قرآن
ﮏ
ﰻ
ﭝ ﭞ ﭟ ﭠ ﭡ ٣٨ ٣٨ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ
ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ
ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ٣٩ ٣٩ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ﮃ ﮄ
ﮅ ﮆ ﮇ ﮈ ﮉ ٤٠ ٤٠ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ
ﮑ ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ٤١ ٤١ ﮢ ﮣ
ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ ﮨ ﮩ ﮪ
ﮫ ﮬ ﮭ ٤٢ ٤٢ ﮯ ﮰ ﮱ ﯓ
ﯔ ﯕ ﯖ ٤٣ ٤٣ ﯘ ﯙ ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ
ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ﯣ ﯤ ﯥ ﯦ ﯧ
ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ ٤٤ ٤٤ ﯮ ﯯ ﯰ
ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ﯶ ﯷ ﯸ ﯹ
ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ ٤٥ ٤٥
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥۖ قَالَ رَبِّ هَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةٗ طَيِّبَةًۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٨
یہاں حضرت زکریا علیہ السلام کی طلب ودعا ‘‘ہِبہ’’کے لفظ سے آئی ہے ۔اس لئے کہ ہبہ خالص احسان ہوتا ہے ،کسی چیز کے بدلہ اور مقابلہ میں نہیں ہوتا ۔ اور پھر یہ لفظ ہبہ اس بات سے بھی مناسبت رکھتا تھا کہ یہاں پر بچے کی پیدائش میں نہ والدکا دخل ممکن تھا کیونکہ وہ بوڑھے ہوچکے تھے اور نہ والدہ کا دخل ممکن تھا کہ وہ بانجھ ہوچکی تھیں ولادت ممکن نہیں رہ گئی تھی۔ (الألوسی:۳؍۱۴۴)
سوال:یہاں بچے کی درخواست ہبہ کے لفظ سے کیوں آئی ہے؟
فَنَادَتۡهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٞ يُصَلِّي فِي ٱلۡمِحۡرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيَىٰ
اس بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ ان کا نام یحییٰ کیوں رکھا گیا؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ ان کی ماں کا بانجھ پن ختم کردیااور رحم کو پھر سے زندہ کردیا۔
اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو ایمان کی زندگی عطافرمائی تھی ۔ اور ایک قول یہ ہے: وہ شہید ہوئے تھے اور شہداء زندہ ہوتے ہیں۔اورلفظ یحییٰ میں زندہ ہونے کا معنی ہے۔ (البغوی:۱؍۳۴۸)
سوال:اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی یحییٰ علیہ السلام کا یہ نام کیوں رکھا؟
ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمۡزٗاۗ
(رَبِّ اجْعَلْ لِّيْۤ اٰيَةً) رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔یعنی مجھے بچہ کے وجود میں آجانے کی علامت بتادے۔فرمایا: (ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمۡزًاۗ ) تمہاری نشانی یہ ہے کہ تین دنوں تک تم کسی سے بات نہیں کرسکوگے سوائے اشارے کے۔یعنی:تمہاری زبان بغیر کسی آفت ومصیبت اور بغیر کسی عیب وخرابی کے بات کرنے سے رک جائیگی اور تم صرف رمز واشارے سے کام لے سکوگے۔اور یہ بہت بڑی نشانی ہے کہ تم بات نہیں کرپاؤگے۔
اس میں عجیب مناسبت ہے کہ:جس طرح اسباب کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے نافذ ہونے اور کام کرنے سے روک سکتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ چیز وں کو بغیر اسباب کے پیدا کرسکتا ہے جیسا کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے بڑھاپے اور ان کی بیوی کے بانجھ پن کے باوجود ان کے یہاں اولاد پیدا کردی اور زبان ہوتے ہوئے اسے بولنے سے روک دیا۔ اس کا مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ تمام اسباب اللہ کی تقدیرکے تابع ہیں۔ (السعدی:ص؍۱۳۰)
سوال:حضرت زکریاعلیہ السلام کا کلام سے رک جانا اور بانجھ پن کے باوجود اولاد کا ملنا،اللہ کی قدرت کی دونشانیاں ہیں۔اس کی وضاحت کیجئے.
إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰكِ
حضرت مریم کے کثرت سے عبادت کرنے ،دنیا سے بے رغبتی برتنے ،ان کی شرافت وعزت اور ہر طرح کی گندگی ،برے خیالات اور شیطانی وسوسوں سے پاک اور دور رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب کرلیا اور اپنی قربت کا خاص درجہ عطافرمایا۔ (ابن کثیر:۱؍۳۴۲)
سوال: اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم بنتِ عمران کا انتخاب کیوں فرمایا؟
يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ٤٣
رکوع سے مراد : خشوع اور تواضع یعنی عاجزی اور انکساری ہے ۔حضرت مریم کو عاجزی وانکساری کا حکم دینے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے بلند درجہ کی وجہ سے تکبر اور برتری(بڑائی اور شیخی)کے گڑھوں میں گرنے سے محفوظ رہیں۔ (الألوسی: ۳؍۱۵۷)
سوال:حضرت مریم کو سجدہ ورکوع کرنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
يَٰمَرۡيَمُ ٱقۡنُتِي لِرَبِّكِ وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ٤٣
جب فرشتوں نے حضرت مریم کو یہ خبر دی کہ ان کا مقام ومرتبہ بہت اونچا ہے ،نیز انہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامل طور پر قربت حاصل ہے،تو اس کے بعد انہوں نے حضرت مریم کو نماز کی پابندی اور حفاظت کرنے کی وصیت کی تاکہ وہ کمزور نہ پڑیں اور لاپرواہی نہ برتیں۔ (الألوسی:۳؍۱۵۶)
سوال: حضرت مریم سے فرشتوں نے کہا: (وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ) سجدے کرتی رہواور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔ اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟
وَٱسۡجُدِي وَٱرۡكَعِي مَعَ ٱلرَّٰكِعِينَ ٤٣
عبادت میں سجدے اور رکوع کو خاص طور پر ذکر کیا گیا اس لئے کہ یہ دونوں زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور ان دونوں سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہا درجہ کی عاجزی ظاہر ہوتی ہے۔ (السعدی:۱۳۰)
سوال:سجدے اور رکوع کو بطورِ خاص کیوں ذکر کیا گیا؟