ١٨

دراصل اسے اس بات پر ابھارنا ہے کہ وہ گمراہ کن عقیدے سے باز آجائے جو نفس کو خبیث بناد یتا ہے اوراس کے بعد وہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت قبول کرلے جس میں خیر ہی خیر ہے۔(ابن عاشور: ۳۰؍۷۷)
سوال: موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دعوت کی ابتداء تزکیہ سے کیوں کیا، اس کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ النازعات آیات 0 - 19

وَأَهۡدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخۡشَىٰ ١٩

رہنمائی کے بعد اللہ کے ڈر کا ذکرکرنا اس جانب اشارہ ہے کہ اللہ کو جانے بغیر اس سے ڈرنا ممکن نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَٰٓؤُاْ﴾ (سورۂ فاطر: ۲۸) یقینا اللہ کو جاننے والے بندے ہی اس سے کماحقہ ڈرتے ہیں۔ اور یہ ڈر ایسا ہے جس کے موجود ہوتےہوئے گناہ اور کوتاہی نہیں ہوتی۔ (ابن عاشور: ۳۰؍۷۷)
سوال:آیت ِ کریمہ میں خشیت کا ذکر ہدایت کے بعد کیوں آیا؟

سورۃ النازعات آیات 0 - 26

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰٓ ٢٦

جو اللہ سے ڈرتا ہے وہی درحقیقت آیات اور نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ایسا شخص جب فرعون کو ملنے والی سزا کو جانے گا تو یقین کر لیگا کہ جو بھی تکبر کریگا، گناہ کریگا اور اللہ کے مقابلہ میں آئیگا اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عذاب میں مبتلا کردیگا۔اس کے برخلاف جس کے دل میں اللہ کا ڈر نہ ہو تو کسی بھی طرح کی آیت پر وہ ایمان نہیں لائے گا۔ (السعدی:۹۰۹)
سوال:قرآنی وعظ ونصیحت سے کون فائدہ اٹھاتا ہے اور کون نہیں؟

سورۃ النازعات آیات 27 - 33

ءَأَنتُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُۚ بَنَىٰهَا ٢٧ رَفَعَ سَمۡكَهَا فَسَوَّىٰهَا ٢٨ وَأَغۡطَشَ لَيۡلَهَا وَأَخۡرَجَ ضُحَىٰهَا ٢٩ وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ٣٠ أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا ٣١ وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا ٣٢ مَتَٰعٗا لَّكُمۡ وَ لِأَنۡعَٰمِكُمۡ ٣٣

جو لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور روحوں کے جسموں میں لوٹائے جانے کا انکار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ واضح دلیل کے ساتھ ان سے دوٹوک الفاظ میں کہتاہے کہ اے انسانو! تمہیں پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آسمان وزمین کو پیدا کرنا؟! جس ذات نے بڑے بڑے آسمانوں اور ان میں موجود ستاروں اور سیاروں کو پیدا کیا، ٹھوس مٹی والی زمین پیدا کی اور اس میں مخلوق کی ضرورت اور فائدے کی ہر چیز پیدا کی یقیناً وہ مکلف مخلوق کو دوبارہ زندہ کریگا اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیگا۔اب جس نے نیکیاں کی ہوں گی اس کا بدلہ اچھا ہوگا اور جو گناہ گار ہوگا تو وہ اپنے آپ کو ہی کوسےگا۔اسی مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کے تذکرہ کے بعد قیامت اور جزاء وسزا کا ذکر کیا ہے۔ (السعدی:۹۰۹)
سوال:اللہ تعالیٰ نے جو بڑی نشانیاں ذکر کی ہیں وہ کس بات پر دلالت کرتی ہیں؟ اور ان کے بعد قیامت او ر جزا وسزا کے ذکر کا کیا مقصدہے؟

سورۃ النازعات آیات 0 - 36

وَبُرِّزَتِ ٱلۡجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ٣٦

معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہر شخص جہنم کو دیکھے گا۔مومن اسے دیکھے گا تو اسے اپنے اوپر اللہ کے احسان کا اندازہ ہوگا کہ اللہ نے اسے جہنم سے بچاکر کتنا بڑا کرم کیا ہے اور کافر دیکھے گا تو اس کے غم اور حسرت میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔ (الشوکانی: ۵؍۳۸۰)
سوال:کیا جہنم کو مومن اور کافر دونوں دیکھیں گے؟ یا صرف کافر دیکھیں گے؟ اور کیوں؟

سورۃ النازعات آیات 40 - 41

وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ ٤٠ فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِيَ ٱلۡمَأۡوَىٰ ٤١

(الهوى) : کا اصل معنی ہوتا ہے میلان،رجحان،مگر جو معنیٰ مشہور ہے وہ ہے: “شہوت کی طرف جھکاؤ”۔ علامہ راغب اصبہانی کے بقول: خواہش ِنفس کو (الهوى) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خواہش پرست کو دنیا میں واہیات امور میں گرادیتی ہے اور آخرت میں جہنم میں گرادے گی؛اسی وجہ سے نفسانی خواہشات کی مخالفت کرنے والا قابل تعریف ہے۔
بعض حکماء کا کہنا ہے کہ: اگر آپ کسی مسئلہ میں حق جاننا چاہیں تو دیکھئے کہ آپ کا نفس کس طرف مائل ہے بس آپ اس کے مخالف پہلو کو چن لیجئے۔
فُضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے کہا: نفسانی خواہشات کی مخالفت افضل ترین عمل ہے۔ (الألوسی: ۳؍۳۶)
سوال:نفسانی خواہشات کو (الهوى) نام دینے کی کیا وجہ ہے؟

سورۃ النازعات آیات 0 - 45

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخۡشَىٰهَا ٤٥

نبیﷺ کی بعثت کا مقصد قیامت سے خبردار کرنا ہے،اس کے متعینہ وقت کی اطلاع دینا نہیں اور چونکہ جو قیامت سے ڈریگا وہی اس ڈراوے سے فائدہ اٹھائے گا اسی لئے ڈرنے والے کا ذکر کیاگیا ہے۔ (ابن جُزی: ۲؍۵۳۵)
سوال:خبردار کرنا کسے فائدہ پہنچاتا ہے؟