قرآن
ﯸ
ﱕ
٢٢ ٢٢ ﭝ ﭞ ﭟ ٢٣ ٢٣ ﭡ ﭢ ﭣ ٢٤ ٢٤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ
ﭩ ٢٥ ٢٥ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ٢٦ ٢٦ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ٢٧ ٢٧ ﭵ ﭶ ﭷ
٢٨ ٢٨ ﭹ ﭺ ﭻ ٢٩ ٢٩ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ٣٠ ٣٠ ﮂ
ﮃ ﮄ ﮅ ٣١ ٣١ ﮇ ﮈ ﮉ ٣٢ ٣٢ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ
٣٣ ٣٣ ﮑ ﮒ ﮓ ٣٤ ٣٤ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ٣٥ ٣٥ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ٣٦ ٣٦ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ٣٧ ٣٧ ﮧ ﮨ
ﮩ ﮪ ﮫ ٣٨ ٣٨ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ٣٩ ٣٩ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ٤٠ ٤٠
ﯹ
ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ٢ ٢ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ٣ ٣ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ﰀ ٤ ٤ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ٥ ٥
كَلَّا بَلۡ تُحِبُّونَ ٱلۡعَاجِلَةَ ٢٠ وَتَذَرُونَ ٱلۡأٓخِرَةَ ٢١
اس لئے کہ دنیا کی نعمتیں اور لذتیں جلدی ملنے والی ہیں، اور انسان جلد ی ملنے والی چیز کا حریص ہے، اور آخرت کی دائمی نعمتیں دیر سے ملنے والی ہیں، اسی لئے تم لوگوں نےاس سے غفلت برتی اور اسے چھوڑ دیا گویا تم اس کے لئے پیدا نہیں کئے گئے، اور دنیا ہی جائے قرار ہے جس میں تم عمر کے بہترین حصے فنا کررہے ہو اور اس کے حصول کے لئے دن ورات کے ہر پہر کوشش کر رہے ہو، اسی لئے تم پر حقیقت پلٹ گئی اور تمہیں جو خسارہ ہونا تھا ہوا۔ (السعدی: 900)
سوال: انسان کا جلد ملنے والی زندگی کو پسند کرنے اورآخرت کی نعمتوں کو ترک کرنے کا سبب کیا ہے؟
وَقِيلَ مَنۡۜ رَاقٖ ٢٧
یعنی کوئی جواس پر رقیہ کرے(دعائیں پڑھ کر پھونک مارے)۔ اس لئے کہ فطری اسباب سے ان کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں اور اب صر ف الٰہی اسباب باقی رہ گئے ہیں۔(السعدی: 900)
سوال: قریب المرگ کے لئے رقیہ کرنے والے کو تلاش کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اور کیوں وہ معالجین واطباء کی تلاش میں نہیں ہیں؟
ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ يَتَمَطَّىٰٓ ٣٣
یعنی اس پر فخرجتلاتے ہوئے گھمنڈ کر رہا ہے … اور کہا جاتا ہے کہ یتمطی کی اصل یتمطط ہے جس کا مطلب کسل مندی اور گرانبارى سے پھیل جانا، یعنی وه داعی حق (کی بات سننے) سے کسل مندی اختیار کرتا ہے۔ (القرطبی: 21؍437)
سوال: آیت میں مذموم تمطی کیا ہے؟
هَلۡ أَتَىٰ عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ حِينٞ مِّنَ ٱلدَّهۡرِ لَمۡ يَكُن شَيۡٔا مَّذۡكُورًا ١
انسان کو اس کی حالت اور ابتدائی صورت سے روشناس كرانا، تا کہ اسے معلوم ہو کہ تکبر اور اپنے آپ کو قیادت کے قابل سمجھنے کی کوئی راہ نہیں ہے،اور جو ربانی کرم فرمائیاں، الہی توجہ اور عزت اس کا احاطہ کی ہوئی ہیں اسے مغالطہ میں نہ ڈال دیں اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ وہ لازمی طور پر ان کامستحق ہے، ﴿وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٍ فَمِنَ ٱللَّهِ﴾ (النحل: ۳۵) جو نعمت بھی تمہیں حاصل ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے۔ (البقاعی: 21؍123)
سوال: جاہل انسان کو تکبر تک پہونچانے والی چیز کیا ہے؟
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا ٢
(من نطفة أمشاج) یعنی ملا جلا پانی، (نَبْتَلِيْهِ) ہم اسکے ذریعہ سے اسے آزمائیں گے، تا کہ ہم دیکھیں کہ وہ اپنی پہلی حالت کو دیکھتا ہے اور سمجھ لیتا ہے یا اسے بھلا دیتا ہے اور اس کا نفس اسے دھوکہ دیتا ہے۔ (السعدی: 900)
سوال: اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح انسان دھوکہ سے نجات پا سکتا ہے، اس کی وضاحت کیجئے ؟
إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا ٢ إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا ٣
ہم نے اس کے لئے کان اور آنکھ بنائے جن سے وہ اطاعت ومعصیت پر قادر ہوتا ہے، (ابن کثیر :4؍453)
سوال: کیوں اللہ نے سمع وبصر کے حواس کو اپنے فرمان: (إنا هديناه السبيل إما شاكرًا وإما كفورا) سے پہلے ذکر فرمایا؟
إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا ٣
شکر میں مبالغہ کی نفی اور کفر میں اس کے اثبات کے لئے شاکر اور کفور کو جمع کیا، شکور اور کفور کو جمع نہیں کیا ۔حالانکہ آخر الذکر دونوں الفاظ مبالغہ کے معنی میں ہیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے پس اس سے مبالغہ کی نفی کردی گئی جبکہ کفرسے مبالغہ کی نفی نہیں کی گئی۔ انسان کا شکر اس پر کی گئی نعمتوں کے مقابل میں کم ہے اور اس کا کفر اگرچہ کم ہو اس پر کی گئی اچھائیوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ (القرطبی: 21؍450)
سوال: کفر کے لفظ سے مبالغہ کا صیغہ (كَفُوْرًا) آیا ہے، جبکہ شکر کے لفظ سے مبالغہ کا صیغہ نہیں آیا ہے (بلکہ شَاكِرًا کہا ہے) اس کی کیا وجہ ہے؟