قرآن
ﯱ
ﱕ
ﭝ ١٨ ١٨ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ١٩ ١٩ ﭧ
ﭨ ٢٠ ٢٠ ﭪ ﭫ ٢١ ٢١ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ٢٢ ٢٢ ﭵ ﭶ ﭷ ٢٣ ٢٣ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ
ﭾ ٢٤ ٢٤ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ٢٥ ٢٥ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ
٢٦ ٢٦ ﮋ ﮌ ﮍ ٢٧ ٢٧ ﮏ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ
٢٨ ٢٨ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ٢٩ ٢٩ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ
ﮢ ٣٠ ٣٠ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ٣١ ٣١ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ٣٢ ٣٢ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ٣٣ ٣٣ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ٣٤ ٣٤
ﯨ ﯩ ﯪ ٣٥ ٣٥ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ٣٦ ٣٦ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ٣٧ ٣٧ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ٣٨ ٣٨ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ
ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٣٩ ٣٩ ﰊ ﰋ ﰌ
ﰍ ٤٠ ٤٠ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ٤١ ٤١ ﰘ
ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ﰟ ﰠ ٤٢ ٤٢
إِنَّا بَلَوۡنَٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ
ہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ذریعہ آزمایا، انہیں مہلت دی، اور ان کی خواہش نفس کے مطابق ہم نے جو چاہا مال واولاد اور لمبی عمر وغیرہ سے ان كى مددکی۔ اور یہ ہمارے نزدیک ان کی عزت کی وجہ سےنہیں ہے بلکہ یہ انہیں آہستہ آہستہ کھینچناہے کہ انہیں شعور بھی نہ ہو سکے۔ (السعدی: 880)
سوال: کیا امیری اور غریبی اللہ کی امیر بندے سے محبت اور غریب بندے سے بغض کی دلیل ہے؟
فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآئِفٞ مِّن رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآئِمُونَ ١٩
صدقہ کی عدم ادائیگی (کے گناہ) میں ملوث ہونے سے قبل ان کے عذاب میں جلدی کی گئی اس لئے کہ ان کا عدم ادائیگی کا عزم کرنا اوراس پر قسمیں کھانا دلیل تھی کہ وہ اپنے صدقات نہیں ادا کریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں (حقیقت میں)ادا نہ کرنے والا شمار کیا گیا۔ اس آیت سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اپنے مال کے ذریعہ دوسروں کی مدد نہیں کرتے۔ (ابن عاشور: 29؍82 )
سوال: عدم ادائیگی میں ملوث ہونے سے قبل صرف عزم کی وجہ سے باغ والوں کے عذاب میں کیوں جلدی کی گئی؟
وَغَدَوۡاْ عَلَىٰ حَرۡدٖ قَٰدِرِينَ ٢٥
انہوں نے مسکینوں کو نہ دینے کا عزم کیااور محروم ومعتوب رکھنے کی سعی کی جبکہ وہ ان کو فائدہ پہنچانے پر قادر تھے،اب وہ ایسی حالت سے دوچار ہوگئے جس میں انہیں صرف عدم ادائیگی اور محرومی ہی ہاتھ آئی، اور یہ محض اس وجہ سے کہ انہوں نے مسکینوں کو محروم کرنا چاہا تووہ پہلے ہی محروم ہوگئے۔ (الألوسی: 15؍36 )
سوال: آیت میں مذکور باغ والوں کو ان کے باغ سے کس چیز نے جلد محروم کیا؟
بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ ٢٧
مسکینوں کو نہ دینے اور ان شاء اللہ کے ترک کرنے کی وجہ سے ہم باغ کے خیر اور نفع سے محروم کر دیئے گئے۔ (البغوی:4؍451)
سوال: ان کے اس خیر سے محروم ہونے کا سبب کیا تھا؟
قَالَ أَوۡسَطُهُمۡ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُونَ ٢٨
(أوسطهم) ان میں سب سے افضل اور خیر کے سب سے قریب، وه تین بھائیوں میں سے ایک تھا۔ وسط کا اطلاق سب سے بہتر اور افضل پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا﴾ [البقرة: 143]،اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا۔ اور فرماتاہے: ﴿حَٰفِظُواْ عَلَى ٱلصَّلَوَٰتِ وَٱلصَّلَوٰةِ ٱلۡوُسۡطَىٰ﴾ [البقرة: 238]. نمازوں اور افضل نماز کی پابندی کرو۔ (ابن عاشور 29؍86)
سوال: ان میں سب سے بہتر کو خصوصیت کے ساتھ کیوں ذکر کیا گیا؟
إِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمۡ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٣٤
ان کو قریب کرنا اللہ سبحانہ کی رضامندی پر دلالت کرتا ہے، اور گھر کے مالک کی رضامندی گھر دیکھنے سے پہلے مطلوب ہوتی ہے۔ (البقاعی 20؍317 )
سوال: اللہ کے قول: (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کی دلالت کیا ہے؟
يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَن سَاقٖ وَيُدۡعَوۡنَ إِلَى ٱلسُّجُودِ فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ ٤٢
جس حالت میں وہ تھے اس کے برعکس انہیں سزا دی گئی، اس كى وجہ یہ ہے کہ جب انہیں دنیا میں سجدہ کرنے کی دعوت دی گئی اور صحت وسلامتی کے باوجود انہوں نے سجدہ نہ کیا تو انہیں آخرت میں سجدہ کرنے پر قادر نہ ہونے کی سزا دی گئی، جب رب عز وجل تجلی فرمائے گا تو مومنین اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے اور کافرین ومنافقین میں سے کوئی بھی سجدہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھے گا، بلکہ ان کی پشت تخت کی طرح بن جائیں گی۔ (ابن کثیر 4؍407 )
سوال: اس دن انہیں سجدہ ریز ہونے سے کیوں روکا جائے گا؟