قرآن

کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے
کوئی نتائج نہیں ملے

٧٠ ٧٠
٧١ ٧١
٧٢ ٧٢
٧٣ ٧٣
٧٤ ٧٤
٧٥ ٧٥

٧٦ ٧٦
٧٧ ٧٧
ﭿ ٧٨ ٧٨
Surah Header

ﭦﭛﭣﭤ
١ ١ ٢ ٢
٣ ٣
٤ ٤ ٥ ٥
٦ ٦
٧ ٧
٨ ٨

٩ ٩
١٠ ١٠ ١١ ١١
١٢ ١٢
١٣ ١٣
١٤ ١٤
١٥ ١٥ ١٦ ١٦
534
سورۃ الرحمن آیات 0 - 72

حُورٞ مَّقۡصُورَٰتٞ فِي ٱلۡخِيَامِ ٧٢

الحور: الحَوراء کی جمع ہے: (نہایت گوری) اور مَقْصُوْرٰت کا مطلب ہے باپردہ ، کیونکہ گھروں میں رہنے والی باپردہ خواتین قابل تعریف ہوتی ہیں، اور جو گھروں سے بکثرت نکلتی ہیں وہ لائق مذمت ہیں۔ (ابن جزی:2؍397)
سوال: کس طرح یہ آیت خواتین کو گھروں میں رہنے پر ابھارتی ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 1

إِذَا وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ١

(واقعہ قیامت کا ایک نام ہے) اور قیامت کو (واقعہ) کا نام اس لئے دیاگیا ہے کہ وہ قطعی طور سے واقع ہونے والی ہے، یا اس کے عنقریب واقع ہونے کی وجہ سے ، یا اس میں بہت زیادہ مشکلات واقع ہونے کی وجہ سے۔ (الشوکانی:5؍147)
سوال: روز قیامت کو واقعہ کا نام کیوں دیا گیا ؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 3

خَافِضَةٞ رَّافِعَةٌ ٣

(قیامت) کچھ لوگوں کو جہنم میں نیچے ڈالے گی اور دوسروں کو جنت میں بلند کرے گی، ابن عباس فرماتے ہیں کہ: جو دنیا میں بلند مرتبہ والے تھے ان کو نیچے کرےگی،اور جو دنیا میں کمزور تھے ان کو اونچا کرے گی۔(البغوی:4؍301)
سوال: قیامت کے دن اوپر نیچے کرنا کس طرح ہوگا؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 10

وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ١٠

جس نے دنیا میں اچھے کام میں مقابلہ کیا اور اس میں آگے بڑھ گیا تو وہ آخرت میں نوازش (الٰہی) کی طرف آگے بڑھنے والوں میں ہوگا، کیونکہ کام کا بدلہ کام کے اعتبار سے ہوتا ہے، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ (ابن کثیر:4؍285)
سوال: مذکورہ لوگ کیوں آخرت میں سابقین میں سےکیوں ہوں گے؟

سورۃ الواقعہ آیات 13 - 14

ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٣ وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ ١٤

(ثلة من الأولين) یعنی بہت بڑی جماعت اس امت کے اگلوں میں سے اور ان کے علاوہ میں سے(وقليل من الآخرين). (اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے) یہ اس امت کے اولین لوگوں کی عمومی فضیلت پر دلالت کرتی ہے ان کے مقابل جو بعدوالے ہیں، کیونکہ پہلے لوگوں میں مقربین کی تعداد بعد والوں کے بہ نسبت زیادہ ہے، مقربین بہت خاص لوگ ہوتے ہیں۔ (السعدی: 833)
سوال: یہ دونوں آیتیں فضیلت یافتہ صدی والوں (صحابہ، تابعین، اتباع تابعین) کی فضیلت پر کیسے دلالت کرتی ہیں؟ وجہ استدلال واضح کیجئے

سورۃ الواقعہ آیات 15 - 16

عَلَىٰ سُرُرٖ مَّوۡضُونَةٖ ١٥ مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ ١٦

جب لوگوں کی بہت زیادہ تعداد اکٹھا ہوجاتی ہے تو بعض لوگوں کی پیٹھ بعض کی طرف ہوتی ہے، (جب عموما ایسا ہی ہوتا ہے اس لئے) اللہ نے یہ خبر دی کہ جنت والوں کا اکٹھا ہونا اس کے برخلاف ہےچنانچہ فرمایا: (متقابلين) وہ آمنے سامنے ہوں گے نہ دوری ہوگی نہ ایک دوسرے کےپیچھے ہوں گےنہ کوئی کسی کے سر کے پچھلے حصے (گدی) کو دیکھے گا۔ اور نہ ہی ایک دوسرے سے نفرت کریں گے۔ (البقاعی:19؍203)
سوال: (متقابلين) کس چیز پر دلالت کرتی ہے؟

سورۃ الواقعہ آیات 0 - 16

مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ ١٦

ہر ایک کا چہرہ اس کے ساتھی کی طرف ہوگا، ایسا دلوں کی صفائی، حسن اخلاق اور دلوں کا ایک دوسرے کو قبول کرنے کی وجہ سے ہوگا۔ (السعدی: 833)
سوال: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جنت والوں کے دل صاف ستھرے ہوں گے، اور ان کے دلوں سے بغض اور کینہ نکال دیا جائے گا، اس کی وضاحت کیجئے؟