قرآن
ﯻ
ﱖ
ﯻ
ﭝ ﭞ ٤ ٤ ﭠ ﭡ ﭢ ٥ ٥ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ٦ ٦
ﭩ ﭪ ٧ ٧ ﭬ ﭭ ٨ ٨ ﭯ ﭰ ﭱ
٩ ٩ ﭳ ﭴ ﭵ ١٠ ١٠ ﭷ ﭸ ﭹ ١١ ١١ ﭻ
ﭼ ﭽ ﭾ ١٢ ١٢ ﮀ ﮁ ﮂ ١٣ ١٣ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ١٤ ١٤ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ١٥ ١٥ ﮏ
ﮐ ١٦ ١٦ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ١٧ ١٧ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ١٨ ١٨ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ١٩ ١٩ ﮤ
ﮥ ﮦ ﮧ ٢٠ ٢٠ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٢١ ٢١ ﮮ
ﮯ ٢٢ ٢٢ ﮱ ﯓ ﯔ ٢٣ ٢٣ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ
٢٤ ٢٤ ﯝ ﯞ ﯟ ٢٥ ٢٥ ﯡ ﯢ ٢٦ ٢٦ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ٢٧ ٢٧ ﯪ ﯫ ﯬ ٢٨ ٢٨ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ٢٩ ٢٩ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ٣٠ ٣٠
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ ١ عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلۡعَظِيمِ ٢
اللہ تعالیٰ نے پہلے کافروں کے سوال پوچھنے کا ذکر کیا اور پھرخود ہی اس کا جواب دیا اور فرمایا: (عن النبأ العظيم). (بڑی خبر کے بارے میں)تو اس طرح اللہ نے لوگوں کے دماغ اپنی بات کی طرف کھینچنے اور انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے سوال پوچھنے کااسلوب اپنایااور پھر اسے واضح کر دیا۔ اس سے معلو م ہوتا ہے کہ جس چیزکی بابت سوال ہورہا ہے وہ بہت ہی اہم ہے۔ توگویا اس طرح کہا گیا: وہ لوگ جس چیز کی بابت سوال کررہے ہیں، کیا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاؤں ؟اور پھر بطور جواب کہا گیا: (عن النبأ العظيم). بڑی خبر کے بارے میں۔(الشوکانی: ۵؍۳۶۳)
سوال:سورت کے شروع میں سوال پوچھنے کا اسلوب کیوں اختیار کیا گیا؟
ٱلَّذِي هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ ٣
موصول کے صلہ کی شکل میں جملہ اسمیہ لایا گیا اور (الَّذِيْ یَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ )کے بجائے ( الذين هم فيه مختلفون) کہا گیا۔جملہ اسمیہ لانے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس خبر کولے کر وہ ہمیشہ اختلاف میں ہی پڑے رہیں گے اور اس سے باہر نہیں آپائیں گے۔وہ اس طرح کہ جملہ اسمیہ اپنے معنی کی ہمیشگی پر دلالت کرتاہے۔ (ابن عاشور: ۳۰؍۱۱)
سوال:موصول کے صلہ کے بطور جملہ فعلیہ نہ لاتے ہوئے جملہ اسمیہ لانے کا کیا فائدہ ہے؟
أَلَمۡ نَجۡعَلِ ٱلۡأَرۡضَ مِهَٰدٗا ٦ وَٱلۡجِبَالَ أَوۡتَادٗا ٧ وَخَلَقۡنَٰكُمۡ أَزۡوَٰجٗا ٨ وَجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتٗا ٩ وَجَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِبَاسٗا ١٠ وَجَعَلۡنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشٗا ١١ وَبَنَيۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعٗا شِدَادٗا ١٢ وَجَعَلۡنَا سِرَاجٗا وَهَّاجٗا ١٣ وَأَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡمُعۡصِرَٰتِ مَآءٗ ثَجَّاجٗا ١٤
یہاں اللہ تعالیٰ نے ان مخلوقات کا ذکر بطور توقیف کیا ہے یعنی اپنے موقف کی ایسی مضبوط دلیل دی جائے کہ مخالف کی ہر دلیل ختم ہوجائے۔وجہ یہ ہے کہ کفار جو دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں ان پر حجت قائم ہوسکے گویا وہ کہہ رہا ہے: بیشک جو معبود ان بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بدرجہ اَولیٰ قادر ہے۔(ابن جُزی: ۱؍۲۵۴۱)
سوال:اللہ نے ان آیات میں ایک خاص سبب سے ان مخلوقات کا ذکر کیا ہے۔وہ سبب کیا ہے؟
وَجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتٗا ٩
نیند تمہارے لئے راحت اور تمہاری ان مصروفیات پر روک لگانے والی ہے جو زیادہ ہوجائیں تو تم نقصان میں پڑسکتے ہو اس لئے اللہ تعالیٰ نے رات اور نیند کو بنایا تاکہ وہ لوگوں پر چھاکر انہیں نقصاندہ حرکات سے بچاسکیں اور انہیں نفع بخش راحت مل سکے۔(السعدی:۹۰۶)
سوال:نیند اللہ کی ایسی نعمت کیوں ہے کہ اللہ نے بندوں پر اس کا احسان جتایا ہے؟
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتۡ مِرۡصَادٗا ٢١
کوئی بھی شخص جہنم پر سے گزرے بغیر جنت میں نہیں جاسکے گا، اگر اس کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی جواز ہوگا تو نجات پائیگا ورنہ اسے روک دیا جائیگا۔(ابن کثیر: ۴؍۴۶۴)
سوال:جہنم کو کمین گاہ (گھات لگانے کی جگہ) بنائے جانے سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟
وَكُلَّ شَيۡءٍ أَحۡصَيۡنَٰهُ كِتَٰبٗا ٢٩
ہر چیز چاہے کم ہو یا زیادہ اللہ نے اسے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے لہٰذا مجرمین یقین رکھیں کہ انہیں ان کے کئے ہوئے گناہوں کی ہی سزا ملے گی،اللہ ان کے اعمال میں سے کچھ ضائع کریگا اور نہ ہی رتی بھر جرم کو بھولے گا۔ (السعدی:؍۹۰۷)
سوال:بندوں کے اعمال لکھے جانے میں کیا حکمت ہے؟
فَذُوقُواْ فَلَن نَّزِيدَكُمۡ إِلَّا عَذَابًا ٣٠
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ:جہنمیوں کے لئے اس سے زیادہ دھمکی بھری کوئی آیت نازل نہیں ہوئی فرمایا کہ: (فذوقوا فلن نزيدكم إلا عذابًا)؛ ان کے عذاب میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ (الطبری: ۲۴؍۱۶۹)
سوال:قرآن کے اندر جہنمیوں کے لئے سب سے سخت آیت کون سی ہے، اور کیوں؟