قرآن
ﯫ
ﱔ
ﭛ ﭜ ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
٩ ٩ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ
ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ١٠ ١٠
ﭸ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ١١ ١١
ﯬ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ١ ١ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ ﮮ
ﮯ ٢ ٢ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ ﯚ
ﯛ ﯜ ٣ ٣ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ
ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ
ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ٤ ٤
فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٩
نماز كا ذكر نہ كركے الله كے ذكر كو ترجیح دى گئى جیسا كہ بعد میں (فإذا قضيت الصلاة) كہہ كر نماز كا ذكر كیا گیا تاكہ اس سے خطبہ اور نماز دونوں مقصد حاصل ہوجائے ۔ (ابن عاشور: 28؍225)
سوال: یہاں اللہ کے ذکر کا کیا مقصد ہے ؟
فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ
عراك بن مالك رضی اللہ عنہ جب جمعہ كى نماز سے فارغ ہوتے تو مسجد كےدروازے پر كھڑے ہوكر یہ دعا كرتے: “اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَجَبْتُ دَعْوَتَكَ، وَصَلَّيْتُ فَرِيْضَتَكَ، وَانْتَشَرْتُ كَمَا أَمَرْتَنِيْ، فَارْزُقْنِيْ مِنْ فَضْلِكَ وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِيْنَ”۔ (ابن كثیر: 4؍367)
سوال: عراك بن مالك رضی اللہ عنہ اس آیت پر كیسے عمل كرتےتھے؟
فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ١٠
تجارت میں مشغول ہوجانے میں چونكہ الله كے ذكر سے غفلت كا امكان ہے اسى لئے زیاده سے زیاده ذكر کا حكم دیاگیاہے۔ (السعدى: 863)
سوال : زمین میں پھیل جانے اور رزق تلاش كرنے كے حكم كےبعد اس آیت كے آخر میں الله كا ذكر كرنے كا حكم كیوں دیا گیا؟
وَإِذَا رَأَوۡاْ تِجَٰرَةً أَوۡ لَهۡوًا ٱنفَضُّوٓاْ إِلَيۡهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمٗاۚ قُلۡ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ مِّنَ ٱللَّهۡوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٰرَةِۚ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ١١
طاعت الٰہى پر صبر كرنے سے رزق نہیں جائےگا ، كیونكہ الله تعالىٰ بہتر روزى دینےوالا ہے، چنانچہ جو الله سے ڈرےگا اسے وه ایسى جگہ سے روزى دے دےگا جس كا اسے گمان بھى نہ ہوگا۔ (السعدى: 863)
سوال: آیت كےاندر اس بات كى طرف اشاره ہے كہ الله كا تقوىٰ روزى كے اسباب میں سےہے، اس كى وضاحت كریں.
إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ قَالُواْ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ ١
الله تعالىٰ نے منافقوں پر جھوٹ كى گواہى دى ہے جبكہ بظاہر ان كى بات حق ہے ؛ كیونكہ ان كا باطن ان كے ظاہر کو جھٹلا رہا ہے، اس لئے كہ اعمال كا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (الشنقیطی: 8؍188)
سوال: الله تعالىٰ نے ان منافقوں پر جھوٹ كى گواہى كیوں دى؟
۞وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٤
یہ ایسے لوگ ہیں جو دیكھنے میں خوبصورت ٹیك لگائى ہوئى لكڑى لگتےہیں ، انہیں دیوار سے ایسى ٹیك لگائى ہوئى لكڑى سے تشبیہ دى گئى جو نہ سنتےہیں اور نہ سمجھتے ہیں، جن كى شبیہ تو ہے مگر روح سے خالى، جسم تو ہے مگر عقل سے عاری۔ اور كہاگیا: انہیں تشبیہ در اصل اس لكڑى سے دى گئى ہے جو سڑ چكى ہو اور دوسرى چیز سے ٹیك لگائى ہو جس كے بارے میں نہ پتہ ہو كہ اندر كیا ہے۔(القرطبى: 20؍500)
سوال: ٹیك لگائى ہوئى لكڑى سے ان كى تشبیہ دینے كى كیا وجہ ہے؟
هُمُ ٱلۡعَدُوُّ
یہى حقیقى دشمن ہیں؛ كیونكہ كھلا دشمن اس دشمن سے زیاده ہلكا ہے جس كا پتہ نہ ہو اور ساتھ ہى وہ دھوكےباز چالباز بھى ہو، اور اظہار كرے كہ وه دوست ہے جب كہ پکا دشمن ہے۔ (سعدى: 864)
سوال: الله تعالىٰ نے منافقوں كےبارے میں یہ كیوں كہا كہ وہى حقیقى دشمن ہیں؟