قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے



١٩ ١٩



ﭿ
٢٠ ٢٠



٢١ ٢١


٢٢ ٢٢


٢٣ ٢٣

ﯿ ٢٤ ٢٤
540
سورۃ الحديد آیات 0 - 20

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ

اوردنیا داروں کے یہاں واقعی یہ چیز موجود ہے ۔ اس کے بر خلاف جنہیں دنیا اور اس کی حقیقت کی معرفت ہے وہ دنیا کو صرف ایک گزرگاہ سمجھتے ہیں ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں سو انہوں نے اللہ سے قریب کرنے والی چیزوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کی اور ان وسائل کو اختیار کیا جو انہیں اللہ تک پہنچا سکیں۔(السعدی:۸۴۱)
سوال:جب آپ دنیا کی حالت جان گئے تو آپ کا دنیاکی بابت کیا موقف ہوناچاہئے ؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 20

ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ

آیت میں لوگوں کی زندگی کے مراحل بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہر کوئی کس طرح مرحلہ وار ترقی کرتا ہے :تو کھیل بچپن اورلڑکپن کا مرحلہ ہے۔لہو نوخیزی کا مرحلہ ہے ، زینت پختہ جوانی کا مرحلہ ہے اور فخر کرنا ادھیڑعمر کا مرحلہ ہے اور زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا بڑھاپے کامرحلہ ہے۔(ابن عاشور:۲۷؍۴۰۱)
سوال:آیت میں لوگوں کے مراحل کا ذکر ہے اسے بیان کیجئے ؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 20

وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ

آخرت کی صورت حال میں دوباتوں میں سے ایک بات ضرورہوگی یا جہنم کا سخت عذاب ہوگا ۔یا اللہ کی طرف سے گناہوں کی مغفرت ، سزاؤں کی منسوخی اور اللہ کی خوشنودی اس کو حاصل ہوتی ہے جس کو دار رضوان مل گیا ۔ یہ تمام چیزیں دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کا شوق دلاتی ہیں۔(السعدی:۸۴۱)
سوال:یہ جاننے کے بعد کہ آخرت یا توعذاب کانام ہے یا مغفرت کا ،دنیا کے تعلق سے آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے ؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 20

وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ ٢٠

سعید بن جبیر فرماتے ہیں (دنیا) دھوکے کا سامان اس کے لئے ہے جو دنیا کے اندر آخرت کی طلب میں مشغول نہیں رہا لیکن جو آخرت کی طلب میں دنیا میں مشغول رہا اس کے لئے یہ مصروفیت اس سے بہترین چیز تک پہچانے کا سامان ہے ۔(البغوی:۴؍۳۲۸)
سوال: کیا دنیا ساری مخلوق کے لئے دھوکے کا سامان ہے؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 23

لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ ٢٣

یعنی ہم نے تمہیں صاف بتا دیا کہ چیزیں مخلوق کے وجود سے پہلے ہی طے شدہ اور لکھی ہوئی ہیں اور جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ ہوکے رہے گا یہ بات اس لئے بتا دیا کہ اگر کوئی چیز کھو جائے تو تمہیں اس کا غم نہ ہو کیونکہ کھو نا طے تھا اور اس لئے کہ جس چیز کی امید نہیں ہوتی اس پر تکلیف بھی کم ہوتی ہے ۔ اوراس لئے بھی بتا دیا تاکہ جو کچھ تمہیں ملا ہے اس پر ایسا نہ ہو کہ پھولے نہ سماؤکیونکہ جب تمہیں یہ یقین رہے گا کہ جو بھی رزق اور بھلائی مقدر ہے مل کے رہے گی تو تمہاری خوشی کم ہوجائے گی ۔(الشنقیطی:۲۷؍۵۴۹)
سوال : مخلوق کے وجود سے قبل چیزیں لکھی ہوئی تھیں یہ جاننے سے کیا فائدہ ہے اس کی وضاحت کیجئے ؟

سورۃ الحديد آیات 0 - 23

لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ ٢٣

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بھلی چیز پر خوشی اور بری چیز پر غم انسان کے بس میں نہیں ہے کہ اسے کنٹرول کرے۔ جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سارا مال آیا تو آپ نے فرمایاالٰہی جو تونے ہمیں یہ زینت دنیا عطا فرمائی ہے اس کی خوشی کو ضبط کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں خوشی سے روکنے سے مراد وہ خوشی ہے جو کبر اور سرکشی تک پہنچائے اور غم سے مراد وہ غم ہے جس سے آدمی صبر و تسلیم سے باہر ہوجائے۔(ابن جزی:۲؍۴۱۵)
سوال:کچھ کھو جائے تو اس پر غم اور کچھ ملے تو اس پر خوشی سے آیت میں روکا گیا ہے ۔ بتائیے کہ روکنے سے کیا مقصود ہے؟

سورۃ الحديد آیات 23 - 24

وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ ٢٣ ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِۗ

دین و دنیا کے لئے جو بھی چیز مفید ہو علم، مال وغیرہ بخل سب کو شامل ہے علم کا بخیل وہ ہے جو اسے روکے۔ مختال وہ ہے جو اکڑ کے سبب اسے طلب ہی نہ کرے یا اکڑ کے سبب اسےخرچ نہ کرےاور ایسابہت ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس طلب علم میں تواضع ہے اور علم بانٹنے میں سخاوت کا مظاہر ہ ہے ۔(ابن تیمیہ:۶؍۲۱۷)
سوال: بخیلی غیر محسوس طریقے سے بہت سے لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کی وضاحت کریں؟