قرآن
ﯹ
ﱕ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ٢٧ ٢٧ ﭢ ﭣ
ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ٢٨ ٢٨ ﭭ
ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٢٩ ٢٩ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ٣٠ ٣٠ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ٣١ ٣١
ﯺ
ﮚ ﮛ ٤ ٤ ﮝ ﮞ ٥ ٥ ﮠ ﮡ ﮢ ٦ ٦ ﮤ
ﮥ ﮦ ٧ ٧ ﮨ ﮩ ﮪ ٨ ٨ ﮬ ﮭ ﮮ
٩ ٩ ﮰ ﮱ ﯓ ١٠ ١٠ ﯕ ﯖ ﯗ ١١ ١١ ﯙ ﯚ ﯛ
١٢ ١٢ ﯝ ﯞ ١٣ ١٣ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ١٤ ١٤ ﯦ ﯧ
ﯨ ١٥ ١٥ ﯪ ﯫ ﯬ ١٦ ١٦ ﯮ ﯯ ﯰ
١٧ ١٧ ﯲ ﯳ ﯴ ١٨ ١٨ ﯶ ﯷ ﯸ ١٩ ١٩
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا ٢٦
نماز کو سجدہ سے تعبیر کیا یہ بتلانے كےلئے کہ سجدہ نماز کی سب سے افضل چیز ہے، اور اس میں اشارہ ہے کہ رات خشوع و خضوع کا وقت ہے۔ (البقاعی 21؍157)
سوال: نماز کو سجدے سے کیوں تعبیر کیا گیا؟
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَٱسۡجُدۡ لَهُۥ وَسَبِّحۡهُ لَيۡلٗا طَوِيلًا ٢٦
یعنى اللہ کے لئے بکثرت سجدہ کرو اور یہ عمل صرف کثرت نماز سے ہی ہوسکتا ہے۔ (السعدی: 903)
سوال: یہ آیت کریمہ قیام اللیل کی کثرت کی ترغیب پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟
نَّحۡنُ خَلَقۡنَٰهُمۡ وَشَدَدۡنَآ أَسۡرَهُمۡۖ وَإِذَا شِئۡنَا بَدَّلۡنَآ أَمۡثَٰلَهُمۡ تَبۡدِيلًا ٢٨
امام سعدی کہتے ہیں: (نحن خلقناهم) یعنی ہم نے ان کوعدم سے وجود بخشا، (وشددنا أسرهم) یعنی ہم نے رگوں، اعصاب اور ظاہری وباطنی قوتوں کے ذریعہ ان کی خلقت کو پختگی بخشی، یہاں تک کہ جسم مکمل اور کامل ہوگیا،اورہر وہ چیز جو وہ چاہتا ہے اس پر قادر ہوگیا۔ جس ذات نے انہیں اس حالت پر وجود بخشا وہ ان کو بدلہ دینے کے لئے ان کی موت کے بعد انہیں لوٹانے پر بھی قادر ہے۔ (السعدی:903)
سوال: اس (دنیاوی) زندگی سے قیامت کے دن اٹھائے جانے پر استدلال کی کیا صورت ہے؟
إِنَّ هَٰذِهِۦ تَذۡكِرَةٞۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلٗا ٢٩ وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٣٠
اللہ کا فرمان: (فمن شاء اتخذ إلى ربه سبيلًا) اللہ کی جانب راہ پکڑنے کو "جو چاہے" کی مشیئت پر معلق کیا، اوراس کی قید اللہ کے فرمان: (وما تشاءون إلا أن يشاء الله)، میں بندے کی مشیئت کو اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے جوڑنا ہے۔ یہ تقدیر کا مسئلہ ہے۔ (الشنقیطی: 8؍399)
سوال: ان دونوں آیتوں میں ایمان کے ایک رکن کا ذکر ہے۔ وہ کیا ہے؟
وَٱلۡمُرۡسَلَٰتِ عُرۡفٗا ١ فَٱلۡعَٰصِفَٰتِ عَصۡفٗا ٢ وَٱلنَّٰشِرَٰتِ نَشۡرٗا ٣ فَٱلۡفَٰرِقَٰتِ فَرۡقٗا ٤ فَٱلۡمُلۡقِيَٰتِ ذِكۡرًا ٥
(ان آیات میں مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں) ان قسموں کو طول دینے کا مقصد یہ ہے کہ جس چیز کے لئے قسم کھائی گئی ہے اس کی معرفت حاصل کرنے کا سننے والے کو شوق دلایا جائے۔ (ابن عاشور: 29؍419)
سوال: اس سورہ میں قسم کو لمبا کیوں کیا گیا؟
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ١٤
فیصلے کا دن اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے متعلق سوال کیا جائے اور اس کی عظمت و ہولناکی کو بیان کیا جائے اور ہر وہ چیز جس کی عظمت دوسری چیز سے بیان کی جائے، تو وہ چیز اس دوسری چیز سے عظیم ہوتی ہے (یعنی ہر وہ چیز جس کے ذریعہ فیصلے کے دن کی عظمت و ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے، تو فیصلے کا دن ان چیزوں سے زیادہ عظیم ہے) اور مخلوق میں سے کوئی بھی فیصلے کے دن کے علم تک پہنچ نہیں سکتا کیونکہ اس کی کوئی مثال نہیں جس پر اسے قیاس کیاجائے۔ (البقاعی: 21؍170)
سوال: آیت میں استفہام کی دلالت کیا ہے؟
وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١٥
اللہ نے اس (عذاب) کو اس سورہ میں ہر آیت کے بعد تکذیب کرنے والوں کے لئے بار بار دہرایا، اس لئے کہ اس نے اس عذاب کو ان کے درمیان ان کے تکذیب کے بقدر بانٹ دیا ہے، کسی ایک چیزکی تکذیب کرنے والے ہر شخص کے لئے ایک ایسا عذاب ہوگا جو دوسری چیز کی تکذیب کرنے والے سے مختلف ہوگا۔ (القرطبى: 21؍501-502)
سوال: اس سورت میں تکذیب کرنے والوں کے عذاب کو بار بار کیوں دہرایا گیا ہے؟