قرآن
ﯶ
ﱕ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ
ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ
ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ
ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ٢٠ ٢٠
ﯷ
ﯗ ﯘ ٥ ٥ ﯚ ﯛ ﯜ ٦ ٦ ﯞ ﯟ ٧ ٧ ﯡ ﯢ
ﯣ ﯤ ٨ ٨ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ٩ ٩ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ١٠ ١٠
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ١١ ١١ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ١٢ ١٢ ﯺ
ﯻ ١٣ ١٣ ﯽ ﯾ ﯿ ١٤ ١٤ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ١٥ ١٥ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ١٦ ١٦ ﰍ ﰎ ١٧ ١٧ ﰐ ﰑ ﰒ ١٨ ١٨
۞إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ ٱلَّيۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَۚ
اس فرمان: (إن ربك يعلم أنك تقوم) سے کلام کا آغاز پتہ دیتا ہے کہ اللہ آپ کی تعریف و ثنا بیان کررہا ہے اس لئے کہ آپ کو جس قیام کا حکم دیا گیا، آپ نے اس کا حق ادا کر دیا اور یہ کہ آپ اس کا اہتمام کیا کرتے تھے، پھر آپ معین مقدار نصف یا اس سے تھوڑا کم یا اس سے زیادہ پر اقتصار کرتے تھے بلکہ آپ نے آخری حد کوا ختیار کیا جو کہ دو تہائی رات کے قریب ہے، جیسا کہ اولو العزم کی شان ہے۔ (ابن عاشور: 29؍280)
سوال: (إن ربك يعلم أنك تقوم) سے آیت کریمہ کی ابتداء کرنے کی کیا مناسبت ہے؟
عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ
اللہ سبحانہ نے ان کا عذر ذکر کیا اور فرمایا: (علم أن سيكون منكم مرضى) وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گیا، اور قیام اللیل پر قادر نہ ہوسکیں گے(وآخرون يضربون في الأرض يبتغون من فضل الله) اور دوسرے زمین پر چل پھر کر اللہ کا فضل (روزی) بھی تلاش کریں گے، یعنی راتوں کو تجارت اور منافع کے لئے سفر کریں گے؛ اللہ کے رزق کو تلاش کریں گے جس کی ان کو زندگی گزارنے کے لئے ضرورت ہے ایسی حالت میں وہ قیام اللیل کی طاقت نہ رکھ سکیں گے، (وآخرون يقاتلون في سبيل الله) اور دوسرے اللہ کی راہ میں قتال کریں گے، یعنی مجاہدین، وہ بھی قیام اللیل پر قادر نہ ہوں گے، اللہ سبحانہ نے یہاں رخصت دینے اور قیام اللیل کے وجوب کو رفع کرنے کے تین اسباب کا ذکر کیا۔پھر ان اعذار کی وجہ سے جو بعض افراد امت کوپیش آتے ہیں تمام امت سے اس کے وجوب کو ختم کرد یا۔ (الشوكانى: 5؍322)
سوال:قیام اللیل کے ترک کرنے کے وہ کونسے اعذار ہیں جنہیں آیت کریمہ میں ذکر کیا گیاہے؟
وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمُۢ ٢٠
(إن الله غفور رحيم) یہ جملہ استغفار کے حکم کی تعلیل ہے، یعنی اس لئے استغفار کرو، کیونکہ اللہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا اور انتہائی رحمت والا ہے۔اس تعلیل کا مقصد استغفار کی ترغیب دینا اور ابھارنا ہے کہ قبولیت متوقع ہے، صفت میں مبالغہ پر دلالت کرنے والے دونوں وصف کا بیان قبولیت کے وعدہ کی جانب اشارہ ہے۔ (ابن عاشور: 29؍290)
سوال: اللہ تعالیٰ کے قول (إن الله غفور رحيم) پر آیت کریمہ کے اختتام کاکیا فائدہ ہے؟
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ ٤
احتمال ہے کہ آپ کے کپڑوں سے معروف کپڑا مراد ہو اور آپ کو انہیں تمام اوقات ہر قسم کی نجاسات سے پاک رکھنے کا حکم دیا گیا ہو۔ اور بالخصوص نماز میں داخل ہوتے وقت۔ اور جب آپ کو ظاہر کی پاکی کا حکم دیا گیا ہے تو یہ اس وجہ سے کہ ظاہر کی پاکی باطن کی پاکی کا تکملہ ہے۔ (السعدی: 895)
سوال: کپڑے کی پاکی کا حکم کس طرح دلوں کو امراض سے پاک کرنے کے حکم پر دلالت کرتا ہے؟
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ ٤
محمد بن سیرین سے (وثيابك فطهر) کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا: انہیں پانی سے دھوئیں، مجھ سے یونس نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابن وھب نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابن زیدنے (وثيابك فطهر) کے بارے میں کہا: مشرکین پاکی نہیں حاصل کرتے تھے تو اللہ نے آپ کو پاکی حاصل کرنے اور اپنے کپڑوں کو پاک کرنے کا حکم دیا۔ (الطبری: 23؍12 )
سوال: آیت میں کپڑوں کو پاک کرنے سے کیا مراد ہے؟
فَذَٰلِكَ يَوۡمَئِذٖ يَوۡمٌ عَسِيرٌ ٩ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٖ ١٠
زمخشری کہتے ہیں: (غير يسير) کی جانب سے (يوم عسير)؛کافی تھا لیکن ا س كا ذكر ان کے لئے برسبیل وضاحت ہے کہ اس دن کی سختی میں آسانی کی کوئی کرن نہیں جیسا کہ دنیا کی سختی میں ہوتاہے، اور یہ کہ اس میں کافروں کے لئے مزید وعید ہے اور مومنین کے لئے ایک قسم کی بشارت ہے کہ وہ دن ان کے لئے آسان ہوگا۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معنی مستقل ہو، اور اللہ کا فرمان: (يوم عسير) مستقل کلام اور اس دن کا وصف ہو اور تمام لوگوں کے لئے اس دن کی ہولناکی کی شدت کا بیان ہو، (الشنقیطی: 8؍363)
سوال: دونوں آیتوں میں (عسير) اور (يسير) کے درمیان وجہ تقابل کیا ہے؟
وَبَنِينَ شُهُودٗا ١٣
(اور حاضر رہنے والے بیٹے عطا کیے مطلب وہ) غائب نہیں ہوں گے یعنی ان کے پاس حاضر ہوں گے، تجارت کے لئے سفر نہیں کریں گے، بلکی ان کے غلام اور مزدور ان کی جانب سے اس کام کو انجام دیں گےاور یہ لوگ اپنے باپ کے پاس بیٹھے رہیں گے، وہ ان کے ساتھ موج ومستی کریں گے اور یہ غایت درجہ کی نعمت ہے کہ وہ اپنے باپ کے پاس ٹھہرے رہیں گے۔ (ابن کثیر:4؍442)
سوال: آدمی کے بیٹوں کا اپنے باپ کے پاس رہنے میں کونسی نعمت ہے؟