قرآن
ﯻ
ﱖ
ﭜ ٣٤ ٣٤ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ٣٥ ٣٥ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ٣٦ ٣٦ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ٣٧ ٣٧ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ
ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ٣٨ ٣٨ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ
ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ٣٩ ٣٩ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ
ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٤٠ ٤٠
ﯼ
ﮫ ﮬ ٤ ٤ ﮮ ﮯ ٥ ٥ ﮱ ﯓ ﯔ ٦ ٦
ﯖ ﯗ ٧ ٧ ﯙ ﯚ ﯛ ٨ ٨ ﯝ ﯞ ٩ ٩
ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ١٠ ١٠ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ١١ ١١ ﯫ
ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ١٢ ١٢ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ١٣ ١٣ ﯶ ﯷ ﯸ
١٤ ١٤ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ١٥ ١٥ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ١٦ ١٦
لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا كِذَّٰبٗا ٣٥
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان (لا يسمعون فيها لغوًا ولا كذابا) اس فرمان کے ہم معنی ہے: ﴿لَّا لَغۡوٌ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٌ﴾ [الطور: 23]؛ (سورۂ طور:۳۲)مفہوم یہ ہے کہ: جنت میں بےفائدہ لغو،جھوٹ اورگناہ کی باتیں نہیں ہوں گی۔وہ سلامتی کا گھر ہے اور اس کی ہر چیز نقص اور عیب سے پاک ہے۔(ابن کثیر: ۴؍۴۶۵)
سوال:آیت میں جنت کی ایک معنوی نعمت کا تذکرہ ہے۔اس کی وضاحت کیجئے.
لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا كِذَّٰبٗا ٣٥
جہنمیوں کے تمام حواس شدید قسم کے عذاب میں گرفتار ہوں گے جیسے کہ سخت ترین آگ سے جلنا،گرم کھولتا ہوا پانی اور جہنمیوں کے زخموں سے بہتی ہوئی گندگی پینا وغیرہ تاکہ ان کے ظاہر کی طرح ان کے اندرون کو بھی مبتلائے عذاب کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں جنتیوں سے ہلکی تکلیف کی بھی نفی کردی گئی اور وہ ہے ناپسندیدہ بات کو سننا۔(ابن عاشور: ۳۰؍۴۶)
سوال:جنتیوں کے بے فائدہ اور جھوٹ بات کو سننے کی نفی کی گئی ہے۔اس کی اس سے پہلے والی آیتوں سے کیا مناسبت ہے؟
إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا ٤٠
کافریہ جملہ کہ “کاش!میں مٹی ہوتا” قیامت کے دن اس وقت کہے گاجب توبہ قبول نہیں ہوگی اور نہ اس کا کوئی بھلا کام فائدہ مند ہوگا۔
جبکہ جو لوگ دنیا میں اس طرح کی بات کہتے ہیں تو یہ اللہ کے ڈر سے کہتے ہیں چنانچہ انہیں تو اللہ سے ڈرنے پر ثواب ملے گا۔مریم نے بھی کہا تھا: ﴿يَٰلَيۡتَنِي مِتُّ قَبۡلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسۡيٗا مَّنسِيّٗا﴾ [مريم: 23]؛ ہائے کاش! میں اس سے پہلے ہی مرچکی ہوتی اور بھولی بسری گمنام ہوچکی ہوتی۔ اور یہ بات قیامت کے دن موت کی تمنا کی طرح نہیں تھی۔ (ابن تیمیہ: ۶؍۴۵۶)
سوال:دنیا میں کسی گناہ پر شرمندہ ہونے اور آخرت میں شرمندہ ہونے کے درمیان کیا فرق ہے؟
إِنَّآ أَنذَرۡنَٰكُمۡ عَذَابٗا قَرِيبٗا يَوۡمَ يَنظُرُ ٱلۡمَرۡءُ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلۡكَافِرُ يَٰلَيۡتَنِي كُنتُ تُرَٰبَۢا ٤٠
ابوہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جانوروں کو ایک دوسرے سے بدلہ دلوائیگا اور پھر ان سے کہے گا:“کُونِی تُرَابًا”مٹی ہوجا۔ تو وہ مٹی بن جائیں گے،اس وقت کافر بھی یہ تمنا کریگا۔ معلوم ہوا کہ وہ دن بہت ہی عظمت والا ہے اور یہ ہوکر رہے گا۔ (البقاعی: ۲۱؍۲۱۶)
سوال:کافر کب مٹی بنادیے جانے کی تمنا کریگا اور کیوں؟
وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشۡطٗا ٢
بعض سلف نے کہا: فرشتے مومن کی روح بہت ہی آہستگی سے کھینچتے ہیں،پھر تھوڑی دیر رک جاتے ہیں تاکہ اسے آرام مل سکے،اس کے بعد نہایت نرمی اور مہربانی سے جسم سے نکالتے ہیں جیسے کوئی ڈوبنے سے بچنے کے لئے پانی میں آہستہ آہستہ ہاتھ پیر چلاتا او ر تیرتاہے تو فرشتے بھی مومن کی روح ایسے ہی نرمی سے نکالتے ہیں تاکہ اسے تکلیف نہ ہو۔ (الألوسی: ۳۰؍۲۳)
سوال:فرشتے مومن کی روح کیسے قبض کرتے ہیں اور کیوں؟
قُلُوبٞ يَوۡمَئِذٖ وَاجِفَةٌ ٨ أَبۡصَٰرُهَا خَٰشِعَةٞ ٩
(أبصارها خاشعة): یہ ذلت اور خوف کی طرف اشارہ ہے۔(ابن جزی:۱؍۲۵۴۵)
سوال: اس آیت میں نگاہوں کے جھکے ہونے سے کیا مراد ہے؟
هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ١٥
اس کے ذریعہ نبیﷺکو تسلی دینا مقصود ہے کہ فرعون آپ کے زمانہ کے کافروں سے بہت زیادہ طاقتور تھا،ہم نے اسے پکڑ لیا تو یہی انجام ان کا بھی ہوگا۔(القرطبی: ۲۲؍۵۳)
سوال:اللہ نے نبیﷺ سے موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ کیوں بیان کیا ہے؟