قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤
٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧
ﭿ ٨ ٨
٩ ٩

١٠ ١٠

١١ ١١
١٢ ١٢
١٣ ١٣

١٤ ١٤

١٥ ١٥

١٦ ١٦

١٧ ١٧

١٨ ١٨
١٩ ١٩
574
سورۃ المزمل آیات 0 - 1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُزَّمِّلُ ١

آپ کو اس نام سے مخاطب کرنے کے دو فائدے ہیں:
پہلا: نرم رویہ اختیار کرنا، اس لئے کہ عرب جب کسی مخاطب کے ساتھ نرمی اور ترک عتاب کا قصد کرتے تو اسے اسی حالت سے مشتق نام دیتے جس پر وہ ہوتا۔
دوسرا فائدہ: رات میں ہر چادر لپیٹ کر سونے والے کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ رات میں قیام اور اللہ کے ذکر کے لئے بیدار ہو۔ (القرطبی: 21؍316 )
سوال: (المزمل) کے خطاب سے مخاطب کرنے کا راز کیا ہے؟

سورۃ المزمل آیات 3 - 4

نِّصۡفَهُۥٓ أَوِ ٱنقُصۡ مِنۡهُ قَلِيلًا ٣ أَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ

اگر پوچھا جائے کہ کیوں اللہ کے فرمان: (أو انقص منه قليلًا)، میں آدھے سے کم کو قلت کے ساتھ مقید کیا گیااور (أو زد عليه)، میں مطلق رکھا گیا اور قلیلا نہیں کہا گیا، تو جواب یہ ہے کہ زیادتی میں کثرت بہتر ہوتی ہے، اسی لئے قلت کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا، بر خلاف نقص کے اس لئے کہ اگر اس کو مطلق چھوڑ دیا جائے تو آدھے میں سے بہت زیادہ کم ہونے کا احتمال ہے۔ (ابن جزی:2؍501)
سوال: کیوں اللہ کے فرمان: (أو انقص منه قليلًا) كو (قليلا) کے ساتھ مقید کیا گیااور ( أو زد عليه ) کو اس سے نہیں مقید کیا گیا؟

سورۃ المزمل آیات 0 - 4

وَرَتِّلِ ٱلۡقُرۡءَانَ تَرۡتِيلًا ٤

حرکات کی مکمل ادائیگی، حروف کی وضاحت اور مد کے ساتھ ٹھہر ٹھہرکر پڑھنا ترتیل ہے، ترتیل قرآن کے معانی کے تدبر میں معاون ہے، ہذر کے برخلاف جسے پڑھنے والا خو د سمجھ نہیں پاتا، رسول اللہ ﷺ اپنی تلاوت میں ایک ایک حرف الگ الگ پڑھتے تھے، اور جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو رک کر دعا کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ (ابن جزی 2؍501)
سوال: ترتیل کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ المزمل آیات 0 - 6

إِنَّ نَاشِئَةَ ٱلَّيۡلِ هِيَ أَشَدُّ وَطۡـٔٗا وَأَقۡوَمُ قِيلًا ٦

یعنی تلاوت کی ادائیگی اور اس کو سمجھنے میں رات کے قیام میں دن کے قیام کے مقابل زیادہ دلجمعی پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ دن لوگوں کی نقل وحرکت، آوازوں کے بلند ہونے اور معاش کا وقت ہے (ابن کثیر :4؍436)
سوال: رات کے قیام کود ن کے قیام سے کون سی چیز متمیز کرتی ہے؟

سورۃ المزمل آیات 0 - 8

وَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلۡ إِلَيۡهِ تَبۡتِيلٗا ٨

تفعیل کے صیغہ کے ساتھ ذکر کرنے میں ایک لطیف راز یہ ہے، کہ یہ فعل تدریج،خود کو مکلف کرنا،اپنی طرف سے عمل کرنااور کثرت ومبالغہ کی خبر دیتا ہے۔ (ابن القیم: 3؍212)
سوال: اللہ تعالیٰ کے فرمان: (وتبتل إليه تبتيلًا) میں موجود تعبیر سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟

سورۃ المزمل آیات 0 - 11

وَذَرۡنِي وَٱلۡمُكَذِّبِينَ أُوْلِي ٱلنَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيلًا ١١

ان کو (أولي النعمة) (آسودہ حال کی صفت )سے موصوف کرنا بطورپھٹکارہے کہ انہوں نے اپنی کشادگیء حالت کے باوجود غرور اور انکار حق کی وجہ سے تکذیب کی،اور ان کی لئے بطور دھمکی بھی ہے کہ جس ذات نے (ذرني والمكذبين) کہا ہے وہ ان سے ان نعمتوں کوعنقریب زائل کر دے گا۔ (ابن عاشور: 29؍269)
سوال: اللہ تعالیٰ کا جھٹلانے والوں کو (أولي النعمة)سے متصف کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

سورۃ المزمل آیات 0 - 15

إِنَّآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ رَسُولٗا شَٰهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ رَسُولٗا ١٥

کفار مکہ کے لئے فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حالت کو بطور مثال چنا گیا ہے، اس لئے کہ رسول کی دعوت سے اعراض کرنے میں مکہ والوں کی حالت اور مصر والوں کی حالت کے درمیان جامع سبب ان تمام کا غیر اللہ کی عبادت پر یکجا ہونا، اوران کی جانب بھیجے گئے رسول کے خلاف ان کے نفس کا تکبر وتعاظم سے پُر ہونا ہے ۔ (ابن عاشور: 29؍273)
سوال: فرعون کی موسی علیہ السلام کے ساتھ حالت کو بطور مثال کیوں چنا گیا؟