قرآن
ﯧ
ﱔ
ﭠ ﭡ ﭢ ﭣ ﭤ ﭥ ﭦ ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫ
ﭬ ﭭ ﭮ ﭯ ﭰ ﭱ ﭲ ﭳ ﭴ ﭵ ﭶ ﭷ ﭸ ﭹ
ﭺ ﭻ ﭼ ﭽ ﭾ ﭿ ﮀ ﮁ ﮂ ٧ ٧ ﮄ ﮅ ﮆ ﮇ
ﮈ ﮉ ﮊ ﮋ ﮌ ﮍ ﮎ ﮏ ﮐ ﮑ
ﮒ ﮓ ﮔ ﮕ ﮖ ﮗ ﮘ ﮙ ﮚ ﮛ
ﮜ ﮝ ﮞ ﮟ ﮠ ﮡ ﮢ ﮣ ﮤ ﮥ ﮦ ﮧ
ﮨ ﮩ ﮪ ﮫ ﮬ ٨ ٨ ﮮ ﮯ ﮰ ﮱ
ﯓ ﯔ ﯕ ﯖ ﯗ ﯘ ﯙ
ﯚ ﯛ ﯜ ﯝ ﯞ ﯟ ﯠ ﯡ ﯢ ٩ ٩ ﯤ
ﯥ ﯦ ﯧ ﯨ ﯩ ﯪ ﯫ ﯬ
ﯭ ﯮ ﯯ ﯰ ﯱ ﯲ ﯳ ﯴ ﯵ ١٠ ١٠ ﯷ
ﯸ ﯹ ﯺ ﯻ ﯼ ﯽ ﯾ ﯿ ﰀ ﰁ
ﰂ ﰃ ﰄ ﰅ ﰆ ﰇ ﰈ ﰉ ﰊ ﰋ ﰌ ﰍ
ﰎ ﰏ ﰐ ﰑ ﰒ ﰓ ﰔ ﰕ ﰖ ١١ ١١
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ٧
اللہ تعالىٰ نے کلام کی ابتداء علم سے کی ہے، اور انتہا بھی علم سے؛اسی لئے ابن عباس رضی اللہ عنہما، ضحاک، سفیان ثوری، اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ جمیعانے فرمایا: اللہ ان (بندوں) کے ساتھ ہے اپنے علم کے ذریعے۔( ابن تیمیہ: 6؍241)
سوال: آپ اس آیت سے کیسے استدلال کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کاقول: (هُوَ مَعَهُمْ) میں معیت سے مراد معیت بالعلم ہے، معیت بالذات نہیں ؟
وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ
یہ لوگ جب اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آتے تھے تو پست آواز میں کہتے تھے: “اَلسَّلَامُ عَلَيْکُمْ”؛ کیونکہ یہ اسلامی شعار ہے، اور اس میں سلامتى کے تمام معانی پائے جاتے ہے؛وہ اس کی جگہ: “أَنْعِمْ صَبَاحًا” (صبح بخیر) کہتے تھے، اور یہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے سلام کا طریقہ تھا، وہ اس جاہلی عادت کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔( ابن عاشور: ۲۸؍۳۱)
سوال: اس وقت ہمارے نوجوانوں میں سلام کرنے کے کئی ایک طریقے رائج ہیں، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اور سب سے افضل سلام کون سا ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ
اس آیت میں جس کشادگی کا حکم دیا گیا ہے، اس سے مراد دوسروں کے لئے مجالس میں جگہ بنانا ہے، اپنی جگہ چھوڑکر کھڑا ہو جانا مراد نہیں ہے ؛ كیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: “لا يقم أحد من مجلسه، ثم يجلس الرجل فيه، ولكن تفسحوا، وتوسعوا”، یعنی: تم میں سے کوئی شخص اپنی مجلس سے نہ اٹھے کہ وہاں کوئی دوسراشخص بیٹھے، لیکن کشادگی اختیار کرواور وسعت دو ’’۔( ابن جزی: ۲؍۴۲۲)
سوال: جس شرعی ادب کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے اس کی وضاحت کیجئے.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ
(يفسح الله لكم) یعنی: اللہ تعالىٰ تمہاری قبروں میں کشادگی دےگا، یا اللہ تعالىٰ تمہارے دلوں میں وسعت پیدا کردےگا، یا اس سے مراد: دنیا وآخرت میں اللہ تعالىٰ تمہارے لئے کشادگی پیدا کرے گا۔ (القرطبی: ۲۰؍۳۱۸)
سوال: اللہ تعالىٰ کا اپنے بندوں کے لئے کشادگی کرنے کا کیا معنی ہے؟
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ
عمل کا بدلہ اسی کی جنس سے دیاجاتا ہے، یعنی: جو دوسروں کے لئے کشادگی اختیار کرےگا اللہ تعالىٰ اس کے لئے کشادگی اختیار كرےگا، اور جو اپنے بھائی کو جگہ دےگا اللہ تعالىٰ اسے جگہ دےگا۔ (السعدی: ۸۴۶)
سوال: اس آیت کی روشنی میں عمل کی جنس سے بدلہ دینے کے قاعدے (الجزاء من جنس العمل) کی وضاحت کیجئے.
يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ
یعنی تم یہ نہ سمجھو کہ، اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے لئے اس کے کہنے پر کشادگی اپناتا ہے یا اس کے حکم پر نکل جاتا ہے، تو اس میں اس کے لئے ذلت و رسوائی ہے، بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلندی اور رفعت شان ہے۔ (ابن کثیر: ۴؍۳۲۶)
سوال: کیا تمہارا اپنے بھائی کو کسی مجلس میں جگہ دینا تمہاری حق تلفی ہے؟
يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ
آیت میں وارد (العلم) کا لام استغراقیہ نہیں ہے، بلکہ عہدیہ ہے، یعنی: وہ علم جس کے ساتھ اللہ تعالىٰ نے اپنے نبی کو مبعوث فرمایا، اور جب صحابہ کرام کو یہ علم عطا کیا گیا تو ان کی اتباع کرنا واجب ٹھہرا۔ (ابن قیم: ۳؍۱۴۳)
سوال: یہ آیت علماء کرام کی اتباع کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے، اسکی وضاحت کرو.