قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٥١ ٥١ ٥٢ ٥٢
٥٣ ٥٣
٥٤ ٥٤
٥٥ ٥٥
٥٦ ٥٦
٥٧ ٥٧
٥٨ ٥٨
٥٩ ٥٩
ﭿ ٦٠ ٦٠
٦١ ٦١

٦٢ ٦٢

٦٣ ٦٣
٦٤ ٦٤
٦٥ ٦٥
٦٦ ٦٦
٦٧ ٦٧
٦٨ ٦٨
٦٩ ٦٩

٧٠ ٧٠
٧١ ٧١
٧٢ ٧٢

٧٣ ٧٣
٧٤ ٧٤
ﯿ ٧٥ ٧٥
٧٦ ٧٦
536
سورۃ الواقعہ آیات 0 - 60

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ ٦٠

یعنی ایک معین مقدار ہر ایک کے لئے واجب ہے جس سے کوئی بھی تجاوز نہیں کر سکتا۔ سو کسی کی عمر ہم کم کردیتے ہیں حالانکہ بدن کی طاقت اور مزاج کی صحت میں وہ جوانی پر ہوتا ہے اور کسی کی عمر ہم لمبی کردیتے ہیں حالانکہ ضعف بدن اور طبیعت کی خرابی سے وہ نڈھال ہوتاہے ۔
اور تم سب اس بات کے اقراری ہو کہ اللہ نے اپنے افعال کی ترتیب، حکمت بالغہ، قدرت،اور کمال کے تقاضے پر قائم رکھی ہے۔(البقاعی:۱۹؍۲۲۱)
سوال : (نحن قدرنا بينكم الموت) کا کیامعنی ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 62

وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ ٦٢

اللہ تعالیٰ اپنے فرمان (فلولا تذكرون) میں یہ کہہ رہا ہے کہ : اے لوگو! بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے جبکہ تم یہ جانتے ہو کہ وہ ذات جس نے تمہیں جب کچھ نہ تھے تو پہلی دفعہ پیدا فرمایا۔اب بھلااس کے لئے یہ بات کیوں مشکل ہوگئی کہ تمہاری موت اور تمہارے فنا ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرسکے۔ (الطبری:۲۳؍۱۳۸)
سوال: اللہ تعالیٰ نے پہلی پیدائش اور نصیحت کو ملا کر کیوں بیان فرمایا؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 64

ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّٰرِعُونَ ٦٤

یہ آیت دو معاملات پر مشتمل ہے ان میں سے ایک چیز ہے ان پر یہ احسان جتلانا کہ اللہ نے ان کی کھیتی لگائی اور انہوں نے اس کے ذریعہ زندگی گزاری۔ ایسا اس لئے کیا تاکہ وہ خود پر اللہ کی نعمت کا شکر یہ ادا کریں۔
دوسری چیز اعتبار کو قطعی بنادینے والی دلیل ہے ۔ وہ اس طرح کہ دانوں کے بکھرجانے کے بعد انہیں کائی اور پھپھوند کی صورت سے اٹھا کرکھڑے پودوں کی صورت بخشی تا آنکہ وہ ہری فصل میں تبدیل ہوگئی پھر پہلی صورت کے مقابلے اسے پختہ اور مضبوط کردیا۔ سو جو مر گیا ہے اسے دوبارہ پیدا کرنا تو اور آسان ہے۔ اس میں فطرت سلیمہ رکھنے والوں کے لئے اطمینان بخش دلیل ہے۔(القرطبی:2؍211)
سوال: مختصر انداز میں کھیتی اگانے کے سلسلے میں اللہ کے احسان کا ذکر کیجئے ؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 68

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ٦٨

پانی کے منافع اور فوائد کی کثرت کے باوجود اللہ نےصر ف پینے کا فائدہ ذکر کیا اس لئے کہ ہر چیز کے فائدے سے پانی پینے کا فائدہ زیادہ اور اہم ترین ہے۔(الشوکانی:5؍158)
سوال: پانی کے بہتیرے فوائد کے باوجود آیت میں صرف پینے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 68 - 69

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ ٦٨ ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ ٦٩

اللہ کا یہ قول (أأنتم أنزلتموه من المزن) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زمین کے اندر ٹھہرا ہوا پانی جو چشموں ،کنوؤں وغیرہ کی صورت میں نکل رہا ہے ان سب کی اصل یہ ہے کہ ساراپانی بادلوں سے ناز ل ہوا ہے اور اللہ نے اسے زمین میں اپنی مخلوق کے لئے ذخیرہ کررکھا ہے۔(الشنقیطی:۷؍۵۳۴)
سوال: کنوئیں اور چشمے وغیرہ سے نکلنے والے پانی جو زمین کے اندر موجود ہیں وہ اصلاً کہاں سے آتے ہیں؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 73

نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ ٧٣

(المقوين) معنی ہے ‘‘المسافرين’’ یعنی سفر کرنے والے۔
اللہ نے مسافر وں کا ذکر بطور خاص کیاہے کیونکہ دوسروں کے مقابلے اس کا فائدہ مسافروں کے حق میں عظیم تر ہے اور ممکن ہے اس کا سبب یہ ہو کہ دنیا کل کی کل سفر کا مقام ہے بندہ پیدائش سے ہی اپنے رب کی طرف مسافر ہوتاہے۔(السعدی:835-836)
سوال:آگ سے فائدہ حاصل کرنے میں مسافر کا خصوصی ذکر کیوں ہوا؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 74

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ ٧٤

نعمتوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ کی تعظیم و تنزیہہ دراصل اللہ کی مدح کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ چیز حقیقت میں نعمت دینے والے کا شکر ہے۔( الألوسی :۱۴؍۱۵۰)
سوال: نعمتوں کے بیان کے بعد تسبیح کاحکم کس چیز پر دلالت کرتا ہے ؟