قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٠ ١٠



ﭿ
١١ ١١

١٢ ١٢


١٣ ١٣


١٤ ١٤


١٥ ١٥

ﯿ ١٦ ١٦
547
سورۃ الحشر آیات 0 - 10

وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٌ ١٠

جو صحابہ کے بعد آئے اس کی ایک تفسیر ہے کہ وہ تابعین ہیں، اور وہ لوگ جو قیامت تک صحابہ کی اتباع کرنے والے ہیں۔ مالک -رحمہ اللہ- نے اس آیت کو اسی پر محمول کیا ہے، اور کہا: یقیناً جس نے بھی کسی صحابی پر کیچڑ اچھالا مال غنیمت اور مال فیء میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بعد آنے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ دعاء کرتے ہیں: (يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان)؛ لہٰذا جس نے بھی اس کے بر خلاف کہا، وہ ان لوگوں سے نکل گیا جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے۔ (ابن جزی: ۲؍۴۳۰)
سوال: امام مالک -رحمہ اللہ –نے اس آیت سے کیسے استدلال کیا کہ جس نے بھی کسی صحابی پر کیچڑ اچھالا تو مال فیء میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 10

وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ

ایمان کے فضائل میں سے ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرتا ہے، کیونکہ سب اس ایمان میں مشترک ہیں جو ان کے ما بین اخوت وبھائی چارگی کا متقاضی ہےجس کی ایک شاخ یہ ہے کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے دعاء کرے۔ (السعدی: ۸۵۲)
سوال: ایمان کی ایک ایسی فضیلت ذکر کیجئے جس پر یہ آیت دلالت کرتی ہے.

سورۃ الحشر آیات 0 - 13

لَأَنتُمۡ أَشَدُّ رَهۡبَةٗ فِي صُدُورِهِم مِّنَ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ ١٣

حقیقی سمجھداری وعقلمندی یہ ہے کہ خالق کا خوف اس سے امید اور اس کی محبت ، دوسری تمام چیزوں پر مقدم ہو، بقیہ تمام ان کے تابع ہوں۔(السعدی:۸۵۲)
سوال: بندے کے سمجھدار ہونے کی علامت کیا ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 13

لَأَنتُمۡ أَشَدُّ رَهۡبَةٗ فِي صُدُورِهِم مِّنَ ٱللَّهِۚ

تمہاری ہیبت ان کے سینوں میں ہے کہنے کی وجہ اس بات کی طرف اشارہ مقصودہے کہ یہ ہیبت بہت مخفی ہے،یعنی وہ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں، اور اپنی شجاعت وبہادری کے دعوے بھی کرتے ہیں، تاکہ مسلمانوں پر ان کی ہیبت طاری ہو جائے، لیکن وہ اس طرح ہیں نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کی اندرونی حالت سے با خبر کردیا ۔( ابن عاشور: 28؍103)
سوال: کیوں کہا گیا کہ ہیبت ان کے سینوں میں ہے؟ اس وصف سے مسلمانوں کو کو ن سا فائدہ پہونچا؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 14

بَأۡسُهُم بَيۡنَهُمۡ شَدِيدٞۚ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيعٗا وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰۚ

قشیری نے کہا: دلوں میں نفرت واختلاف ركھتے ہوئے جسمانی طور پر یكجا ہونا تمام فساد کی جڑ ہےہرذلت ورسوائى كااصل سبب ہے، اور دشمنوں کے جری ہوجانے کی متقاضی ہے۔ اس كے بر عکس دلوں میں اتفاق کا پایا جانا، عزم وہمت میں برابر ہونا، اور مقاصد میں متفق ہونا ہر کامیابی ، اورتمام سعادت کا ذریعہ ہے۔ (البقاعی: ۱۹؍۴۵۲)
سوال: دلوں میں نفرت واختلاف کے نقصانات کیا ہیں؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 14

بَأۡسُهُم بَيۡنَهُمۡ شَدِيدٞۚ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيعٗا وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡقِلُونَ ١٤

ان کے پاس کوئی ایسا دین ہے ہی نہیں جو انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے، کیونکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ وہ باطل پر ہیں، وہ ہواپرست ہیں، اور ہوا پرستی اختلاف کی جڑ ہے، جبکہ عقل نقطہ اجتماع ہے، جس طرح ہوا پرستی نقطہ اختلاف ہے۔ (البقاعی: ۱۹؍۴۵۳)
سوال: یہود عقل کے کورے ہوتے ہیں، اسکی کیا دلیل ہے؟

سورۃ الحشر آیات 0 - 14

بَأۡسُهُم بَيۡنَهُمۡ شَدِيدٞۚ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيعٗا وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡقِلُونَ ١٤

اس آیت میں مومنوں کو تربیت دی گئی ہے کہ وہ آپسی اختلاف وقطع تعلق سے بچیں، اور انہیں معلوم رہے کہ کوئی بھی امت اپنے دشمنوں پر اس وقت تک سخت پکڑ والی نہیں ہو سکتی جب تک ان کےدل متفق نہ ہوں۔ (ابن عاشور: ۲۸؍۱۰۶)
سوال: اس آیت میں دشمنوں سے مقابلہ کیلئے اتحاد واتفاق کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہےاسے واضح کیجئے.