قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ

١ ١


٢ ٢

٣ ٣
ﭿ
٤ ٤



٥ ٥

٦ ٦

٧ ٧


٨ ٨
553
سورۃ الجمعہ آیات 0 - 1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١

دوسرى سورتوں میں تسبیح فعل ماضى كےساتھ ہے جبكہ اس سورت میں فعل مضارع كےساتھ ہے ، اس کی مناسبت یہ ہے كہ اس سورت كا مقصد نماز جمعہ كى فضیلت بتانا ہے، اور ان لوگوں كى مذمت كرنا ہے جو نماز چھوڑ كر تجارت یا لہو ولعب کے لئے چلےگئےتھے، اسى مناسبت سے بیان كیا كہ آسمان اور زمین والے سب الله كى تسبیح ہمیشہ اور مسلسل بیان كرتےہیں ، گویا اس سے ان لوگوں كى طرف اشاره ہے جنہوں نے نماز جمعہ پورى نہیں كى۔ (ابن عاشور: 28؍206)
سوال: اس سورت میں تسبیح كا فعل (يُسَبِّحُ) مضارع كیوں آیا ہے جبكہ دوسرى سورتوں میں ماضى آیا ہے؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ

الله تعالىٰ خبر دےرہا ہے كہ آسمان وزمین كى سارى مخلوقات چاہے وه بولنے والى ہوں یا جمادات ہوں سب اس كى تسبیح بیان كررہى ہیں۔ (ابن كثیر: 4؍363)
سوال: كیا الله كى تسبیح صرف بولنے والى مخلوق كرتى ہے؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 2

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢

سب سےپہلے تلاوت كا ذكر كیا ؛ كیونكہ تبلیغ دعوت میں سب سے پہلے وحى كى تبلیغ ہوتى ہے، دوسرے نمبر پر تزكیہ كا ذكر كیا ؛ كیونكہ دعوت كى ابتدا معنوى گندگى سے پاک کرنے سے ہوتى ہے اور معنوی گندگی سے مراد شرك اور سارے برے اعمال و اخلاق ہیں ، پھر اس كےبعد قرآن كى تعلیم كا ذكر كیا ؛ كیونكہ قرآن كے ذریعے آپ ان کے لئے اسكے مقاصد اور مفاہیم كو واضح كریں گے۔ (ابن عاشور: 28؍209)
سوال: عبارت كى ابتداكیوں سب سے پہلے تلاوت سے كى ، پھر تزكیہ اور پھر كتاب وحكمت كى تعلیم سے ؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 2

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٢

كتاب یعنى قرآن كا مقصد اسے سمجھنا اور اس پر عمل كرنا ہے، یعنی اس کا مقصد ایسا علم جو عمل سے مزین ہو، اور ایسا عمل جو معقول اور منقول دونوں علم كے ذریعے مضبوط و بے خلل ہو، تاکہ یہ لوگ ہر چیز كو اس كے محكم جگہوں پر ركھ سكیں ، اوربنو اسرائیل کی طرح کتاب سے نہ بھٹکیں۔ ورنہ ان كى بھى مثال اس گدھے جیسى ہوجائےگی جو كتابوں كو اٹھائےہوئے ہو۔ اور رسول اللهﷺ كیلئے بطور معجزه اگر صرف یہى كتاب ہوتى تو کافی ہوتا۔ (البقاعى: 20؍51)
سوال: ایك مسلمان قرآن كریم سے پورے طور پر فائده كیسے اٹھا سكتاہے؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ بِئۡسَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥

الله تعالىٰ مذمت بیان كرتےہوئے فرماتا ہے ان یہودیوں كى جنہیں توارت دیا گیا اور اس پر عمل كرنے كیلئے انہیں ابھارا گیا لیكن انہوں نے اس پر عمل نہیں كیا تو ان كى مثال اس گدھے جیسى ہوگئى جو كتابوں كا گٹھر لاد كر چل رہاہو، یعنى وه حسى طور پر كتابوں كو لادےہوئے ہے لیكن ان میں ہے کیا؟ اسے كچھ پتہ نہ ہو ، اسى طرح یہ لوگ بھی ہیں كہ یہ تورات كو لئےہوئےہیں،اس کے الفاظ یاد ہیں لیکن اسے نہ تو سمجھا اور نہ ہى اسكے تقاضوں پر عمل کیا۔ (ابن كثیر: 4؍364)
سوال: كیا وه حافظ قرآن جو اسے یاد ركھتا ہے ، لیكن اسے نہ تو سمجھتا ہے ، نہ اس میں غور وفكر كرتاہے اور نہ ہى اس پر عمل كرتا ہے وه اہل قرآن میں شمار كیا جائےگا؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ

یہ مثال گرچہ یہودیوں كیلئےہے لیكن معنوى اعتبار سے یہ مثال اس شخص كیلئے بھى ہے جو قرآن کا علم ركھتا ہے پر اس پر عمل نہیں كرتا، نہ اسكا حق ادا كرتاہے، اور نہ ہى اسكا اس طرح خیال كرتا ہے جیسا كہ كرنا چاہئے۔ (القاسمی: 9؍229)
سوال: كیا یہ مثال صرف اہل تورات كے ساتھ خاص ہے؟

سورۃ الجمعہ آیات 0 - 5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ

میمون بن مہران نے كہا: گدھے كو پتہ نہیں ہوتا كہ اس كى پشت پر كتابوں كا بنڈل ہے یا كوڑے كا ڈھیر، اسى طرح یہودى ہیں۔ (الشوكانى: 5؍225)
سوال: میمون كے قول كى روشنى میں بتلائیے كہ یہودیوں كو گدھوں سے تشبیہ دینے کا سبب کیا ہے؟