قرآن
ﯹ
ﱕ
ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ٧ ٧ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ
ﭦ ﭧ ٨ ٨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
٩ ٩ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٠ ١٠ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ١١ ١١ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ١٢ ١٢
ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ١٣ ١٣
ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ١٤ ١٤ ﮞ ﮟ ﮠ
ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ١٥ ١٥ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ١٦ ١٦
ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ١٧ ١٧ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
١٨ ١٨ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ
١٩ ١٩ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ٢٠ ٢٠ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ٢١ ٢١ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ٢٢ ٢٢ ﰅ
ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ٢٣ ٢٣ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ
ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ٢٤ ٢٤ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ٢٥ ٢٥
يُوفُونَ بِٱلنَّذۡرِ وَيَخَافُونَ يَوۡمٗا كَانَ شَرُّهُۥ مُسۡتَطِيرٗا ٧
یعنی اللہ کے لئے جن نذور عہو د کا انہوں نے خود کو پابند کیا انہیں پورا کرتے ہیں۔ لہٰذا جب یہ ان نذور کو پورا کرتے ہیں جو محض ان کے اپنے آپ پر واجب کرنے سے واجب ہوئیں تو وہ اصلی فرائض کو بدرجہ اولیٰ انجام دیتے ہوں گے۔ (السعدی: 901)
سوال: اللہ کا نذر کو پوری کرنے والے کی تعریف کس بات پر دلالت کرتی ہے؟
وَيُطۡعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسۡكِينٗا وَيَتِيمٗا وَأَسِيرًا ٨ إِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِوَجۡهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمۡ جَزَآءٗ وَلَا شُكُورًا ٩
(ہم تو صرف اللہ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں ، نہ شکرگزاری) البتہ جس شخص نے فقیروں سے دعا یا مدح کی درخواست کی وہ اس آیت کے ضمن سے خارج ہے۔(ابن تیمیہ: 6؍144)
سوال: کھاناکھلانا اللہ کے لئے خالص کب ہوگا؟
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةٗ وَحَرِيرٗا ١٢
یعنی بھوک پر ان کے صبر کرنے اور اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے کی وجہ سے (اللہ تعالیٰ انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا)۔ (ابن جزی: 2؍519)
سوال: اس آیت کی روشنی میں بتائیے کہ وہ کون سی صفت ہے جس کے باعث نیک لوگوں کو جنت حاصل ہوگی؟
وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُواْ جَنَّةٗ وَحَرِيرٗا ١٢ مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِۖ لَا يَرَوۡنَ فِيهَا شَمۡسٗا وَلَا زَمۡهَرِيرٗا ١٣
صبر میں نفس کو روکنے اور تھکان وحرارت کی وجہ سے ظاہر وباطن کو جو خشونت لاحق ہوتی ہے انہی وجوہات کی بنا پر اس کا بدلہ جنت ہے جس میں وسعت ہے، ریشم ہے جس میں نرمی اور نعومت ہے، صوفے ہیں جن سے راحت ملتی ہے، سایے ہیں جو گرمی کے منافی ہے۔ (ابن تیمیہ: 6؍445)
سوال: کیوں اہل جنت کی نعمتیں وسعت ونعومت پر مبنی ہوں گے؟
۞وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيۡتَهُمۡ حَسِبۡتَهُمۡ لُؤۡلُؤٗا مَّنثُورٗا ١٩
کم سن بچے خدمت لینے کے لئے سب سے بہتر ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ حرکت میں بہت ہلکے اور چلنے پھرنے میں بہت تیز ہوتے ہیں، اور خدمت لینے والا ان کو حکم دینے اور منع کرنے میں حرج نہیں محسوس کرتا۔ (ابن عاشور: 29؍397)
سوال: کیوں جنت میں خادمین کم سن بچے ہوں گے؟
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ
یعنی جس طرح اللہ نے آپ پر وحی نازل فرما کر آپ کی تکریم کی ہے تو آپ بهى اللہ کی قضا وقدر پر صبر کیجئے اور یقین رکھئے کہ وہ آپ کے لئے اپنی بہترین تدبیر اختیار کرے گا۔ (ابن کثیر: 4؍458)
سوال: اللہ کے حکم کے ساتھ صبر کو جوڑنے کا کیا فائدہ ہے؟
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ ءَاثِمًا أَوۡ كَفُورٗا ٢٤ وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا ٢٥
یعنی اس کے تقدیری حکم کے لئے صبر کیجئے اور اسے ناراض نہ کیجئے، اور اسکے دینی حکم پر بھی عمل کیجئے اور آپ کو اس سے کوئی روکنے والی چیز روک نہ دے، اور جب صبرآپ (ﷺ) کو اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر کی کثرت میں مدد دیتا ہے تو اللہ نے آپ کو اس کاحکم دیتے ہو فرمایا:(واذكر اسم ربك بكرة وأصيلًا). (السعدی:902)
سوال: اللہ کے فیصلے پر صبر کا حکم دینے کے بعد صبح وشام اللہ کے ذکر کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟