قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭙ ٥٣ ٥٣ ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ
٥٤ ٥٤ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ
ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ
ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ٥٥ ٥٥ ﮃ ﮄ ﮅ
ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ
ﮎ ﮏ ٥٦ ٥٦ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٥٧ ٥٧ ﮞ ﮟ
ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ٥٨ ٥٨ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ
ﯕ ﯖ ٥٩ ٥٩ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
٦٠ ٦٠ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٦١ ٦١
رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلۡتَ وَٱتَّبَعۡنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكۡتُبۡنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ ٥٣
(مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔یعنی مختلف امتوں کے ان لوگوں کے ساتھ شامل کردے جو حق کی گواہی دیں گے ۔اوراس کا یہ معنی بھی بتایا گیا ہے کہ:محمد ﷺ کی امت کے ساتھ۔ (ابن جزی: ۱؍۱۴۷)
سوال:آپ پر کون سا عمل کرنا ضروری ہے کہ آپ بھی اس دعا میں شامل ہوجائیں؟
وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ ٥٤
اللہ کا مکر یعنی اس کاداؤ اور چال یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آہستہ آہستہ اس طرح ڈھیل دیتاہے کہ انہیں اس کا علم اور احساس نہیں ہوپاتا ۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:اللہ کی طرف سے مکر وچال یہ ہے کہ بندے جب بھی کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ،ہم انہیں نئی نعمت دے دیتے ہیں ۔ ( القرطبی:۵؍۱۵۱)
سوال:آیت نے بندے کے ساتھ اللہ کے مکرکی ایک شکل بیان کی ہے ۔وہ کیا ہے؟
وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ
یعنی یہ فوقیت اور برتری حجت کے ذریعہ اور دلیل قائم کرکے حاصل ہوگی۔اور ایک قول یہ ہے کہ قوت وغلبہ کے ذریعہ ۔ (القرطبی:۵؍۱۵۶)
سوال:اہلِ توحید کو دوسروں پر کس طرح برتری حاصل ہوتی ہے؟
وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوۡقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ ثُمَّ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيمَا كُنتُمۡ فِيهِ تَخۡتَلِفُونَ ٥٥
ان سے مراد امتِ محمدیہ ﷺ کے وہ مسلمان ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا مانتے ہیں اور توحید میں ان کے دین کی پیروی کرتے ہیں ۔لہٰذا یہ لوگ عزت ،قوت وشوکت اور دلیل وحجت میں غالب او ر حاوی رہتے ہوئے کافروں سے برتر رہیں گے۔ (البغوی:۱؍۳۶۱)
سوال:اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبعین کو مدد اورغلبہ دینے کا وعدہ کیا ہے ۔تو کیا یہ وعدہ محمد ﷺ کی امت کو بھی شامل ہے؟واضح کیجئے.
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُوَفِّيهِمۡ أُجُورَهُمۡۗ
یہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان مومنین کودنیا میں ان کے اعمال کا ثواب عزت وتکریم ،محبت واحترام اور خوشگوار زندگی کی شکل میں حاصل ہوگا اور قیامت کے دن ان کے اجر وثواب کے پورے پورے دئیے جانے کی شکل یہ ہوگی کہ جو کچھ نیکیاں اور بھلائیاں انہوں نے آگے بھیجی ہوں گی ،ان سب کو پورے طور پر موجود پائیں گے چنانچہ ان میں کا ہرعمل کرنے والا اپنے عمل کے اجر سے نوازا جائیگا ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان کے اجر وانعام میں اور زیادتی کردے گا۔ (السعدی: ۱۳۲)
سوال: یہ آیت مومنوں کو دنیا اور آخرت میں اجر ملنے پر کس طرح دلالت کرتی ہے؟
إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٖ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٥٩
یہ آیت نصاریٰ کی اس بات کے خلاف واضح دلیل ہے کہ :بیٹا ،باپ کے بغیر کیسے پیدا ہوسکتا ہے! لہٰذا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام سے دی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں اور بغیر باپ کے پیدا کیا تھا جوکہ اس سے کہیں زیادہ عجیب وغریب ہے جسے یہ لوگ خلافِ عقل سمجھ رہے ہیں ۔اس طرح یہ دلیل انہیں لاجواب کرتی اور ان کی بات کا منہ توڑ جواب دیتی ہے۔ (ابن جزی:۱؍۱۴۷)
سوال:اس آیت میں نصاریٰ کی دندان شکن اور مُسکت تردید ہے۔اختصار کے ساتھ اسے بیان کیجئے؟
ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ ٦٠
اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں ایک عظیم الشان قاعدے کی دلیل دی گئی ہے ۔اوروہ یہ ہے کہ:جن باتوں کا حق ہونا دلیلوں سے ثابت ہوجائے اور عقائد واعمال کے جن مسائل پر بندے کو پختہ یقین ہوجائے تو اب یہ یقین رکھنا فرض ہے کہ اس ثابت شدہ حق کے خلاف جو بات بھی ہوگی ،وہ باطل ہے۔ نیز اس حق پر جو بھی اعتراض اور شبہ قائم کیا جائے،وہ فاسد ہے ۔خواہ بندہ اس کا جواب دے سکے یا نہ دے سکے ۔اس کے جواب نہ دے پانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دلیلوں سے ثابت یہ یقینی بات عیب دارہے ۔اس لئے کہ جوبات حق کے مخالف ہو ،وہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ) (سورہ یونس:32) حق کے علاوہ جو کچھ ہے وہ محض گمراہی ہے۔اس شرعی قاعدے کے ذریعہ انسان سے وہ بہت سارے اعتراضات واشکالات دور ہوجاتے ہیں جنہیں عقل پرست اہلِ کلام واہلِ منطق پیش کرتے رہتے ہیں ۔
اگر انسان ان اعتراضات کا جواب دے دے تو یہ اس کی طرف سے افضل بات ہے ۔اور اگر جواب نہیں دے سکتا تو اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دلائل کے ساتھ حق کو بیان کرے اور اس کی طرف بلائے۔ (السعدی: ۱۳۳)
سوال:عقیدے کے وہ مسائل جو کتاب وسنت کی روشنی میں بالکل واضح اور صریح ہیں ۔ایسے مسائل کے بارے میں اگر اعتراض کیا جائے تو ایک توحید پرست مسلمان ان سے کیسے نپٹے؟