قرآن
ﯴ
ﱕ
ﭚ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ١٢ ١٢ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ١٣ ١٣
ﭧ ﭨ ﭩ ١٤ ١٤ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ
ﭲ ١٥ ١٥ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ١٦ ١٦
ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ١٧ ١٧ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ١٨ ١٨ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ١٩ ١٩ ﮎ ﮏ
ﮐ ﮑ ٢٠ ٢٠ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ٢١ ٢١ ﮡ ﮢ ﮣ ٢٢ ٢٢ ﮥ
ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ
ﮱ ٢٣ ٢٣ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ٢٤ ٢٤
ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ٢٥ ٢٥ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ٢٦ ٢٦ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ
ﯿ ٢٧ ٢٧ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ
ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ٢٨ ٢٨
فَقُلۡتُ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا ١٠ يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا ١١
اس آیت میں دلیل ہے کہ مغفرت طلبی بارشوں کے نزول کو واجب کرتی ہے، یہی بات تھی کہ حضرت عمر بن الخطاب جب استسقاء کے لئے نکلے تو انہوں نے استغفار سے زیادہ کچھ نہیں کیا، پھر لوٹ آئے، ان سے کہا گیا: ہم نے آپ کو بارش طلب کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے خوب جم کر بارش طلب کی ہے۔ (ابن جزی: 2؍495 )
سوال: بارش طلب کرنے میں استغفارکا رتبہ بیان کیجئے؟
مَّا لَكُمۡ لَا تَرۡجُونَ لِلَّهِ وَقَارٗا ١٣
یعنى کیا ہوگیا ہے کہ تمہیں اللہ کی عظمت اور تم پر اس کی سزا کی قدرت کا ڈر نہیں ہے، یعنی اللہ کا خوف ترک کرنے میں تمہارے پاس کونسا عذر ہے؟ (القرطبی: 21؍255)
سوال: آیت میں اللہ کے فرمان: (لَا تَرْجُوْنَ) سے کیا مراد ہے؟
مَّا لَكُمۡ لَا تَرۡجُونَ لِلَّهِ وَقَارٗا ١٣
اگر وہ اللہ کی تعظیم کرتے اور اس کی عظمت کاحق پہچانتے تو اس کی توحید بجالا تے اور اطاعت وشکر اداکرتے، اس لئے کہ اللہ سبحانہ کی اطاعت، اس کی معصیت سے اجتناب اور اس سے حیاء دل میں اس کی توقیر کے بقدر ہوتی ہے۔ (ابن القیم: 3؍203)
سوال: دل میں اللہ کی توقیر کی علامت کیا ہے؟
قَالَ نُوحٞ رَّبِّ إِنَّهُمۡ عَصَوۡنِي وَٱتَّبَعُواْ مَن لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهُۥ وَوَلَدُهُۥٓ إِلَّا خَسَارٗا ٢١
بلا شبہ دنیا میں ان پرکشادگی کرنا ان کی سرکشی، انکار حق اور خواہش نفس کی پیروی کا سبب تھا یہاں تک کہ انہوں نے کفر کیا اور دوسروں کو استعمال کیا تووہ ان پر غالب ہوگئے اور خود خسارہ اٹھانے کیوجہ سے ان کی بدبختی اور خسارے کا سبب بنے۔ (البقاعی: 20؍447)
سوال: نیک افراد کی پیروی ترک کرنے اور مال اورنفس پرستی کی پیروی کرنے والوں کی بد نصیبی واضح کیجئے ؟
إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا ٢٧
یعنی ان کا باقی رہنا خود ان کے لئے اور دوسروں کے لئے محض فساد ہے، نوح علیہ السلام نے یہ بات اس لئے کہی کہ ان کے ساتھ بکثرت رہنے اور ان کے اخلاق کا مشاہدہ کرنے کی وجہ سے ان کے اعمال کا نتیجہ انہیں معلوم ہوگیا تھا، بلا شبہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان سب کو غرق کردیااور نوح اور ان کے ساتھ جو مومنین تھے انہیں نجات دے دی۔(السعدی: 889)
سوال : کیوں نوح علیہ السلام نے اپنی قوم پربد دعا کی؟
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيۡتِيَ مُؤۡمِنٗا وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۖ
اس سے یہ مسئلہ اخذ کیاجاتا ہے کہ دعا کی یہ سنت ہے کہ انسان پہلے اپنےلئے دعا کرے پھر دوسروں کے لئے۔ (ابن جزى: 2؍495)
سوال: نوح علیہ السلام کی اس دعا سے آپ کیا فائدہ اخذ کرتے ہیں؟
رَّبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيۡتِيَ مُؤۡمِنٗا وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۖ
(نوح علیہ السلام نے) دعا میں مذکور اشخاص(والدین) کو خاص طور سے ذکرکیا کیونکہ ان کا حق (دوسروں کے مقابلے میں) تاکیدی اور یقینی ہے، اور ان کے ساتھ حسن سلوک مقدم ہے،پھراس کے بعد عمومی دعا کی۔ (السعدی:890)
سوال : دعا میں مومنین سے پہلے خصوصیت کے ساتھ والدین کا ذکر کیوں ہے؟