قرآن
ﯩ
ﱔ
ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ٦ ٦ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ
٧ ٧ ﭹ ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ
ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ
٨ ٨ ﮐ ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ
ﮚ ﮛ ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ٩ ٩ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ﮭ
ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ
ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ
ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ
ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ
ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ١٠ ١٠ ﰉ ﰊ
ﰋ ﰌ ﰍ ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ
ﰔ ﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙ ﰚ ﰛ ﰜ ﰝ ﰞ ١١ ١١
وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٦
(ومن يتول) (اور جو منہ موڑے گا) یعنى اسلام سے اور ان نصیحتوں كو قبول كرنےسے (فإن الله هو الغني)(تو الله بےنیاز ہے) یعنى اس نے انہیں عبادت و بندگی کا حکم اس لئے نہیں دیا ہے کہ وہ ان کا محتاج ہے۔ (الحميد) (بڑا حمدوالا ہے) یعنى اپنى ذات اور صفات میں۔ (القرطبى: 20؍405)
سوال: الله تعالىٰ كےان دونوں ناموں پر آیت ختم كرنے كى كیا مناسبت ہے؟
۞عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ عَادَيۡتُم مِّنۡهُم
الله تعالىٰ نے جب مسلمانوں كو كافروں كےساتھ دشمنى كرنے اور ان سے قطع تعلق كا حكم دیا تو انہوں نے اس پر عمل كیا گرچہ ان كے اور كافروں كے درمیان قرابت دارى تھى، اورالله تعالىٰ كو ان كى سچائى كا پتہ چلا تو اس آیت كے ذریعہ انہیں مانوس كیا اور وعده كیا كہ ان كےدرمیان ایك دن محبت پیدا كردےگا ، اور یہ محبت فتح مكہ كےوقت پورى ہوئى جس وقت قریش كے سارے لوگ اسلام لےآئے۔(ابن جزى: 2؍436)
سوال: كافروں سے براءت كى گفتگو كےبعد اس آیت كى كیا مناسبت ہے؟
۞عَسَى ٱللَّهُ أَن يَجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ ٱلَّذِينَ عَادَيۡتُم مِّنۡهُم مَّوَدَّةٗۚ وَٱللَّهُ قَدِيرٞۚ
(عسى الله أن يجعل بينكم وبين الذين عاديتم منهم مودة) (قریب ہے الله تعالىٰ تمہارے اور تمہارے دشمنوں كےدرمیان محبت پیدا كردے) اس كا سبب ان كا ایمان كى طرف رجوع كرنا ہے۔ (والله قدير) (الله قدرت والا ہے) ہر چیز پر، انہیں میں سے دلوں كو ہدایت دینا اور انہیں ایك حالت سے دوسرى حالت كى طرف پھیرنا بھى ہے۔(السعدى: 856)
سوال: مشركین كى دشمنى محبت میں بدلنے كے امكان كو ذكر كرنے كےبعد الله تعالىٰ نے اپنى قدرت كا ذكر كیوں كیا ہے؟
لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ ٨
جب الله تعالىٰ نے (مطلق طور پر) بیان كردیا كہ مومنوں کے لئے كافروں كےساتھ دوستى نہ کرنا اور دشمنى کرنا بہتر اورمناسب ہے تو اب تفصیلى بات بتا رہاہے كہ ان میں سے كس طرح كے لوگوں كےساتھ بھلائى كرنا جائز ہے اور كس كےساتھ جائز نہیں ہے چنانچہ فرمایا: (لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين...)(جو دین كى خاطر تم سے نہیں لڑتےہیں ان كے ساتھ بھلائى كرنے سے الله تمہیں نہیں روكتاہے)۔(الشوكانى : 5؍213)
سوال: اس آیت كا ماقبل سے كیا تعلق ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا جَآءَكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ مُهَٰجِرَٰتٖ فَٱمۡتَحِنُوهُنَّۖ
قشیرى نے كہا: خلاصہ یہ كہ امتحان معرفت كا راستہ ہے ، اور لوگوں كى اصلیت كا پتہ تجربےكے بعد ہى چلتاہے، اور بغیر تجربہ كئے اگر كوئى كام كرتا ہےتو اسے ندامت اٹھانى پڑتى ہے۔ (البقاعى : 19؍514)
سوال: امتحان(لوگوں كو آزمانے ) كى كیا اہمیت ہے ؟
فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ
اس میں اس بات كى طرف اشاره ہے كہ ایمان كا پتہ لگانا یقینى طور پر ممكن ہے۔(ابن كثیر: 4؍351)
سوال: كیا كسى كے ایمان كاپتہ لگانایقینى طور پر ممكن ہے؟
فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰتٖ فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى ٱلۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلّٞ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّۖ وَءَاتُوهُم مَّآ أَنفَقُواْۚ
مسلمان عورت كو روكنے كى صورت میں الله تعالىٰ نے حكم دیا كہ اس كے سابق شوہر كو اسكا كیا ہوا خرچ لوٹا دیں، اور یہ ایفائے عہد میں سےہے ؛ كیونكہ جب اسلام كى حرمت كى وجہ سے اسے اس كے اہل سے روك دیا گیا تو پھر مال كو لوٹا نے كا حكم ہوا تاكہ بیوى اور مال دونوں طرح سے اسے خساره نہ ہو ۔ (القرطبى: 20؍414)
سوال: آیت كى روشنى میں ایفائے عہد كى کوئی ایك صورت ذكر كریں.