قرآن
ﯮ
ﱔ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ
ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ١ ١
ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ
ﮟ ٢ ٢ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ٣ ٣ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ
ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ
ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ
ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ٤ ٤ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ
ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ٥ ٥
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡۖ لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ
اللہ کے قول: (واتقوا الله ربكم) میں احکام طلاق وعدت میں تساہل برتنےسے ڈرایا گیا ہے۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت کے لوگ عورتوں کی کچھ بھی قدر نہیں کرتے تھے۔ اور مطلقہ عورتوں کے قرابتدار بھی بہت ہی کم ان کی طرف سے مدافعت کرتے تھے۔ بنابریں لوگوں نے عورتوں کے حقوق کو بھلادیا اور ان کو حقیر جانا۔ اسی وجہ سے لوگوں کو چیلنج کرتے وقت ان آیتوں کا لہجہ بہت ہی سخت ہے، اور ان حقوق کو تقوىٰ اور اللہ کے حدود سے تعبیر کیا گیاہے، اور تقوىٰ پر مزید حرص دلانے کے لیے لفظ جلالہ اللہ کی صفت رب سے بیان کی گئی ہے یہ بتلا نےکے لیے کہ وہ اس لائق ہے کہ اس کے غضب سے بچاجائے۔ (ابن عاشور: 298–299)
سوال: احکام طلاق کے درمیان تقوىٰ کے ذکر کا کیا فائدہ ہے؟
ذَٰلِكُمۡ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢
اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کو خاص طور پر یہاں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ در حقیقت وہی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، دوسرا اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا ہے۔(الشوکانی: 5؍241)۔
سوال: وعظ ونصیحت کے ساتھ مومن کو کیوں خاص کیا گیا ہے؟
وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢
لہٰذا جو اللہ کا تقوىٰ لازم نہیں پکڑتاہے وہ ان مصیبتوں اورپریشانیوں میں واقع ہوجاتا ہے جن سے نجات پانے اور اس کے انجام سے باہر نکلنےپر قادر نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: مسئلہ طلاق کو لے لیجیے اب اگر کوئی مسلمان اس بارے میں اللہ تعالىٰ سے نہیں ڈرتا ہے اور حرام طریقہ سے طلاق دیتا ہے۔جیسے تین طلاق ایک ساتھ دینا یا اسی طرح کسی دوسری حرام صورتیں، ایسی صورت میں ضروراسے ایسی ندامت لاحق ہوتی ہے جس کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اس سے باہر نکلنا ممکن ہوتا ہے۔ (السعدی :870)
سوال: جس نے اللہ کا تقوىٰ اختیار نہیں کیا تو بحرانوں اور مصیبتوں میں اس کے حالات کیسے ہوں گے؟
وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢
(يجعل له مخرجا) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اسے دنیا و آخرت میں ہر مصیبت سے نجات دیتا ہے۔ اور کہا گیا: مخرج یہ ہے کہ اللہ اسے اپنی طرف سے عطا کردہ نعمت پر قانع کردیتا ہے۔ اور کلبی کہتےہیں کہ اسے جہنم سے جنت کی طرف جانے کی راہ ہموار کردے گا۔ اور ربیع بن خثیم کا فرمان ہے: جس میں لوگوں کے لیے تنگی وپریشانی ہے اس سے چھٹکارے کی سبیل پیدا کردےگا۔ (القرطبی:21؍42-43)
سوال: آیت میں مخرج سے کیامراد ہے؟
وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُۚ
بعض علماء کا کہنا ہے کہ روزی دو طرح کی ہوتی ہے :
1۔وہ روزی جس کی ضمانت ہر جاندار کو اس کی زندگی بھرکے لیے دی گئی ہے۔ اور وہ غذا اور خور اک ہے جس سے زندگی باقی رہتی ہے۔ اور اس آیت :﴿وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزۡقُهَا﴾ [هود: 6]. (زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں ۔) میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
2۔وہ روزی جس کا وعدہ خصوصی طور پر اہل تقوىٰ سے کیا گیا ہے۔ اس آیت میں اسی روزی کا ذکر ہے (ابن جزی:2؍456)
سوال: اس آیت میں روزی کے بیان کردہ دو اقسام کون سے ہیں؟
وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَيۡءٖ قَدۡرٗا ٣
جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیاکہ وہ اپنے اوپر توکل کرنے والے کے لیے کافی ہے۔ اس سے یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ توکل پائے جاتے ہی اللہ تعالیٰ فورا اپنے بندہ کے لیے کافی ہوجائے گا۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے بعد فورا یہ فرمایا: (قد جعل الله لكل شيء قدرًا)یعنی: (اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک وقت متعین کردیا ہے) جس کو وہ تجاوز نہیں کرے گا۔ لہٰذا اللہ اس چیز کو اس کے وقت مقررہ تک لے جاتاہے ۔بنابریں توکل کرنے والے کو جلد بازی میں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں نے توکل کیا اور دعا کی لیکن اس کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا ۔ اور میرے لیے اللہ کافی نہیں ہوا کیونکہ اللہ تعالىٰ اپنے حکم کو اس کے وقت مقررہ پر نافذ کرنے والا ہے۔ (ابن قیم: 3؍165)
سوال: اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اپنے اس قول: (قد جعل الله لكل شيء قدرًا)یعنی: (اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک وقت متعین کردیا ہے)سے کیوں ختم کیا ؟
ذَٰلِكَ أَمۡرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُۥٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُعۡظِمۡ لَهُۥٓ أَجۡرًا ٥
(ويعظم له أجرًا) اللہ تعالىٰ فرماتاہے کہ وہ اس کواس کے عمل و تقوىٰ پر بہت زیادہ ثواب دے گا۔ اور اس کا اپنے بندہ کوبہت زیادہ اجر دینے میں یہ بھی شامل ہےہے کہ اس کو اپنی جنت سے نواز دےگا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔(طبری:23؍456)
سوال: اللہ تعالیٰ کس طرح اس کا اجر زیادہ کرے گا جو اس کا تقویٰ اختیار کرےگا؟